Friday , November 24 2017
Home / شہر کی خبریں / کانگریس کی بجائے دوسری پارٹی کو ووٹ سے فرقہ پرستوں کو فائدہ

کانگریس کی بجائے دوسری پارٹی کو ووٹ سے فرقہ پرستوں کو فائدہ

مجلس اور بی جے پی ہندووں اور مسلمانوں میں پھوٹ ڈال رہی ہیں ، ملے پلی میں بھاگیہ ریکھا کی مہم
حیدرآباد ۔ 28 ۔ جنوری : ( سیاست نیوز) : ورکنگ پریسیڈنٹ تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی نے ملے پلی میں ریالی منظم کرتے ہوئے کہا کہ اگر ووٹ کانگریس کے بجائے کسی اور پارٹی کو پڑتا ہے تو اس کا صرف اور صرف فرقہ پرست جماعتوں کو فائدہ ہوگا ۔ مسٹر بٹی وکرامارکا بلدی ڈیویژن ملے پلی کی کانگریس امیدوارہ مسز ایم بھاگیہ ریکھا کے حق میں انتخابی مہم چلاتے ہوئے یہ بات بتائی ۔ اس موقع پر سابق رکن پارلیمنٹ مسٹر ایم انجن کمار یادو جنرل سکریٹری آل انڈیا یوتھ کانگریس مسٹر ونود کے علاوہ دوسرے موجود تھے ۔ مسٹر ملو بٹی وکرامارکا نے کہا کہ 4 جماعتیں ٹی آر ایس ، مجلس اور بی جے پی ۔ تلگو دیشم کا راست و بلراست اتحاد ہے اور چاروں جماعتیں ایک ہی سکے کے دو رخ ہے ۔ ٹی آر ایس اور تلگو دیشم پارٹیاں دو فرقہ پرست تنظیموں کے کندھا سے کندھا ملا کر چلتے ہوئے ان کی حوصلہ افزائی کررہے ہیں ۔ یہ بی جے پی اور مجلس سیاسی مفاد پرستی کے لیے عوام کو بالخصوص ہندووں اور مسلمانوں کو بانٹ رہی ہیں اور مذہبی جذبات بھڑکاتے ہوئے فرقہ پرستی کو پروان چڑھا رہے ہیں ۔ ٹی آر ایس اور تلگو دیشم دونوں مفاد پرست اور دھوکہ باز جماعتیں ہیں تلگو دیشم پارٹی تلنگانہ میں سکھڑ رہی ہیں اور ٹی آر ایس کبھی پورے نہ ہونے والے وعدے کرتے ہوئے عوام کو دھوکہ دے رہی ہے ۔ عوام ان چاروں جماعتوں سے چوکنا رہے اور کانگریس کو ووٹ دے کر بھاری اکثریت سے کامیاب بنائے ۔ سابق رکن پارلیمنٹ مسٹر ایم انجن کمار یادو نے کہا کہ کانگریس پارٹی اپنے 10 سالہ دور حکومت کی کارکردگی پر عوام سے ووٹ مانگ رہی ہے ۔ تھوڑی سی غفلت آئندہ 5 سال کے لیے مصیبت بن جائے گی ۔ لہذا عوام کوئی غلطی نہ کریں ۔ کانگریس کو ووٹ دیں اور سیکولرازم کی فضاء کو مستحکم کریں ۔ مسٹر سید عظمت اللہ حسینی نے کہا کہ کانگریس ہی سیکولر اور ویژن رکھنے والی جماعت ہے ۔ جو اقلیتوں کی ہمدرد اور ان کی فلاح و بہبود کے لیے عملی اقدامات کیے ہیں ۔ کانگریس نے 4 فیصد مسلم تحفظات فراہم کرتے ہوئے لاکھوں مسلم نوجوانوں کو فائدہ پہونچایا ہے ۔ مرکز میں بی جے پی اور ریاست میں ٹی آر ایس اقتدار میں آنے کے بعد ترقی ٹھپ ہو کر رہ گئی ہے ۔ بی جے پی اور ٹی آر ایس نے اپنے انتخابی منشور میں جو بھی وعدے کئے ہیں اس کو پورا کرنے میں دونوں جماعتیں ناکام ہوگئی ہیں لہذا وہ عوام سے اپیل کرتے ہیں کہ ترقی اور بہبود کو نظر میں رکھتے ہوئے کانگریس پارٹی کی امیدوار ایم بھاگیہ ریکھا کو بھاری اکثریت سے کامیاب بنائے ۔۔

TOPPOPULARRECENT