کانگریس کا تین جہدکاروں پر انحصار، وجئے روپانی کا دعویٰ

 

راجکوٹ ؍ احمدآباد 20 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) چیف منسٹر گجرات وجئے روپانی جنھوں نے آئندہ ماہ کے چناؤ کے لئے اپنی نامزدگی داخل کردی، آج اُنھوں نے کانگریس پر حملہ کرتے ہوئے کہاکہ اپوزیشن پارٹی کو ’’آؤٹ سورسنگ‘‘ پر مجبور ہونا پڑرہا ہے کیونکہ ریاست میں اُس کے پاس اپنا کوئی لیڈر نہیں اور وہ تین نمایاں جہدکاروں پر انحصار کررہی ہے۔ ’’گجرات کے سپوت‘‘ نریندر مودی مرکزی حکومت کی باگ ڈور سنبھالے ہوئے ہیں اور ریاست بی جے پی حکمرانی میں نئی بلندیوں کو چھو رہی ہے، اِن الفاظ کے ساتھ وجئے نے یہاں اجتماع سے خطاب میں کہاکہ ہمیں یقینی بنانا پڑے گا کہ ہماری عزت نفس کو نقصان نہ پہونچے۔ بی جے پی لیڈر نے مرکزی وزیر فینانس ارون جیٹلی کے ہمراہ اپنا پرچہ نامزدگی اسمبلی نشست راجکوٹ (ویسٹ) کے لئے دوپہر 12:39 بجے داخل کیا جسے پارٹی قائدین نے ’’وجئے مہورت‘‘ قرار دیا ہے۔ وجئے اِس حلقہ سے موجودہ ایم ایل اے ہیں جہاں رائے دہی پہلے مرحلہ میں 9 ڈسمبر کو ہوگی۔ 182 رکنی گجرات اسمبلی کے لئے الیکشن دو مرحلوں میں ہوگا جس کا آخری مرحلہ 14 ڈسمبر کو ہونے کے بعد ووٹوں کی گنتی 18 ڈسمبر کو کی جائے گی۔ دریں اثناء برسر اقتدار بی جے پی نے اسمبلی چناؤ کے لئے 28 امیدواروں کی اپنی تیسری فہرست جاری کردی جس کے ذریعہ سابق وزیر سورب پٹیل اور سابق ریاستی پارٹی سربراہ آر سی فالدو کو پارٹی ٹکٹ دیئے گئے ہیں۔ تیسری فہرست میں پارٹی نے 16 موجودہ ایم ایل ایز بشمول 3 وزراء کو حذف کردیا اور 10 لیجسلیچرس کو ٹکٹ دیئے ہیں۔ جن وزراء کو پارٹی ٹکٹ نہیں ملے وہ جینتی کواڈیا، ولبھ وگھاسیا اور نانو ونانی ہیں۔ پارلیمانی سکریٹری جیٹھا سولنکی کو بھی پارٹی ٹکٹ نہیں دیا گیا ہے۔ سولنکی نے دو روز قبل ایم ایل اے کی حیثیت سے اور پارٹی کے تمام عہدوں سے مستعفی ہوتے ہوئے یہ الزام عائد کیا تھا کہ بی جے پی زیرقیادت ریاستی حکومت میں دلتوں کو مظالم کا سامنا ہورہا ہے۔

TOPPOPULARRECENT