Monday , October 22 2018
Home / شہر کی خبریں / کانگریس کی پرجا چیتنیہ یاترا مضحکہ خیز کانگریس قائدین سیاسی عہدوں کے لیے کوشاں

کانگریس کی پرجا چیتنیہ یاترا مضحکہ خیز کانگریس قائدین سیاسی عہدوں کے لیے کوشاں

ٹی آر ایس ایم ایل سی کے پربھاکر کا میڈیا سے خطاب
حیدرآباد۔ 22 فبروری (سیاست نیوز) تلنگانہ راشٹریہ سمیتی نے 26 فروری سے شروع ہونے والی کانگریس کی پرجا چیتنیا یاترا کو مضحکہ خیز قرار دیا اور کہا کہ یہ یاترا دراصل کانگریس قائدین کی سیاسی عہدوں کیلئے یاترا ہے۔ اس یاترا کو عوام کی تائید حاصل نہیں ہوگی۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے رکن قانون ساز کونسل کے پربھاکر نے کہا کہ کانگریس چاہے کتنی یاترائیں نکال لیں لیکن تلنگانہ کے عوام اس پر بھروسہ کرنے والے نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ انتخابات میں کانگریس پارٹی کو اپوزیشن کا عہدہ بھی حاصل نہیں ہوگا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ پارٹی میں اپنے عہدے برقرار رکھنے کیلئے اس یاترا کا اہتمام کیا گیا ہے۔ اتم کمار ریڈی پردیش کانگریس کے صدر کی حیثیت سے برقرار رہنے کیلئے بس یاترا کا سہارا لے رہے ہیں۔ انہوں نے کانگریس پر ریاست کی ترقی میں رکاوٹ پیدا کرنے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ کانگریس دور حکومت میں پراجکٹس کو نظر انداز کرنے والے قائدین آج عوام سے ہمدردی کا اظہار کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ محبوب نگر ضلع کو خشک سالی سے متاثرہ ضلع اور لاکھوں افراد کو روزگار کیلئے نقل مقام کیلئے مجبور کرنے کی ذمہ دار کانگریس پارٹی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ تحریک کے دوران مخالف تلنگانہ عناصر کے ساتھ کام کرنے والے قائدین آج جھوٹی ہمدردی ظاہر کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ عوام کانگریس کے ان ڈراموں کو اچھی طرح سمجھتے ہیں اور وہ بس یاترا کی ہرگز تائید نہیں کریںگے۔ بس یاترا کے ذریعہ تلنگانہ کی ترقی میں رکاوٹ پیدا کرنے کا منصوبہ ہے۔ گاندھی بھون دراصل کامیڈی شو کا مرکز ہے اور یہ عوام کے آگے نہیں چلے گا۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت کی ترقیاتی اور فلاحی اسکیمات سے عوام مطمئن ہیں اور وہ ٹی آر ایس کو دوبارہ شاندار کامیابی عطا کریں گے۔ پربھاکر نے محمد علی شبیر کے اس بیان کو مضحکہ خیز قرار دیا جس میں انہوں نے کانگریس قائدین کو سیمی فائنل کے لئے تیار رہنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ میونسپل اور گرام پنچایت کے ضمنی انتخابات میں عوام نے کانگریس کو مسترد کردیا۔ کانگریس قائدین کو چاہئے کہ وہ عوامی فیصلہ کا احترام کرتے ہوئے ریاست کی ترقی میں رکاوٹ بننے سے گریز کریں۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT