Wednesday , April 25 2018
Home / Top Stories / کانگریس کی لہر کو کوئی طاقت روک نہیں سکتی، بھاری اکثریت سے کامیابی یقینی

کانگریس کی لہر کو کوئی طاقت روک نہیں سکتی، بھاری اکثریت سے کامیابی یقینی

پرانا شہر میں بھی کانگریس کی جیت ہوگی۔تلنگانہ اسمبلی کی 80 نشستوں پر قبضہ کرنے کا عہد،دیگر جماعتوں سے مفاہمت کا فیصلہ ہائی کمان پر منحصر :اتم کمار ریڈی

حیدرآباد۔/11 اپریل، ( سیاست نیوز) صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی اتم کمار ریڈی نے کہا کہ مجلس کے گڑھ پرانے شہر میں کانگریس پارٹی طاقتور امیدواروں کو انتخابی میدان میں اُتارے گی ساتھ ہی گریٹر حیدرآباد کے حدود میں بھی سیما آندھرا کے قائدین کو پارٹی کا ٹکٹ دیا جائے گا جس کی کانگریس پارٹی ہائی کمان سے منظوری حاصل کرلی گئی ہے۔ گاندھی بھون میں آج میڈیا کے نمائندوں سے غیر رسمی بات چیت کرتے ہوئے اتم کمار ریڈی نے کہا کہ 2019 کے عام انتخابات میں کانگریس کی لہر کو کوئی بھی طاقت روک نہیں سکتی۔ 80 سے زائد اسمبلی حلقوں پر کانگریس کے امیدوار بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کریں گے۔ اس مرتبہ کانگریس پرانے شہر میں مجلس کو جتانے کیلئے نہیں بلکہ خود کامیاب ہونے کیلئے مقابلہ کرے گی۔ ماضی میں کانگریس اور مجلس کے درمیان انتخابی مفاہمت ہوا کرتی تھی مگر اس مرتبہ کانگریس پارٹی شاندار مظاہرہ کرے گی اور طاقتور امیدواروں کو انتخابی میدان میں اُتارے گی۔ مجلس کے بشمول دوسری جماعتوں کے کئی قائدین کانگریس پارٹی سے رابطہ بنائے ہوئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی مجلس سے کوئی مروت نہیں کرے گی بلکہ راست مقابلہ کرے گی۔ فرقہ پرست جماعتوں سے ہوشیار ہوجانے کا عوام کو مشوردیا اور کہا کہ کانگریس پارٹی نے گریٹر حیدرآباد کیلئے خصوصی انتخابی منصوبہ بندی تیار کی ہے۔ اس مرتبہ کانگریس پارٹی گریٹر حیدرآباد میں سیما آندھرا کے قائدین کو بھی کو ٹکٹ دے گی جس پارٹی ہائی کمان سے منظوری حاصل کرلی گئی ہے۔ سیما آندھرا کے عوام میں کانگریس کیلئے جو ناراضگی تھی وہ اب ختم ہوگئی ہے۔ سیما آندھرا کے قائدین اور عوام سے کانگریس پارٹی رابطے میں ہے۔ اضلاع نلگنڈہ، محبوب نگر، رنگاریڈی میں کانگریس پارٹی تمام حلقوں پر آسانی سے کامیابی حاصل کرے گی۔ شمالی تلنگانہ میں بھی کانگریس کی لہر چلے گی ۔ اتم کمار ریڈی نے کہا کہ گریٹر حیدرآباد کے چند اسمبلی حلقوں میں تلگودیشم پارٹی کا اثر و رسوخ باقی ہے تاہم تلگودیشم کے علاوہ دوسری جماعتوں سے سیاسی اتحاد کا کانگریس پارٹی ہائی کمان ہی قطعی فیصلہ کرے گی۔ حکمراں ٹی آر ایس کے بشمول دوسری جماعتوں کے کئی قائدین کانگریس سے رابطہ بنائے ہوئے ہیں بہت جلد کئی قائدین کانگریس میں شمولیت اختیار کریں گے۔ کانگریس کے قائدین ملو بٹی وکرامارک، پونم پربھاکر اور ریونت ریڈی کب سے پدیاتراکا آغاز کریں گے اس کا اعلان کانگریس ہائی کمان کرے گی۔ جن اسمبلی حلقوں میں کوئی تضاد نہیں ہے وہاں وہ پارٹی امیدواروں کا اعلان کررہے ہیں۔ کانگریس سے مستعفی ہوکر ٹی آر ایس میں شامل ہونے والے کئی قائدین دوبارہ کانگریس میں شامل ہونا چاہتے ہیں مگر اس معاملہ میں پارٹی میں کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ اس مرتبہ پارٹی کا ٹکٹ حاصل کرنے والوں کو جنگ لڑنے کیلئے تیار رہنا پڑیگا۔ ٹکٹ کی تقسیم میں اتم کمار ریڈی کا حامی یا دوسرے قائد کا حامی ہونے پر غور نہیں کیا جائے گابلکہ کامیاب ہونے والے امیدوار کو میرٹ کی بنیاد پر ٹکٹ دیا جائے گا۔ کانگریس پارٹی میں قائدین کے درمیان نظریاتی اختلافات عام بات ہے تاہم انتخابات کے موقع پر تمام قائدین متحد ہوجاتے ہیں۔ اضلاع کانگریس صدور کو ٹکٹ نہ دینے کا راہول گاندھی نے ہی فیصلہ کیا ہے۔

 

عوام میں برہمی ’’ٹی آر ایس حکومت کی الٹی گنتی کا آغاز‘‘
سینئر ٹی آر ایس لیڈر کی کانگریس میں شمولیت، اتم کمار ریڈی کا خطاب

حیدرآباد۔/11اپریل، ( سیاست نیوز) ٹی آر ایس کے سینئر قائد اے ودیا ساگر نے اپنے سینکڑوں حامیوں کے ساتھ آج شام گاندھی بھون پہنچ کر کانگریس میں شمولیت اختیار کی۔ صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی اتم کمار ریڈی نے تحریک تلنگانہ میں حصہ لینے والوں کو نظرانداز کرکے مخالف تلنگانہ طاقتوں کو عہدوں سے نوازنے کا چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ پر الزام عائد کیا۔ گاندھی بھون میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اتم کمار ریڈی نے کہا کہ ٹی آر ایس کی الٹی گنتی شروع ہوگئی، ٹی آر کے پاپ کا گھڑا بھر چکا ہے، سماج کا کوئی بھی طبقہ حکومت کی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہے۔ علحدہ تلنگانہ تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے والوں اور قربانیاں دینے والے قائدین کو اقتدار حاصل ہونے کے بعد چیف منسٹر کے سی آر نے فراموش کردیا۔ تحریک کی مخالفت کرنے والے قائدین کو وزارت میں شامل کرنے کے علاوہ اہم عہدوں سے نوازا گیا ہے۔ انہوں نے50 فیصد آبادی رکھنے والے بی سی طبقات کو ٹی آر ایس حکومت میں نظرانداز کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ 4سال تک بی سی طبقات کی ترقی اور بہبود کو نظرانداز کرنے والے کے سی آر انتخابی مفاد پرستی کیلئے ان کے مسائل پر مگرمچھ کے آنسو بہارہے ہیں۔ ریاست میں جب بھی انتخابات منعقد ہوں گے کانگریس پارٹی بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کرے گی۔ بس یاترا کے بعد ریاست میں ہر طرف کانگریس کی لہر چل رہی ہے۔ ودیا ساگر کی کانگریس میں شمولیت سے مشرقی ورنگل اسمبلی حلقہ میں کانگریس پارٹی مستحکم ہوچکی ہے۔

TOPPOPULARRECENT