Thursday , November 15 2018
Home / Top Stories / کانگریس کسی بھی وقت انتخابات کیلئے تیار، لوک سبھا کی تحلیل کیلئے وزیراعظم کو چیلنج

کانگریس کسی بھی وقت انتخابات کیلئے تیار، لوک سبھا کی تحلیل کیلئے وزیراعظم کو چیلنج

چار اسمبلیوں کے ساتھ پارلیمانی انتخابات کے انعقاد کا مطالبہ، بی جے پی امکانی شکست سے خوفزدہ : اشوک گہلوٹ
نئی دہلی۔ 14 اگست (سیاست ڈاٹ کام) ملک میں بیک وقت پارلیمانی اسمبلیوں کے انتخابات کے انعقاد کے موضوع پر جاری بحث کے دوران کانگریس نے وزیراعظم نریندر مودی کو لوک سبھا کو قبل از وقت تحلیل کرتے ہوئے اس سال اپنی میعاد مکمل کرنے والی چار ریاستی اسمبلیوں کے ساتھ انتخابات منعقد کروانے کیلئے چیلنج کیا ہے۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری گہلوٹ نے کہا کہ اواخر سال ہونے والے اسمبلی انتخابات کا التواء اور 2019ء کے لوک سبھا انتخابات کے ساتھ انعقاد قانون یا دستور کے تحت ممکن نہیں ہے۔ گہلوٹ نے کہا کہ میزورم، راجستھان، چھتیس گڑھ اور مدھیہ پردیش میں ریاستی اسمبلیوں کی میعاد مکمل ہونے سے قبل انتخابات منعقد کروانا ہوگا۔ گہلوٹ نے یہاں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’بیک وقت انتخابات منعقد کروانے کا صرف ایک ہی راستہ ہے۔ وزیراعظم کو چاہئے کہ لوک سبھا تحلیل کردیں اور چار ریاستی اسمبلیوں کے ساتھ پارلیمانی انتخابات منعقد کئے جائیں‘‘۔ انہوں نے کہا کہ ’’کانگریس اس کا خیرمقدم کرے گی۔ ہم انتخابات کا کسی بھی وقت سامنا کرنے کیلئے تیار ہیں‘‘۔ گہلوٹ کے ان تبصروں سے ایک دن قبل بی جے پی کے صدر امیت شاہ نے 2019ء میں لوک سبھا انتخابات کے ساتھ ان چار ریاستوں کے بشمول 12 ریاستوں کے انتخابات منعقد کروانے کی تجویز پیش کی تھی۔ راجستھان کے سابق چیف منسٹر اشوک گہلوٹ نے کہا کہ دھمکیوں، خوف اور عدم رواداری کے موجودہ ماحول کے پیش نظر مقررہ وقت سے قبل لوک سبھا انتخابات کا نہ صرف خیرمقدم کرے گی بلکہ ہم بی جے پی سے مقابلے اور اس کا صفایا کرنے کیلئے بھی تیار ہیں‘‘۔ کانگریس نے الزام عائد کیا کہ ایک ملک ایک انتخاب کی بحث کے پیچھے بی جے پی کے ارادے صاف نہیں ہیں۔ گہلوٹ نے کہا کہ ’’اس ضمن میں پہلے دن سے ان (بی جے پی) کا اندازفکر غلط ہے۔ اگر وہ سنجیدہ ہیں تو انہیں تمام سیاسی جماعتوں کا ایک اجلاس طلب کرنا ہوگا جس میں اس تجویز پر عمل آوری کے امکانات پر غوروبحث کی جاسکتی ہے اور مسائل کا حل تلاش کیا جاسکتا ہے۔ اس مقصد کیلئے لوک سبھا کو اس کی مقررہ میعاد سے قبل تحلیل کرنا ہوگا لیکن حکومت ایسا کچھ بھی نہیں کی ہے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ ’’ایک ملک ایک انتخاب‘‘ کا نعرہ دراصل حکومت کی ناکامیوں سے عوام کی توجہ ہٹانے کیلئے ایک سیاسی شعبدہ بازی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی اب یہ منظر اس لئے بھی پیش کررہی ہے کہ وہ آنے والے اسمبلی انتخابات میں ہونے والی شکست سے خوفزدہ ہے۔ اس صورت میں وہ 2019ء میں ہونے والے لوک سبھا انتخابات کا سامنا کرنے کیلئے بھی انتہائی کمزور حالت میں ہوگی۔ کانگریس کے شعبہ قانون کے سربراہ ویویک ٹاکھانے کہا کہ آنے والے اسمبلی انتخابات کو روکنے حکومت کی کوششوں کی صورت میں ان کی پارٹی عدالت سے رجوع ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ’’دستور میں ترمیم کے بغیر ایسا نہیں کیا جاسکتا‘‘۔

TOPPOPULARRECENT