Sunday , December 17 2017
Home / اداریہ / کانگریس کو پشیمانی

کانگریس کو پشیمانی

پرانا چاہنے والا ہوں میں بھی
بھری محفل میں اب رسوا نہ کیجئے
کانگریس کو پشیمانی
کانگریس پارٹی کا شمار نہ صرف ہندوستان بلکہ دنیا کی قدیم ترین اور بڑی سیاسی جماعتوں میں ہوتا ہے۔ 2014ء کے عام انتخابات میں اسے کسی مودی یا بی جے پی لہر کے باعث شکست نہیں ہوئی بلکہ اس کی عوام دشمن پالیسیوں خاص اسکامس ، اسکینڈلس، مہنگائی اور فرقہ پرستوں کے خلاف کارروائی کرنے میں کوتاہی اس کی شکست کی وجوہات بن گئیں۔ کانگریس قیادت کو یہ اچھی طرح اندازہ تھا کہ ملک میں فرقہ پرست طاقتیں سرگرم ہوچکی ہیں اور سارے ملک میں گجرات ماڈل پر عمل کرتے ہوئے وہ مرکز میں اقتدار حاصل کرنے کی خواہاں ہیں۔ کانگریس کی زیرقیادت یو پی اے حکومت کو اپنی دو میعادوں کے دوران اس وقت کے چیف منسٹر گجرات نریندر مودی کے خلاف کارروائی کے کئی مواقع ہاتھ آئے لیکن اپنی بزدلی کے نتیجہ میں وہ مودی کے خلاف کارروائی کرنے اور اقلیتوں کی حفاظت میں ناکام رہی۔ اس کیلئے اگر خود کانگریس میں موجود کچھ فرقہ پرست ذہنوں کو ذمہ دار قرار دیا جائے تو بھی ناانصافی نہ ہوگی اس لئے کہ جدوجہد آزادی کے دوران اور آزادی کے بعد آر ایس ایس ذہنیت کے لوگ اپنے وجود کو کھادی کی کھال میں چھپا کر کانگریس میں گھس چکے تھے۔ 6 ڈسمبر 1992ء کو ایودھیا میں بابری مسجد کی شہادت بھی کانگریس میں گھس آئے ان ہی عناصر کی مجرمانہ خاموشی کا نتیجہ تھی۔ یہ ایسا گروپ ہے جو کانگریس کی پالیسیوں (داخلی خارجی پالیسیوں) کے معاملہ میں ہمیشہ مداخلت کا خواہاں رہا۔ اسی گروپ کے نتیجہ میں کانگریس قیادت کو متعدد مرتبہ پشیمانی کا سامنا کرنا پڑا۔ ایسے ہی گروپ کے باعث اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم ہوئے اسی گروپ نے پارٹی کے 131 ویں یوم تاسیس کے موقع پر پارٹی ممبئی سٹی کے ترجمان حریدہ ’’کانگریس درشن‘‘ کے نکالے گئے خصوصی ایڈیشن میں ملک کے پہلے وزیراعظم پنڈت جواہر لال نہرو کو ایک ویلن اور سردار ولبھ بھائی پٹیل کو ہیرو کی طرح پیش کیا ۔ اس ایڈیشن میں پنڈت جواہر لال نہرو کو کشمیر ۔ چین اور تبت کے مسائل کیلئے ذمہ دار قرار دیتے ہوئے لکھا گیا کہ پنڈت جواہر لال نہرو کی غلط پالیسیوں کے باعث ہی مسئلہ کشمیر ہندوستان کیلئے گلے کی ہڈی بن گیا ہے۔ ان کی غلط فیصلوں کے نتیجہ میں ہی چین کے ساتھ سرحدی تنازعات کا نہ تھمنے والا سلسلہ شروع ہوا۔ تبت کا مسئلہ بھی ان ہی کی پالیسیوں سے جڑا ہوا ہے۔ کانگریس کے ترجمان جریدہ میں پنڈت نہرو کے خلاف اور سردار ولبھ بھائی پٹیل کی ستائش میں ریمارکس کرنے پر ہی اکتفا نہیں کیا گیا بلکہ صدر کانگریس سونیا گاندھی کے والد ایٹفانو مائنو کو اٹلی کا ایک فاشسٹ سپاہی قرار دیا گیا۔ اپنے پارٹی صدر کے بارے میں یہاں تک کہہ دیا گیا کہ وہ پارٹی رکنیت حاصل کرنے سے ہچکچارہی تھیں۔ 1997ء میں انہوں نے کانگریس کی رکنیت حاصل کی اور پھر صرف اندرون 62 یوم پارٹی کی صدر بن بیٹھی۔ جہاں تک کانگریس کے اپنے ترجمان میں پنڈت نہرو اور سونیا گاندھی کی تذلیل اور سردار ولبھ بھائی پٹیل کی ستائش کا سوال ہے، یہ شاید بہت سوچ سمجھ کر اور منصوبہ بند اندازہ میں کیا گیا فرقہ پرستوں نے ہوسکتا ہیکہ اس کیلئے جریدہ کے ذمہ داروں کے ضمیر کو چند سکوں کے عوض خرید لیا ہو۔ حیرت کی بات یہ ہیکہ یہ عجیب و غریب واقعہ مہاراشٹرا میں پیش آیاجہاں مہاتما گاندھی کو ہندوستان کے پہلے دہشت گرد ناتھورام گوڈسے نے گولی مار کر موت کی نیند سلا دیا تھا۔ مہاراشٹرا کی سرزمین پر ہی ہندوستان کو صنعتی و زرعی ترقی کی راہ پر گامزن کرنے والے پنڈت جواہر لال نہرو کو تین مرتبہ 1955ء، 1956ء اور 1961ء میں قتل کرنے کی کوششیں کی گئی تھیں۔ 28 ڈسمبر 1885ء کو ایلن اکٹاوین ہیوم، دادا بھائی نوروجی اور دنشاء واچا کی جانب سے قائم کردہ کانگریس پارٹی کی 131 ویں یوم تاسیس پر پارٹی کے اہم ترین قائد پنڈت جواہر لال نہرو کی پارٹی کے ترجمان جریدہ میں مذمت کانگریس کی موجودہ قیادت کیلئے ایک لمحہ فکر ہے۔ اسے اس بات کی چھان بین کرنی چاہئے کہ اس خطا کیلئے کون ذمہ دار ہے؟ کانگریس ررشن ممبئی سٹی ایڈیشن کے ایڈیٹر سنجے نروپم نے تو یہ کہتے ہوئے اپنا دامن جھاڑ لیا کہ وہ اس کے برائے نام ایڈیٹر ہیں۔ اصل میں تو مضامین کا انتخاب اور اس کی اشاعت سدھیر جوشی کا کام تھا بہرحال پارٹی قیادت کی برہمی پر سدھیر جوشی کو ان کی خدمات سے برطرف کردیا گیا۔ ان کی برطرفی سے اس طرح کے مسائل حل نہیں ہوں گے۔ کانگریسی قیادت کو چاہئے کہ وہ خاکی چڈیوں کو چھپائے پارٹی میں گھس آنے والوں کی نشاندہی کرے ورنہ اسے پشیمان کرنے والے اس طرح کے واقعات بار بار پیش آتے رہیں گے۔ کانگریس قیادت کو بتانا ہوگا کہ ملک کی آزادی میں کانگریس کا رول غیر معمولی رہا۔ اس کی بنیادی وجہ پارٹی کے تئیں بلالحاظ مذہب و ملت عوام کی محبت تھی۔

TOPPOPULARRECENT