Monday , November 20 2017
Home / شہر کی خبریں / کانگریس کا سروے ، چونکا دینے والے اشارے

کانگریس کا سروے ، چونکا دینے والے اشارے

تلنگانہ میں ٹی آر ایس 28 تا 42 حلقوں تک محدود رہنے کی پیش قیاسی
حیدرآباد ۔ 14 ۔ ستمبر : ( سیاست نیوز ) : آل انڈیا کانگریس کمیٹی کی جانب سے ملک بھر میں کرائے گئے سروے میں تلنگانہ میں کانگریس کو 70 تا 80 اسمبلی حلقوں میں کامیابی ملنے کی پیش قیاسی ہوئی ہے ۔ ٹی آر ایس 28 سے 42 حلقوں تک محدود رہے گی جب کہ تلگو دیشم کو 5 اور بی جے پی کو 2 حلقوں پر کامیابی حاصل ہوسکتی ہے ۔ حکمران ٹی آر ایس کا تیسرا سروے جہاں پارٹی کے لیے نقصان دہ ثابت ہونے کا اشارہ دیا ہے ۔ وہی کانگریس کا سروے بھی ٹی آر ایس کے لیے چونکا دینے والا ثابت ہورہا ہے ۔ اے آئی سی سی نے تلنگانہ کانگریس کا تعاون حاصل کیے بغیر راہول گاندھی کی ٹیم اور سروے کرنے والی ایجنسیوں کی خدمات حاصل کرتے ہوئے ملک بھر میں ابھی انتخابات ہونے پر کانگریس کا موقف کیا ہوگا اس کا جائزہ لینے کے لیے سروے کرایا ۔ پڑوسی ریاست کرناٹک کے ایک کانگریس قائد نے اس سروے کی نگرانی کی ہے ۔ سارے ملک میں بی جے پی کا گراف گھٹنے اور کانگریس کا موقف مستحکم ہونے کے بھی اشارے ملے ہیں ۔ کانگریس کے باوثوق ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ اگر ابھی تلنگانہ میں عام انتخابات کرائے جاتے ہیں تو کانگریس پارٹی آسانی سے 36 اسمبلی حلقوں پر کامیابی حاصل کرے گی ۔ تھوڑی محنت کرنے پر مزید 27 حلقوں میں کانگریس کو کامیابی حاصل ہوسکتی ہے ۔ زیادہ محنت کرنے پر اور 17 اسمبلی حلقے کانگریس کی جھولی میں پڑ سکتے ہیں ۔ امیدوار کے تعلق کے بغیر تلنگانہ میں تین ایسے حلقے ہیں جہاں کانگریس کو صرف پارٹی کے نام امیدوار کامیاب ہوسکتے ہیں ۔ کم از کم 70 اسمبلی حلقوں پر کانگریس امیدوار کامیاب ہوسکتے ہیں ۔ مستقبل میں حالت مزید بدتر ہوتے ہیں تو کانگریس پارٹی 80 سے زائد اسمبلی حلقوں پر بھی کامیابی حاصل کرسکتی ہے ۔ ٹی آر ایس حکومت کے چند سخت فیصلوں سے عوام میں ناراضگی پائی جاتی ہے جس کا راست فائدہ کانگریس کو ہوتا نظر آتا ہے کیوں کہ تلنگانہ میں ٹی آر ایس کی متبادل کانگریس ہی ہے ۔ کانگریس کے سروے میں حکمران ٹی آر ایس کو آسانی سے 28 اسمبلی حلقوں پر کامیابی حاصل ہونے کے اشارے ملے ہیں۔ تھوری محنت پر 16 مزید زیادہ محنت کرنے پر مزید 16 حلقوں پر بھی کامیابی حاصل ہوتی ہے ۔ تھوڑی اور زیادہ محنت کے معاملے میں راست مقابلہ کانگریس اور ٹی آر ایس کے درمیان رہے گا ۔ مگر مخالف حکومت لہر سے کانگریس کو فائدہ ہونے کے زیادہ امکانات روشن ہیں ۔ امیدواروں کے تعلق کے بغیر 6 ایسے حلقے ہیں جہاں ٹی آر ایس کے نام پر امیدوار کامیاب ہوں گے ۔ 2014 کے عام انتخابات میں تلگو دیشم اور بی جے پی نے ایک دوسرے سے سیاسی اتحاد کرتے ہوئے مقابلہ کیا تھا ۔ اس مرتبہ دونوں جماعتوں نے تنہا مقابلہ کرنے کا اعلان کیا ہے ۔ جس کے پیش نظر تلگو دیشم کو 5 اور بی جے پی کو 2 اسمبلی حلقوں پر کامیابی حاصل ہونے کے امکانات ہیں حیدرآباد سنٹرل میں کانگریس کو بہتر موقف حاصل ہونے کے بھی سروے میں اشارے ملے ہیں ۔۔

TOPPOPULARRECENT