Wednesday , December 12 2018

کانگریس کی کامیابی اور ٹی آر ایس کی شکست یقینی : اتم کمار ریڈی

مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات کا وعدہ کب پورا ہوگا ؟ ۔ چیف منسٹر سے سوال ۔ نرسم پیٹ ورنگل میں جلسہ سے خطاب
حیدرآباد۔ 5 اپریل (سیاست نیوز) صدر تلنگانہ پردیش کانگریس اتم کمار ریڈی نے عوام کے چہروں پر خوشحالی بحال کرنے کا وعدہ کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس کی کامیابی نوشتہ دیوار ہے اور ٹی آر ایس کی شکست طئے شدہ امر ہے۔ آج شام نرسم پیٹ ورنگل میں پرجا چیتنیہ بس یاترا کے جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے اتم کمار ریڈی نے کہا کہ ٹی آر ایس کا چار سالہ دور حکومت تلنگانہ کا بدنما داغ ہے جس سے عوام میں مایوسی ہے اور انکے چہروں سے ہنسی ختم ہوگئی۔ سماج کا کوئی طبقہ حکومت کی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہے۔ کسان، خواتین، ایس سی، ایس ٹی، بی سی طبقات، اقلیتوں اور نوجوانوں میں حکومت کے خلاف غم و غصہ کی لہر ہے۔ جن وعدوں کے ذریعہ اقتدار حاصل کیا گیا، ان میں ایک وعدے کو بھی پورا کرنے میں چیف منسٹر کے سی آر کامیاب نہیں ہوئے، سوائے کے سی آر خاندان کے ریاست میں کوئی خوش نہیں ہے۔ ریاست میں جب بھی انتخابات منعقد ہونگے ، کانگریس بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کریگی اور کانگریس حکومت میں خوشیاں عوام کے چہرے پر لوٹ آئیں گی ۔ اتم کمار ریڈی نے کہا کہ کانگریس کی بس یاترا سے حکومت کی اُلٹی گنتی شروع ہوچکی ہے۔ توقع سے زیادہ پرجا چیتنیہ یاترا کامیاب ہونے سے چیف منسٹر کے سی آر کے پیروں تلے زمین کھسک گئی ہے۔

ٹی آر ایس حکومت پر کانگریس کا خوف طاری ہوگیا ہے۔ اسی ڈر کی وجہ سے چیف منسٹر کے سی آر نے کانگریس کے ارکان اسمبلی، ارکان قانون ساز کونسل کو بجٹ سیشن کے اختتام تک معطل کردیا۔ کے سی آر نے کانگریس کے ارکان کو ایوانوں سے باہر کیا ہے۔ ریاست کے عوام آئندہ انتخابات میں ٹی آر ایس کو اقتدار سے بے دخل کریں گے۔ علیحدہ تلنگانہ کی تحریک میں کلیدی رول ادا کرنے والے بیروزگار نوجوانوں کو ٹی آر ایس حکومت نے فراموش کردیا جس سے نوجوانوں میں چیف منسٹر اور تلنگانہ حکومت کے خلاف ناراضگی، برہمی اور نفرت ہے۔ انہیں روزگار فراہم کرنے کی بجائے چیف منسٹر نے اپنے خاندان کے 5 ارکان کو اعلیٰ عہدوں پر فائز کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس حکومت تشکیل پانے کے بعد موجودہ تمام مخلوعہ جائیدادوں پر تقررات کے علاوہ نئی جائیدادوں کو ایجاد کرکے روزگار کے مواقع فراہم کرنے اور بیروزگار نوجوانوں کو روزگار فراہم ہونے تک ماہانہ 3,000 روپئے بیروزگاری بھتہ فراہم کرنے کا وعدہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ پرجا چیتنیہ بس یاترا ابھی تک 23 اسمبلی حلقوں کا احاطہ کرچکی ہے۔ عوام کا ردعمل توقع سے کہیں زیادہ رہا ہے۔ جلسوں کی کامیابی سے یہ انداز ہوگیا کہ عوام تبدیلی چاہتے ہیں۔ کانگریس کی خاموش لہر میں ٹی آر ایس دفن ہوجائے گی۔ اتم کمار نے چیف منسٹر سے استفسار کیا کہ وہ مسلمانوں اور قبائیلیوں سے کئے گئے 12% تحفظات کے وعدے کو کب پورا کریں گے۔ اقتدار کے چار سال مکمل ہونے کے باوجود وعدہ پورا نہ کرنے پر مسلمانوں اور قبائیلی طبقہ میں بھی حکومت کے خلاف ہے۔ دلت طبقات کو وعدے کے مطابق 3 ایکر اراضی نہیں دی گئی۔ انہوں سی اے جی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حکومت عوام کو دھوکہ دے رہی ہے۔ قرض کی آمدنی مرکزی گرانٹ کو سرمایہ کاری، برقی کی خریدی کو پیداوار بتایا جارہا ہے جو شرم کی بات ہے۔ ایس سی، ایس ٹی، بی سی اور اقلیتوں کی فلاح و بہبود کیلئے مختص بجٹ 50% بھی خرچ نہیں کیا گیا۔ ٹی آر ایس حکومت میں تعلیم، صحت کے شعبہ جات بری طرح متاثر ہوگئے۔ ایل کے جی تا پی جی مفت تعلیم فراہم کرنے کا وعدہ کرنے والے کے سی آر اسمبلی میں خانگی یونیورسٹیز کا بل منظور کرکے تعلیم کو تجارت میں تبدیل کرنے کی پہل کرچکے ہیں۔ تحفظات میں توسیع کے اختیارات ریاستوں کو سونپنے کا مطالبہ کرنے والی ٹی آر ایس حکومت تلنگانہ میں قائم ہونے والی خانگی یونیورسٹیز میں تحفظات پر عمل کرنے کیلئے تیار نہیں ہے۔ اس جلسہ عام سے کے جانا ریڈی، محمد علی شبیر، وی ہنمنت راؤ اور ریونت ریڈی کے علاوہ دوسروں نے خطاب کیا۔

TOPPOPULARRECENT