Sunday , June 24 2018
Home / سیاسیات / کانگریس کسی ایک فرد کی بات نہیں کرتی

کانگریس کسی ایک فرد کی بات نہیں کرتی

اودھار بوند (آسام) 9 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) بی جے پی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے راہول گاندھی نے آج کہاکہ کانگریس عوام پر مبنی پارٹی ہے۔ بی جے پی کے برعکس جو صرف ایک فرد کے اطراف گھومتی ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ بی جے پی کے برعکس ہم نے یہ کبھی نہیں کہاکہ کوئی شخص وزیراعظم بنے گا جو آپ کے تمام مسائل حل کردے گا۔ ہمارے لئے سیاست عوام پر مبنی ہ

اودھار بوند (آسام) 9 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) بی جے پی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے راہول گاندھی نے آج کہاکہ کانگریس عوام پر مبنی پارٹی ہے۔ بی جے پی کے برعکس جو صرف ایک فرد کے اطراف گھومتی ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ بی جے پی کے برعکس ہم نے یہ کبھی نہیں کہاکہ کوئی شخص وزیراعظم بنے گا جو آپ کے تمام مسائل حل کردے گا۔ ہمارے لئے سیاست عوام پر مبنی ہے۔ اقتدار عوام کے ہاتھوں میں ہی ہونا چاہئے۔ وہ اودھار بوند میں ایک انتخابی جلسہ سے خطاب کررہے تھے۔ اُنھوں نے کہاکہ کسی کو بھی ’’چوکیدار‘‘ کیوں ہونا چاہئے جیسا کہ وہ (بی جے پی) چاہتی ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ آپ کو خود اپنے چوکیدار بننا چاہئے۔ ملک کے چوکیدار بننا چاہئے۔ ہندوستان کی شبیہ کسی ایک ہاتھ میں نہیں بلکہ سب کے ہاتھ میں ہونا چاہئے۔ کانگریس قائد ریاست آسام کے تیسرے انتخابی دورے پر ہیں۔ اُنھوں نے بی جے پی پر الزام عائد کیاکہ وہ ملک گیر سطح پر گجرات کی ترقی کے نمونے کو مسلط کرنا چاہتی ہے۔ آسام کو گجرات کا نمونہ نہیں چاہئے، یہاں آسام کا نمونہ ہونا چاہئے۔ ہر ریاست کو اپنے طور پر مثالی ریاست بننا چاہئے۔

گجرات میں غریب آدمی خواب بھی نہیں دیکھ سکتا۔ صرف امیر آدمی کانگریس کے بارے میں خواب دیکھتے ہیں۔ ہر شخص کو خواب دیکھنے کا حق ہے۔ غریب، مزدور، کاشتکار اِن سب کو یہ خواب دیکھنے کا حق ہے کہ اُن کے بچوں کو بہتر تعلیم اور روزگار کے مواقع حاصل ہوں گے۔ اُنھوں نے کہاکہ اپوزیشن خواتین کو بااختیار بنانے اور اُنھیں تحفظ فراہم کرنے کی بات کرتی ہے لیکن اُنھیں ایسا کرنے سے کس نے روکا ہے۔ یہی اپوزیشن تھی جس نے پارلیمنٹ میں خواتین تحفظات بِل کی منظوری روک دی جس کے تحت خواتین کو 33 فیصد تحفظات فراہم کئے جارہے تھے۔ سونیا گاندھی نے بی جے پی کو گجرات فسادات کا ذمہ دار قرار دیا۔ اُنھوں نے کہاکہ عورتوں کے فون ٹائپ کئے جاتے ہیں۔ یوپی اور بہار کے عوام کے خلاف مہاراشٹرا میں تشدد برپا کیا جاتا ہے۔ بنگلورو میں خواتین کے لئے اخلاقی پولیس تشکیل دی گئی ہے جبکہ اِن کے قائدین ریاستی اسمبلیوں میں فحش فلمیں دیکھتے ہیں ۔

TOPPOPULARRECENT