Wednesday , December 19 2018

کانگریس کی بس یاترا دراصل پارٹی کی بقاء کی یاترا

عوامی تائید سے محروم، ٹی آر ایس رکن اسمبلی جیون ریڈی کاادعا

حیدرآباد۔/10 مارچ، ( سیاست نیوز) ٹی آر ایس کے رکن اسمبلی جیون ریڈی نے الزام عائد کیا کہ کانگریس پارٹی کی بس یاترا دراصل پارٹی کی بقاء کی یاترا ہے۔ اس یاترا کو عوامی تائید حاصل نہیں ہے۔میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے رکن اسمبلی اے جیون ریڈی نے کہا کہ کانگریس کی یاترا کو کسی بھی ضلع میں عوام کی تائید حاصل نہیں ہوئی اور عوام کی غیر موجودگی سے کانگریس قائدین بوکھلاہٹ کا شکار ہوچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کی بس یاترا کسی سرکس سے کم نہیں اور پارٹی قائدین ایک دوسرے کو نیچا دکھانے میں سرگرم ہیں۔ بس یاترا کو علی بابا چالیس چور سے تعبیر کرتے ہوئے جیون ریڈی نے کہا کہ جو پارٹی عوام کا اعتماد کھوچکی ہے اسے تلنگانہ میں دوبارہ اقتدار نہیں مل سکتا۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی وزراء پر بے بنیاد الزامات عائد کرتے ہوئے کانگریس قائدین اپنی بوکھلاہٹ کو ثابت کررہے ہیں۔ جیون ریڈی نے سوال کیا کہ کانگریس کے ایک قائد کی جانب سے وزیر آبپاشی ہریش راؤ کو ہلاک کرنے کا اعلان کیا یہی کانگریس کلچر ہے ۔ ریاستی وزراء کے ٹی راما راؤ اور ایٹالہ راجندر پر شخصی الزامات عائد کئے جارہے ہیں۔ انہوں نے کانگریس قائدین کو چیلنج کیا کہ وہ اپنے الزامات کے حق میں ثبوت پیش کریں۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کی بس یاترا میں جو 40 قائدین موجود ہیں ان میں 30 چیف منسٹر کے عہدہ کے دعویدار ہیں۔ کسی بھی مسئلہ پر پارٹی قائدین کی ایک رائے نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کی بس یاترا سے تلنگانہ میں پارٹی کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ جیون ریڈی نے کہا کہ کانگریس دور حکومت میں ہر شعبہ کو نظرانداز کردیا گیا تھا جبکہ کانگریس پارٹی تلنگانہ میں تعمیری اپوزیشن کا رول ادا کرنے میں ناکام ہوچکی ہے۔ کانگریس قائدین کو صرف اقتدار سے دلچسپی ہے اور وہ کسی طرح تلنگانہ میں دوبارہ برسراقتدار آنا چاہتے ہیں لیکن یہ خواب کبھی پورا نہیں ہوگا۔ جیون ریڈی نے کہا کہ کانگریس نے اپنے طویل دور اقتدار میں تلنگانہ کی ترقی کو نظرانداز کردیا تھا جبکہ ٹی آر ایس نے کے سی آر کی قیادت میں چار برسوں میں نہ صرف انتخابی وعدوں کی تکمیل کی بلکہ کئی نئی اسکیمات کا آغاز کیا ہے۔ فلاحی اور ترقیاتی اقدامات میں تلنگانہ ریاست ملک میں سرفہرست ہوچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر کے سی آر نے جب سے تیسرے محاذ کی تیاری کا اعلان کیا ہے کانگریس اور بی جے پی میں ہلچل پیدا ہوچکی ہے۔ ملک کی مختلف پارٹیوں نے تیسرے محاذ کی تائید کا اعلان کیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT