Saturday , January 20 2018
Home / شہر کی خبریں / کانگریس کیلئے مسلم مذہبی جماعتوں اور تنظیموں کی تائید و مساعی بھی ناکام ثابت

کانگریس کیلئے مسلم مذہبی جماعتوں اور تنظیموں کی تائید و مساعی بھی ناکام ثابت

حکومت بنانے کا خواب چکنا چور، اقلیتوں کا ٹی آر ایس کے حق میں ووٹ کا استعمال

حکومت بنانے کا خواب چکنا چور، اقلیتوں کا ٹی آر ایس کے حق میں ووٹ کا استعمال

حیدرآباد ۔19 ۔ مئی ۔ (سیاست نیوز) حالیہ عام انتخابات میں تلنگانہ میں کانگریس پارٹی کو مسلم مذہبی جماعتوں اور تنظیموں کی تائید بھی شکست سے بچا نہیں سکی۔ اہم مسلم جماعتوں اور تنظیموں کی جانب سے کھل کر کانگریس کی تائید کے باوجود اقلیتی رائے دہندوں نے ٹی آر ایس کے حق میں ووٹ کا استعمال کرتے ہوئے مذہبی قائدین کی اپیل کو مسترد کردیا۔ ٹی آر ایس کے ایک سینئر قائد نے بتایا کہ رائے دہی کے بعد پارٹی نے نتائج کا جو تجزیہ کیا ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ 119 اسمبلی حلقوں میں 50 سے زائد حلقوں میں اقلیتوں نے کھل کر ٹی آر ایس کے حق میں اپنے ووٹ کا استعمال کیا اور اقلیتوں کی تائید کے باعث ٹی آر ایس کو لوک سبھا کی 11 اور اسمبلی کی 63 نشستوں پر کامیابی حاصل ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ مسلم مذہبی قائدین کی جانب سے کانگریس کی تائید کی اپیل کے بعد پارٹی اقلیتوں کے ووٹ کے بارے میں فکر مند تھی ۔ تاہم رائے دہی کے دن اقلیتوں نے ٹی آر ایس کی تائید کرتے ہوئے تاریخی کامیابی سے ہمکنار کیا ہے۔

کانگریس پارٹی مطمئن تھی کہ وہ اقلیتی ووٹ کی بنیاد پر حلیف جماعتوں کی تائید سے تشکیل حکومت کے موقف میں ہوگی لیکن اس کا یہ خواب بکھر گیا۔ واضح رہے کہ مختلف مذہبی تنظیموں پر مشتمل یونائٹیڈ مسلم فورم کے علاوہ جمیعت العلماء کے دونوں گروپس ، جماعت اسلامی ، تحریک مسلم شبان اور دیگر تنظیموں نے نہ صرف کھل کر کانگریس کی تائید کی بلکہ بعض قائدین نے انتخابی مہم میں حصہ لیا۔ شاید ان جماعتوں کو عوام کے ذہن کا اندازہ نہیں تھا لہذا انہوں نے اپنے روابط یا کسی اور وجہ سے کانگریس کی تائید کو ترجیح دی لیکن اقلیتی رائے دہندوں کا فیصلہ ان جماعتوں کی اپیل کے برخلاف سامنے آیا۔ کئی ایسے حلقے ہیں جہاں بعض مسلم تنظیموں کے قائدین نے کانگریسی امیدواروں کے حق میں مہم چلائی وہاں کانگریس کو بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اقلیتوں کی اس تائید کا ٹی آر ایس قائد چندر شیکھر راؤ کو مکمل احساس ہے اور ان کے قریبی ذرائع کے مطابق چندر شیکھر راؤ اپنی حکومت کے دوران اقلیتوں سے کئے گئے تمام وعدوں پر عمل آوری میں سنجیدہ ہیں۔ ایسی بعض مذہبی تنظیمیں جنہوں نے ٹی آر ایس کی تائید کی تھی، ان کے ذمہ دار وقتاً فوقتاً کے سی آر کی قیامگاہ اور دفتر کے باہر دکھائی دے رہے ہیں تاکہ تائید کے بدلہ میں کوئی مناسب عہدہ حاصل کرلیں۔ بیشتر قائدین کی نظر قانون ساز کونسل کی رکنیت پر ہے۔

TOPPOPULARRECENT