Monday , December 18 2017
Home / Top Stories / کانگریس کا مقابلہ کرنے ٹی ڈی پی ۔ ٹی ٓر ایس اتحاد؟

کانگریس کا مقابلہ کرنے ٹی ڈی پی ۔ ٹی ٓر ایس اتحاد؟

2019

انتخابات

حیدرآباد۔5اکٹوبر(سیاست نیوز) تلنگانہ میں ریڈی طبقہ کی جانب سے تلنگانہ راشٹر سمیتی کے خلاف جاری منصوبہ بندی اور حکمت عملی سے خود کو بچانے اور تلنگانہ راشٹر سمیتی ریاست تلنگانہ میں اپنے اقتدار کو محفوظ رکھنے کیلئے تلگو دیشم پارٹی سے انتخابی مفاہمت کرے گی! ریاست تلنگانہ میں حکومت کے خلاف جاری تحریکوں کو ریڈی زیر اثر تحریک قرار دینے کی کوششوں کے متعلق کہا جا رہا ہے کہ ریاست تلنگانہ میں کے چندر شیکھر اپنے اقتدار کی برقراری کے لئے تلگو دیشم پارٹی کے ساتھ انتخابی مفاہمت کر سکتے ہیں اور ریاست میں مخالف کانگریس اتحاد کی تشکیل کے لئے کوششیں شروع کی جا چکی ہیں۔ چیف منسٹر تلنگانہ مسٹرکے چندر شیکھر راؤ کے حالیہ دورۂ آندھرا پردیش اور پریٹالہ روی کے فرزند کی شادی میں شرکت کے بعد یہ قیاس ٓٓآرائیاں کی جانے لگی ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ ٹی آر ایس حکومت کی گھٹتی مقبولیت اور موجودہ صورتحال میں کانگریس کو حاصل ہونے والی مقبولیت کے علاوہ حکومت کے خلاف پروفیسر کودنڈا رام ریڈی کی جانب سے شروع کردہ تحریک سے ریاستی حکومت اور تلنگانہ راشٹر سمیتی خوفزدہ ہے اور آئندہ انتخابات کے دوران ان تحریکات کے سبب پارٹی کو منفی نتائج کا خدشہ ہونے لگا ہے۔ سینئر تلگو دیشم قائد مسٹر ایم نرسمہلو نے کانگریس سے کسی بھی طرح کی انتخابی مفاہمت کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ تلنگانہ میں تلگو دیشم پارٹی مخالف کانگریس اتحاد کی تشکیل کیلئے کسی اور سیاسی جماعت سے اتحاد کر سکتی ہے لیکن کانگریس سے اتحاد کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ انہوںنے تلنگانہ میں تلنگانہ راشٹر سمیتی کے ساتھ اتحاد کے متعلق سوال کو نظر انداز کرنے کی کوشش کی لیکن اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ ریاست میں کانگریس کے سواء تلگو دیشم پارٹی کسی بھی سیاسی جماعت سے اتحاد کر سکتی ہے۔ باوثوق ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے مطابق ریاست آندھرا پردیش کے دورہ کے دوران مسٹر کے چندر شیکھر راؤ جو کہ اپنے کابینی وزیر مسٹر ٹی ناگیشور راؤ کے ہمراہ تھے نے اس سلسلہ میں بالواسطہ طور پر گفتگو بھی کی ہے اور آندھراپردیش میں تلگو دیشم پارٹی کے فلیکس اور بیانرس پر مسٹر کے چندرشیکھر راؤ کی تصاویر کی موجودگی کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔سیاسی حلقو ںکا ماننا ہے کہ ریاست تلنگانہ میں مسٹر کے چندر شیکھر راؤ کی مقبولیت میں گراوٹ ریکارڈ کی جا رہی ہے اور تحریک تلنگانہ کے دوران کلیدی کردار ادا کرنے والے پروفیسر کودنڈا رام ریڈی کے علاوہ کیپٹن اتم کمار ریڈی کی قیادت میں حکومت کی ناکامیوں اور انتخابی وعدوں کو پورا نہ کئے جانے کے خلاف شروع کی گئی تحریک کے سبب صورتحال تیزی سے تبدیل ہوتی جا رہی ہے ۔ حکومت کی جانب سے پروفیسرکودنڈا رام اور کانگریس کی جانب سے جاری احتجاجی مظاہروں اور تحریک کو ’’ریڈی‘‘ سازش قرار دینے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے اور اس سازش کے خلاف مخالف کانگریس محاذ کی تشکیل کے ذریعہ دلت طبقات کو متحد کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ علحدہ ریاست تلنگانہ میں تلگودیشم پارٹی کا رائے دہندوں پر مثبت اثر ہے اور تلگودیشم پارٹی کے ارکان اسمبلی کی تعداد میں کمی کی بنیادی وجہ منتخبہ ارکان اسمبلی کی برسراقتدار جماعت میں شمولیت ہے ۔ ارکان اسمبلی کی ٹی آر ایس میں شمولیت کے باجود بھی یہ کہا جار ہا ہے کہ ریاست تلنگانہ میں تلگو دیشم کے رائے دہندوں کو متزلزل نہیں کیا جا سکا ہے اسی لئے تلنگانہ راشٹر سمیتی کانگریس کے خلاف مضبوط محاذ کے لئے تلگودیشم پارٹی سے اتحاد کے متعلق غور کر رہی ہے۔

TOPPOPULARRECENT