Tuesday , December 12 2017
Home / شہر کی خبریں / کانگریس کو تلگودیشم کا مشورہ نہ ماننے کی سزا

کانگریس کو تلگودیشم کا مشورہ نہ ماننے کی سزا

بی جے پی کا بھی حشر اسی طرح ہوگا، اے ریونت ریڈی کا بیان
حیدرآباد۔/15جون، ( سیاست نیوز) ریاست تلنگانہ میں تلگودیشم پارٹی کے مشورہ پر توجہ نہ دینے اور عمل نہ کرنے کی کانگریس پارٹی کو مناسب انداز میں سزا مل چکی ہے، اور اگر بی جے پی بھی تلگودیشم پارٹی کے مشورہ پر سنجیدگی سے غور نہ کرنے کی صورت میں آئندہ دنوں میں بی جے پی کا بھی یہی حشر ہوگا۔ کارگذار صدر تلنگانہ تلگودیشم پارٹی و رکن اسمبلی مسٹر اے ریونت ریڈی نے اس بات کا اظہار کیا اور کہا کہ تلگودیشم پارٹی کے ارکان اسمبلی کو تلنگانہ راشٹرا سمیتی صدر و چیف منسٹر مسٹر کے چندر شیکھر راؤ جب بھاری رقومات کے عوض خرید رہے تھے تب ہی تلنگانہ تلگودیشم پارٹی نے کانگریس پارٹی کو بھی خبردار کیا تھا۔ لیکن کانگریس پارٹی نے اس مشورہ پر توجہ نہیں دی تھی ، جس کا نتیجہ کانگریس پارٹی کو حاصل ہورہا ہے۔ مسٹر ریونت ریڈی نے تلگودیشم پارٹی کے منعقدہ ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تلنگانہ راشٹرا سمیتی کی زیر قیادت حکومت نے جب قانون ساز اسمبلی سے 15ارکان اسمبلی سے معطل کرکے باہر کردیا تھا۔ تب بھی تلگودیشم پارٹی نے کانگریس پارٹی کو ہوشیار کیا تھا اور کانگریس پارٹی پر زور دیا گیا تھا کہ چیف منسٹر مسٹر کے چندر شیکھر راؤ کے غلط اقدامات پر ایوان میں سوال اٹھائیں۔ اگر نہ اٹھانے کی صورت میں کانگریس پارٹی کیلئے اسی طرح کی صورتحال پیدا ہونے کا انتباہ بھی دیا گیا تھا۔ لیکن کانگریس پارٹی نے بالکلیہ طور پر خاموشی اختیار کررکھی تھی۔ لیکن آج یہی کانگریس پارٹی تلنگانہ حکومت کے خلاف متحدہ جدوجہد کرنے کی باتیں کررہی ہے۔ مسٹر ریونت ریڈی نے مزید کہا کہ تلنگانہ راشٹرا سمیتی کی نچلی سطح کی کی جانے والی سیاست پر بی جے پی بھی خاموشی اختیار کی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کے بعد چندر شیکھر راؤ کی آئندہ نظر بی جے پی پر ہی لگی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بہت جلد تلنگانہ میں حقیقی سیاسی صورتحال واضح ہوجائے گی۔ لہذا پارٹی قائدین اور کارکنوں کو ثابت قدمی کے ساتھ رہتے ہوئے پارٹی کو فعال و مستحکم بنانے پر اولین توجہ دینے پر زور دیا۔

TOPPOPULARRECENT