Wednesday , January 17 2018
Home / شہر کی خبریں / کانگریس کی تائید کرنے والوں کو ٹی آر ایس حکومت میں سرکاری عہدہ

کانگریس کی تائید کرنے والوں کو ٹی آر ایس حکومت میں سرکاری عہدہ

پارٹی کے اقلیتی قائدین میں بے چینی، مقامی جماعت کے سبب ناانصافی کا اندیشہ

پارٹی کے اقلیتی قائدین میں بے چینی، مقامی جماعت کے سبب ناانصافی کا اندیشہ
حیدرآباد۔/20ڈسمبر، ( سیاست نیوز) ٹی آر ایس حکومت کی جانب سے سرکاری عہدوں پر تقررات کے عمل کے آغاز کے ساتھ ہی پارٹی کے اقلیتی قائدین میں خوشی اور مسرت کے بجائے مایوسی دیکھی جارہی ہے۔ چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ نے اقلیتی قائدین سے وعدہ کیا تھا کہ تلنگانہ تحریک میں حصہ لینے والے پارٹی قائدین و کارکنوں کو سرکاری عہدوں میں مناسب نمائندگی دی جائے گی لیکن حکومت کی جانب سے پبلک سرویس کمیشن میں اقلیتی نمائندہ کی نامزدگی نے پارٹی کے اقلیتی قائدین میں ناراضگی پیدا کردی ہے۔ حکومت نے پارٹی سے غیر متعلق شخص کو پبلک سرویس کمیشن کا رکن نامزد کردیا جبکہ اس عہدہ کیلئے پارٹی میں کئی اہل امیدوار موجود تھے۔حالیہ انتخابات میں کانگریس کی تائید کرنے والی جماعت کے فرد کو پبلک سرویس کمیشن میں نامزد کیا گیا جبکہ ٹی آر ایس کے قیام سے سرگرم اقلیتی قائدین نظرانداز کردیئے گئے۔ یہ مسئلہ اقلیتی قائدین میں موضوع بحث بنا ہوا ہے۔ گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے آئندہ انتخابات میں بہتر مظاہرہ کیلئے ٹی آر ایس کی مقامی سیاسی جماعت سے مفاہمت کے سبب پارٹی کے اقلیتی قائدین سے ناانصافی کا اندیشہ تھا جو پہلے تقرر کے ساتھ صحیح ثابت ہوا۔ بتایا جاتا ہے کہ مقامی جماعت کی قیادت نے اقلیتی اداروں کے اہم عہدوں پر اپنے سفارشی افراد کی نامزدگی کا مطالبہ کیا ہے اور اس سلسلہ میں چیف منسٹر کو فہرست پیش کی گئی۔ پبلک سرویس کمیشن میں نامزد کردہ مسلم رکن بھی مقامی جماعت کے سفارشی بتائے جاتے ہیں جو نہ صرف ایک مذہبی جماعت کے عہدیدار ہیں بلکہ یونائٹیڈ مسلم فورم کے رکن ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ حالیہ اسمبلی انتخابات میں فورم نے مقامی سیاسی جماعت کی تائید کی تھی جبکہ ٹی آر ایس کی تائید نہیں کی۔ اس کے باوجود مقامی جماعت کے سفارشی شخص کو نامزد کرنے پر ٹی آر ایس کے اقلیتی قائدین ناراض ہیں۔ مسلم یونائٹیڈ فورم کے قیام کے وقت فیصلہ کیا گیا تھاکہ فورم سے تعلق رکھنے والے افراد کوئی سرکاری عہدہ قبول نہیں کریں گے۔ لیکن ایک ذمہ دار کو سرکاری عہدہ دیئے جانے پر فورم کے دیگر ذمہ داروں میں بے چینی پائی جاتی ہے۔ اقلیتی اداروں پر تقررات کے سلسلہ میں ٹی آر ایس میں شامل اقلیتی ارکان اسمبلی و کونسل بھی سرگرم ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر نے پارٹی کے مسلم رکن اسمبلی کو اقلیتوں سے متعلق اہم کارپوریشن کا صدر نشین نامزد کرنے کا وعدہ کیا ہے جبکہ ایک مسلم رکن قانون ساز کونسل غیر اقلیتی سرکاری کارپوریشن کی صدارت کیلئے کوشاں ہیں۔

TOPPOPULARRECENT