Thursday , September 20 2018
Home / شہر کی خبریں / کانگریس کی ٹی آر ایس حکومت کیخلاف بس یاترا

کانگریس کی ٹی آر ایس حکومت کیخلاف بس یاترا

حیدرآباد 20 فروری (سیاست نیوز) صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی اتم کمار ریڈی نے ٹی آر ایس کے لئے مجوزہ بجٹ کو آخری بجٹ قرار دیتے ہوئے کہاکہ کانگریس پارٹی پرانے شہر میں مجلس کے خلاف طاقتور امیدواروں کو انتخابی میدان میں اُتارے گی۔ 26 فروری سے شروع ہونے والی بس یاترا میں سابق مرکزی وزیر فینانس پی چدمبرم اور چیف منسٹر کرناٹک سدارامیا بھی شرکت کریں گے۔ آج گاندھی بھون میں اخباری نمائندوں سے غیر رسمی بات چیت کرتے ہوئے صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی اتم کمار ریڈی نے کہاکہ کانگریس پارٹی ہائی کمان نے مجلس کے خلاف کوئی مروت نہ برتنے کا فیصلہ کیا ہے۔ صدر کانگریس راہول گاندھی سے ان کی جتنی بار بھی ملاقات ہوئی انھوں نے مجلس کے خلاف سخت موقف اپنانے کی ہدایت دی ہے۔ ہائی کمان کے فیصلے کے بعد کانگریس پارٹی پرانے شہر میں مجلس کو شکست دینے کے لئے طاقتور امیدواروں کو انتخابی میدان میں اُتارنے کی تیاری کررہی ہے۔ کئی قائدین کانگریس سے رابطے میں بھی ہیں جن میں مجلس کے قائدین بھی شامل ہیں۔ اتم کمار ریڈی نے کہاکہ 20 فروری 2014 ء کو راجیہ سبھا میں علیحدہ تلنگانہ ریاست کا بل منظور ہوا تھا۔ تقسیم ریاست کے بل میں ریاست تلنگانہ سے کئے گئے وعدوں کو 4 سال مکمل ہونے کے باوجود ٹی آر ایس حکومت حاصل کرنے میں ناکام ہوگئی ہے۔ ایسا لگتا ہے چیف منسٹر کے سی آر وزیراعظم نریندر مودی سے خوفزدہ ہیں۔ وہ ریاست کے لئے ابھی تک لوہے کی فیکٹری، ریلوے کوچ، ایمس اور برقی پلانٹ حاصل کرنے میں ناکام ہوگئے۔ نوبت یہاں تک پہونچ گئی ہے کہ وزیراعظم بھی چیف منسٹر سے ملاقات کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ چیف منسٹر صرف مرکزی وزیر فینانس ارون جیٹلی سے ملاقات کرنے اور ان سے شاباشی حاصل کرنے میں خوش ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ 26 فروری سے ریاست میں کانگریس کی بس یاترا شروع ہوگی۔ بس میں پارٹی کے تمام سینئر قائدین موجود رہیں گے۔ سابق مرکزی وزیر چدمبرم چیوڑلہ میں پرچم لہرا کر بس یاترا کا آغاز کریں گے۔ بس یاترا کے دوران چیف منسٹر کرناٹک سدارامیا بھی شرکت کریں گے۔ اس کے علاوہ پارٹی کے کئی قومی قائدین کی بھی شرکت کا امکان ہے۔ اتم کمار ریڈی نے کہاکہ اضلاع کانگریس صدور کو مقابلہ کرنے سے دور رکھنے کے لئے وہ ان سے تبادلہ خیال کریں گے۔ ان کی راہول گاندھی سے بھی ملاقات کرائی جائے گی۔ اے آئی سی سی میں بھی اس مرتبہ نوجوان قائدین کو نمائندگی دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ کے سی آر نے مسلمانوں کو 12 فیصد اور قبائیلی طبقہ کو 10 فیصد تحفظات فراہم کرنے کے وعدے کو پورا نہیں کیا۔ دلتوں کو تین ایکر اراضی غریبوں کو ڈبل بیڈ روم مکانات فراہم نہیں کئے گئے جس سے عوام میں حکومت کے خلاف ناراضگی پائی جاتی ہے۔ ریاست میں صرف کے سی آر کا خاندان ہی خوش ہے۔ سماج کا ہر طبقہ حکومت کی کارکردگی سے مایوس ہے۔ سنہرے تلنگانہ کے خواب کو پورا کرنے میں ٹی آر ایس حکومت ناکام ہوگئی ہے۔ ملک میں سکریٹریٹ نہ پہونچنے والے کے سی آر واحد چیف منسٹر ہیں۔ وہ تو اُمید کررہے ہیں کہ ڈسمبر میں ہی انتخابات منعقد ہوں گے اور یہ بجٹ کے سی آر حکومت کا آخری بجٹ ہوگا۔

TOPPOPULARRECENT