Sunday , September 23 2018
Home / Top Stories / کانگریس کی بس یاترا کے بعد ٹی آر ایس کو مسلم تحفظات یاد آئے : اتم کمار ریڈی

کانگریس کی بس یاترا کے بعد ٹی آر ایس کو مسلم تحفظات یاد آئے : اتم کمار ریڈی

کے سی آر نے چار سال تک این ڈی اے کی تائید کی ۔ بی جے پی کے بڑھتے قدم صرف راہول گاندھی روک سکتے ہیں

حیدرآباد 6 مارچ (سیاست نیوز) صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی اتم کمار ریڈی نے کہاکہ کانگریس کی بس یاترا کامیاب ہونے کے بعد ٹی آر ایس کے ارکان پارلیمنٹ 12 فیصد مسلم تحفظات کیلئے پارلیمنٹ میں ڈرامہ کرتے ہوئے مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ بی جے پی کو تقویت پہونچانے چیف منسٹر تلنگانہ نے تھرڈ فرنٹ تشکیل دینے کا اعلان کیا ہے۔ مودی کے بڑھتے قدم صرف کانگریس صدر راہول گاندھی روک سکتے ہیں۔ کے سی آر و اسدالدین اویسی کی باتوں پر بھروسہ نہ کرنے کی عوام سے اپیل کی ہے۔ پرجا چیتنیہ یاترا کے چھٹویں دن نرمل میں جلسہ عام سے خطاب میں ان خیالات کا اظہار کیا۔ قائدین مقننہ کے جانا ریڈی (اسمبلی) ، محمد علی شبیر (کونسل)، سابق کرکٹر محمد اظہرالدین، رکن اسمبلی ریونت ریڈی، سابق وزیر سبیتا اندرا ریڈی، سابق رکن اسمبلی مہیشور ریڈی کے علاوہ دیگر موجود تھے۔ اتم کمار ریڈی نے کہاکہ ٹی آر ایس نے 4 سال تک بی جے پی کی زیرقیادت این ڈی اے حکومت کی تائید کی۔ عوامی مسائل پر خاموشی اختیار کی جیسے ہی کانگریس نے بس یاترا کا آغاز کیا اور اس کو عوامی تائید ملی ٹی آر ایس کی بنیادیں ہل گئیں۔ ٹی آر ایس ارکان پارلیمنٹ میں 12 فیصد مسلم تحفظات کا مطالبہ کرتے ہوئے مصنوعی ڈرامہ کا آغاز کیا ہے۔ 4 سال بعد نیند سے بیدار ہونے والے چیف منسٹر کے سی آر نے تیسرے محاذ کا شوشہ چھوڑتے ہوئے کانگریس کو نقصان پہنچانے اور بی جے پی کو تقویت پہنچانے کی کوشش کی ہے۔ یہ تمام کوششیں رائیگاں جائیں گی۔ آئندہ انتخابات میں کانگریس پارٹی مرکز اور ریاست میں کامیابی حاصل کرے گی۔ انہوں نے کہاکہ کے سی آر نے تھرڈ فرنٹ کی ہوا کھڑا کرنے کی جھوٹی کوشش کی ہے جبکہ ان سے نہ ہی ممتا بنرجی نے رابطہ کیا ہے اور نہ ہی ہیمنت سورین نے کوئی بات کی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ تھرڈ فرنٹ کیلئے تائید حاصل کرنے ٹی آر ایس رکن راجیہ سبھا کیشو راؤ نے ان دونوں قائدین سے بات کرنے کی کوشش کی ۔ اتم کمار ریڈی نے تھرڈ فرنٹ تشکیل دیتے ہوئے بی جے پی کو بچانے کی کوشش کرنے سے قبل اپنی حکومت بچانے کی تیاری کرنے کا چیف منسٹر کو مشورہ دیا اور کہاکہ کانگریس بس یاترا کے ذریعہ ٹی آر ایس حکومت کی ناکامیوں کو بے نقاب کررہی ہے۔ کے سی آر تھرڈ فرنٹ کو ڈھال کی طرح استعمال کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ پون کلیان اور اسد اویسی کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ گزشتہ انتخابات میں پون کلیان نے بی جے پی کی تائید کی۔ ملک کی مختلف ریاستوں میں اسد اویسی پر بی جے پی کو فائدہ پہنچانے کے الزامات ہیں۔ 12 فیصد مسلم تحفظات فراہم کرنے میں ناکام چیف منسٹر کے سی آر کو مسلمانوں سے ووٹ مانگنے کا اخلاقی حق نہیں ہے۔ ٹی آر ایس نے مسلمانوں کے جذبات سے کھلواڑ کیا ہے۔ ہندو راشٹرا کا ایجنڈہ رکھنے والے نریندر مودی کے بڑھتے قدم کو نہ کے سی آر روک سکتے ہیں نہ اسدالدین اویسی روک سکتے ہیں بلکہ راہول گاندھی روک سکتے ہیں۔ ان کے ہاتھ مضبوط کرنا تمام سیکولر ہندوستانیوں کی ذمہ داری ہے۔ قائد اپوزیشن کونسل محمد علی شبیر نے کہاکہ 4 سال میں تلنگانہ کے عوام سے انصاف نہ کرنے والے کے سی آر تھرڈ فرنٹ کی قیادت کے اہل بھی نہیں ہیں۔ 4 ماہ میں 12 فیصد مسلم تحفظات کا وعدہ 4 سال میں بھی پورا نہیں کیا گیا۔ جب بھی انتخابات منعقد ہوں گے کانگریس ریاست اور مرکز میں کامیابی حاصل کرے گی۔ کانگریس پارٹی عوامی مسائل پر تلنگانہ حکومت کو اسمبلی اور کونسل میں بجٹ سیشن کے دوران جھنجوڑ کر رکھ دے گی۔ ٹی آر ایس حکومت پر تمام شعبوں میں ناکام ہوجانے اور عوام سے کئے گئے ایک وعدے کو بھی پورا نہ کرنے کا الزام عائد کیا۔ قائد اپوزیشن کے جانا ریڈی نے کہاکہ کانگریس کے دور حکومت میں ہی ملک اور ریاست ترقی کرسکتی ہے۔ فاضل برقی پیداوار کرنے کا اعزاز کانگریس کو ہونے کا دعویٰ کیا۔ کانگریس کے سابق رکن اسمبلی مہیشور ریڈی نے کہاکہ پولیس نے کانگریس کارکنوں کی گاڑیوں کو جگہ جگہ روکتے ہوئے جلسہ عام کو ناکام بنانے کی کوشش کی ہے مگر وہ اپنے مقصد میں ناکام ہوگئے ہیں۔ کانگریس کے جلسہ عام میں عوام کی بھاری تعداد میں شرکت سے حکومت سے ناراضگی کا ثبوت ہے۔

TOPPOPULARRECENT