Friday , May 25 2018
Home / Top Stories / ’کانگریس کی انتخابی سونامی میں ٹی آر ایس اور دیگر جماعتیں بہہ جائیں گی ‘

’کانگریس کی انتخابی سونامی میں ٹی آر ایس اور دیگر جماعتیں بہہ جائیں گی ‘

چیف منسٹر کے سی آر پر عوام کو دھوکہ دہی کا الزام ‘ کانگریس یاترا کا چیوڑلہ سے آغاز‘ اتم کمار ریڈی ‘ محمد علی شبیرودیگرکا خطاب

حیدرآباد ۔ 26فبروری ( سیاست نیوز) صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی اُتم کمار ریڈی نے چیف منسٹر کے سی آر کو دھوکہ باز اور سوداگر قرار دیتے ہوئے کہا کہ آئندہ انتخابات میں کانگریس کی سونامی آئے گی جس میں حکمراں ٹی آر ایس کے بشمول دوسری جماعتیں بہہ جائیں گی ۔ اقتدار حاصل ہوتے ہی کانگریس پارٹی ایک گھر کے تمام اہل افراد کیلئے وظیفے کی اسکیم بحال کرے گی ۔ بیروزگار نوجوانوں کو ماہانہ 3ہزار روپئے بیروزگاری بھتہ فراہم کرے گی ‘ فیس باز ادائیگی پر مکمل عمل آوری کرتے ہوئے بقایا جات بھی فوری جاری کرے گی ۔ پرانہیتا ۔ چیوڑلہ پراجکٹ کو قدیم ڈیزائن کے ساتھ تعمیر کرتے ہوئے ضلع رنگاریڈی کو پانی سربراہ کرے گی ۔ آئی ٹی آئی آر پراجکٹ کو عملی جامہ پہناتے ہوئے نوجوانوں کو بڑے پیمانے پر روزگار فراہم کرے گی اور دو لاکھ روپئے تک کسانوں کے قرضوں کو معاف کیا جائے گا ۔ آج کانگریس کی ’’ پرجا چیتنیہ یاترا ‘‘ کا چیوڑلہ سے آغاز کرتے ہوئے چیوڑلہ اور وقارآباد میں منعقدہ جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے یہ بات بتائی ۔ اس موقع پر اے آئی سی سی سکریٹری انچارج تلنگانہ کانگریس اُمور آر سی کنٹیا ‘ قائدین اپوزیشن کے جانا ریڈی ( اسمبلی) ‘ محمد علی شبیر ( کونسل) ‘ ورکنگ پریسیڈنٹ ملو بٹی وکرامارک ‘ سابق وزراء کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی ‘ ڈی کے ارونا ‘ پنالہ لکشمیا ‘ ڈی ناگیندر ‘ جی چنا ریڈی ‘ ڈی سریدھر بابو ‘ سیتا اندرا ریڈی ‘ کانگریس کے سابق ارکان پارلیمنٹ ہنمنت راؤ ‘ محمد اظہر الدین ‘ انجن کمار یادو ‘ رکن اسمبلی بلونت ریڈی کے علاوہ دوسرے قائدین موجود تھے ۔ صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی اُتم کمار ریڈی نے کہا کہ 2004ء میں سابق چیف منسٹر ڈاکٹر راج شیکھر ریڈی نے چیوڑلہ سے پدیاترا کا انعقاد کرتے ہوئے کانگریس کو اقتدار میں لایا تھا ۔ ان ہی جذبات ‘ احساسات اور انداز کو مدنظر رکھتے ہوئے 2019ء کے انتخابات سے قبل دوبارہ چیوڑلہ سے ہی پرجا چیتنیہ یاترا کا آغاز کیا جارہا ہے ۔ تلنگانہ عوام نے جو خواب دیکھا تھا وہ یہ تلنگانہ نہیں ہے ۔ تلنگانہ کی مخالفت کرنے پر آندھراپردیش میں 25لوک سبھا حلقوں پر کانگریس پارٹی کامیاب ہوسکتی تھی تاہم سونیا گاندھی نے وعدے کے مطابق علحدہ تلنگانہ ریاست تشکیل دیتے ہوئے ایس سی ۔ ایس ٹی ‘ بی سی اور اقلتیوں سے مکمل انصاف ہونے کی توقع کی تھی مگر اقتدار حاصل کرنے کے بعد کے سی آر نے صرف اپنے خاندان کے 14 ارکان کی ہی قسمت کو سنوارا اور بہت جلد ایک اور خاندان کے رکن کو راجیہ سبھا روانہ کرنے کی تیاری کررہے ہیں ۔ انتخابات سے قبل کے سی آر نے جو وعدے کئے تھے ان میں ایک وعدے کو بھی پورا نہیں کیا ۔ مسلمانوں ۔ دلتوں اور قبائلیوں کے ساتھ حکومت نے دھوکہ کیا ‘ آئندہ عام انتخابات میں سماج کے تمام طبقات ٹی آر ایس کو سبق سکھائیں گے ۔ بی سی طبقات کو آبادی کے تناسب سے تحفظات فراہم کرنے کا مطالبہ مسلمانوں کو 12فیصد اور قبائلیوں کو 10فیصد تحفظات کے نام پر دھوکہ دینے کا الزام عائد کیا ۔ کانگریس کو اقتدار حاصل ہونے پر 70لاکھ مہیلا گروپس کو ایک لاکھ روپئے تک ریواوینگ فنڈز دینے بغیر سود کے قرض فراہم کرنے اور حوصلہ افزائی کیلئے فی گروپ کو ایک لاکھ روپئے دینے بیروزگار نوجوانوں کو ماہانہ 3 ہزار روپئے وظیفہ دینے ‘ تمام اہل طلبہ کو فیس ریمبرسمنٹ جاری کرنے ‘ کسانوں کے 2لاکھ روپئے تک قرض معاف کرنے زرعی انشورنس حکومت کی جانب سے ادا کرنے آرمور ڈیکلریشن کے تحت زرعی کاشت کو اقل ترین قیمت فراہم کرنے کا وعدہ کیا ۔ قائد اپوزیشن تلنگانہ قانون ساز محمد علی شبیر نے چیف منسٹر کے سی آر کو دھوکہ باز قرار دیتے ہوئے کے سی آر نے مسلمانوں کو 12فیصد تحفظات فراہم کرنے کا وعدہ کیا ‘ چار سال مکمل ہونے کے باوجود وعدے کی عمل آوری میں پوری طرح ناکام ہوگئے ۔ اسمبلی اور کونسل میں منطور کردہ بلز کہاں ہے اسکا بھی چیف منسٹر کے سی آر کو علم نہیں ہے ۔ انہوں نے مسلم تحفظات اور قبائلی تحفظات پر مرکز نے جو موقف اختیار کیا ہے اس کی وضاحت کرنے کا چیف منسٹر سے مطالبہ کیا ۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ امریکہ میں ملازمت کرنے والے ریاستی وزیر آئی ٹی کے ٹی آر کا تلنگانہ تحریک میں کوئی رول نہیں ہے ۔ سماج کا کوئی بھی طبقہ حکومت کی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہے جب بھی انتخابات منعقد ہوں گے کانگریس پارٹی بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کرے گی ۔ قائد اپوزیشن کے جانا ریڈی نے کہا کہ 2014 کے عام انتخآبات میں ٹی آر ایس کے انتخابی منشور سے کئے گئے ایک وعدہ کو بھی پورا نہیں کیا گیا ۔ نہ دلت کو چیف مسنٹر بنایا گیا اور نہ ہی انہیں تین ایکڑ اراضی فراہم کی گئی ۔ ڈبل بیڈروم مکانات کی اسکیم پر عمل آوری نہیں ہوئی ‘ مسلمانوں اور قبائلیوں کو تحفظات حاصل نہیں ہوئے ‘ زرعی شعبہ حشک سالی کا شکار ہے ۔ کروڑہا روپئے خرچ کرنے کے باوجود آبپاشی پراجکٹس کی تکمیل نہیں ہوئی ۔ ایسی حکومت کو اقتدار پر برقرار رہنے ککا اخلاقی حق بھی نہیں ہے ۔ کانگریس کے سینئر قائد وی ہنمنت راؤ نے کہا کہ اگر سونیا گاندھی علحدہ تلنگانہ ریاست تشکیل نہیں دیتیںتو کے سی آر کو اپنے ارکان خاندان کے ساتھاقتدار کی آسائشیں نہ ملتیں۔ کانگریس کو زمین دوز کرنے کا خواب کبھی پورا نہیں ہوگا ۔ کانگریس کے سینئر رکن اسمبلی کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی نے ٹی آر ایس حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ عوامی خدمات کو ترجیح دینے کے بجائے آبپاشی پراجکٹس کالیشورم ‘ مشن بھگیرتا ‘ مشن کاکتیہ پر توجہ دیتے ہوئے کروڑہا روپئے لوٹ لینے کا چیف منسٹر پر الزام عائد کیا ۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں کسان بیروزگار نوجوان ‘ طلبہ ‘اقلیتیں ‘ بی سی ‘ ایس سی ‘ ایس ٹی طبقات حکومت کی کارکردگی سے مطمئن نہ ہونے کا دعویٰ کیا ۔ سبیتا اندرا ریڈی کو پھر ایک بار ریاست کی وزیر داخلہ بنانے کیلئے فیصلہ لینے کی عوام سے اپیل کی ۔ اجلاس سے کانگریس کے سابق رکن پارلیمنٹ محمد اظہر الدین کے علاوہ دوسروں نے بھی خطاب کیا ۔

TOPPOPULARRECENT