Tuesday , December 11 2018

کانگریس کی تائید سے تیسرا محاذ مستحکم حکومت قائم کرے گا

لکھنو 15 اپریل ( سیاست ڈاٹ کام ) جمہوریت ملک میں پختہ ہوچکی ہے یہ ادعا کرتے ہوئے چیف منسٹر اتر پردیش اکھیلش یادو نے آج کہا کہ تیسرا محاذ لوک سبھا انتخابات کے بعد کانگریس کی تائید سے مستحکم حکومت قائم کرے گا۔وہ پی ٹی آئی کو انٹرویو دے رہے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات کے رجحان سے محسوس ہوتا ہے کہ بی جے پی سادہ اکثریت بھی حاصل کر کے حکومت

لکھنو 15 اپریل ( سیاست ڈاٹ کام ) جمہوریت ملک میں پختہ ہوچکی ہے یہ ادعا کرتے ہوئے چیف منسٹر اتر پردیش اکھیلش یادو نے آج کہا کہ تیسرا محاذ لوک سبھا انتخابات کے بعد کانگریس کی تائید سے مستحکم حکومت قائم کرے گا۔وہ پی ٹی آئی کو انٹرویو دے رہے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات کے رجحان سے محسوس ہوتا ہے کہ بی جے پی سادہ اکثریت بھی حاصل کر کے حکومت تشکیل نہیں دے سکے گی۔ انتخابات کے بعد کانگریس کمزور ترین پارٹی کے مقام پر پہنچ جائے گی۔ تیسرے محاذ سے تعلق رکھنے والی سیاسی پارٹیوں کو سب سے زیادہ نشستیں حاصل ہوں گی اور وہ آئندہ حکومت تشکیل دیں گی۔ اس سوال پر کہ تیسرے محاذ کی حکومت کیسے مستحکم ہوسکتی ہے جبکہ سابقہ تجربے اچھے نہیں رہے ۔ انہو ںنے کہا کہ ہندوستان میں جمہوریت اب پختہ ہوچکی ہے ۔ کوئی بھی اتحاد ٹوٹ نہیں سکتا اور نہ اس میں انا کی وجہ سے دراڑیں پڑ سکتی ہیں۔ اگر اتحاد عارضی حکومتیں قائم کرتے تو این ڈی اے اور یو پی اے حکومتیں اپنی معیادیں مکمل نہ کرسکتے ۔اس بار تیسرا محاذ مستحکم حکومت قائم کرے گا۔ کانگریس کی مستحکم حکومت کے قیام کیلئے تیسرے محاذ کی تائید کے امکان کے بارے میں اکھیلیش یادو نے کہا کہ سماج وادی مفکر رام منوہر لوہیا کہا کرتے تھے کہ جب بھی کانگریس کمزور موقف میں ہو وہ سماجوادیوں کی تائید کرے گی اور موجودہ انتخابات میں صورتحال ایسی ہی ہے ۔ چنانچہ کانگریس سیکولر حکومت تشکیل دینے میں ضرور مدد کرے گی۔ تیسرے محاذ کے جاریہ انتخابات میں وجود کے بارے میں سوال کا جواب دیتے ہوئے چیف منسٹر یو پی اکھیلیش یادو نے کہا کہ انہوں نے چیف منسٹر اوڈیشہ بیجو پٹنائک ،چیف منسٹر بہار نتیش کمار اور دیگر قائدین کو تیسرے محاذ میں شامل ہوتے دیکھا ہے جو 16 مئی کے بعد رسمی شکل احتیار کرے گا۔اس سوال پر کہ محاذ کی قیادت کون کرے گا سماجوادی پارٹی قائد نے کہا کہ اس بارے میں کچھ بھی کہنا ابھی قبل از وقت ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ اس کا انحصار پارٹیوں کی نشستوں کی تعداد پر ہوگا جو محاذ میںشامل ہوں گی۔ صدر سماجوادی پارٹی ملائم سنگھ یادو اور دیگر حلیف سیاسی پارٹیاں تیسرے محاذ میںشامل ہیں۔ ان تمام قائدین کا رویہ سیکولر ہے ۔ وہ تمام مل بیٹھ کر مستحکم حکومت کا خاکہ تیار کریں گے اور راہ ہموار کریں گے ۔ بی جے پی کے یو پی میں قدم جمانے پر سماجوادی پارٹی کی روک لگانے کی حکمت عملی کے بارے میں سوال کا جواب دیتے ہوئے چیف منسٹر یو پی نے کہا کہ ان کی پارٹی واحد پارٹی ہے جو ایک طاقتور تنظیم اور کارکنوں کی بنیاد رکھتی ہے ۔ میری حکومت کے کارنامے اسی لئے ممکن ہوسکے کہ ہم نے فرقہ پرست طاقتوں پر قابو پالیا ہے ۔ ملائم سنگھ یادو مخالف ماحول میں بھی فرقہ پرست طاقتوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے تھے اور خود ان کے دور حکومت میں انہوں نے بھی ایسا ہی کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ فیصلہ انتخابات کریں گے۔

TOPPOPULARRECENT