Thursday , January 17 2019

کانگریس کو شکست قبول کرنا چاہیئے: کے ٹی آر

آندھرا پردیش میں وائی ایس آر کانگریس کیلئے مہم چلانے کا فیصلہ نہیں کیا گیا
حیدرآباد۔/12 ڈسمبر، ( پی ٹی آئی) تلنگانہ راشٹرا سمیتی ( ٹی آر ایس ) نے 7 ڈسمبر کو منعقدہ اسمبلی انتخابات کے دوران الیکٹرانک ووٹنگ مشینس ( ای وی ایم ) میں ہیر پھیر کے بارے میں کانگریس کی طرف سے ظاہر کردہ شکوک و شبہات کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس پارٹی کو’’ شکست خوردہ دل جلوں‘‘ جیسا رویہ اختیار نہیں کرنا چاہیئے۔ تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر اتم کمار ریڈی نے گزشتہ روز اپنی پارٹی کی شکست کے بعد ای وی ایمس میں ہیرپھیر کے شدید شبہات کا اظہار کیا تھا۔ اس مسئلہ پر ردعمل دریافت کئے جانے پر ٹی آر ایس لیڈر کے ٹی راما راؤ نے کہا کہ بالخصوص تلنگانہ میں کانگریس کی قیادت کو یہ سمجھنے کی معمولی و عام حِس ہونی چاہیئے کہ اگر یہی ای وی ایمس چھتیس گڑھ اور راجستھان میں اچھے رہے تو پھر تلنگانہ میں کس طرح انہیں مورد الزام ٹہرایا جاسکتا ہے۔کے ٹی آر نے کہا کہ آندھرا پردیش میں وائی ایس آر کانگریس کے لئے ٹی آر ایس کی طرف سے مہم چلانے کے مسئلہ پر ہنوز کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ساری سیاسی برادری میں ہمارے دوست ہیں چنانچہ محض کسی ایک دوسروں کی سیاسی جماعت سے کوئی خصوصی طور پر دوستی نہیں کی جاسکتی۔ وہ (کوئی بھی سیاسی جماعت ) صرف اس وقت حریف بن جاتی ہے جب وہ ہمارے خلاف مقابلہ کرتے ہیں۔ جگن موہن ریڈی اور ان کی پارٹی آندھرا پردیش میں ایک سخت لڑائی میں مصروف ہے اور ہم ان کیلئے نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہیں۔ فی الحال ( تلنگانہ اسمبلی انتخابات کی صورتحال ) گرد و غبار صاف ہوجانے دیجئے۔کے آر نے الزام عائد کیا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے ریاستوں کو بااختیار بنانے کچھ نہیں کیا، وفاقیت کیلئے صرف زبانی جمع خرچ کرتے رہے ہیں۔ کے ٹی آر نے کہا کہ ریاستوں کو مزید اختیارات دلانے ٹی آر ایس دہلی میں کلیدی رول ادا کرے گی۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT