Tuesday , June 19 2018
Home / شہر کی خبریں / کانگریس کے اہم قائدین کو شکست دینے کے سی آر کی منصوبہ بندی

کانگریس کے اہم قائدین کو شکست دینے کے سی آر کی منصوبہ بندی

اتم کمار ریڈی ، جانا ریڈی ، ریونت ریڈی اور وینکٹ ریڈی نشانہ پر، کانگریس کی پیشقدمی روکنے کی کوشش
حیدرآباد ۔ 14 ۔جون (سیاست نیوز) چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے 2019 ء اسمبلی انتخابات میں کانگریس پارٹی سے مقابلہ کی حکمت عملی تیار کرلی ہے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق چیف منسٹر ٹی آر ایس کی دوبارہ کامیابی کو یقینی بنانے کیلئے کانگریس کے اہم قائدین کو شکست دینے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ انہوں نے تلنگانہ کانگریس کے سرگرم اور اہم قائدین کی فہرست تیار کرلی ہے، جنہیں 2019 ء میں نشانہ پر رکھا جائے گا اور ان کی شکست کو یقینی بنانے کی ہر ممکن کوشش کی جائے گی ۔ حالیہ عرصہ میں کانگریس کی بس یاترا کے سبب دیہی علاقوں میں ٹی آر ایس کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ٹی آر ایس حکومت نے اگرچہ عوام کیلئے مختلف نئی اسکیمات کا آغاز کیا ہے لیکن کانگریس نے جس انداز میں حکومت کی ناکامیوں کو اجاگر کیا ، اس سے ٹی آر ایس قائدین الجھن کا شکار ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ کانگریس کے بڑھتے قدم روکنے کیلئے کے سی آر نے اہم قائدین کو ٹارگٹ کرنے کی حکمت عملی تیار کی ہے۔ تاکہ 2019 ء میں کانگریس کیلئے اسمبلی میں کوئی موثر آواز نہ رہے۔ ذرائع نے بتایا کہ 2019 ء میں جن سینئر قائدین کو شکست سے دوچار کرنے کی حکمت عملی تیار کی جارہی ہے ، ان میں صدر پردیش کانگریس اتم کمار ریڈی اسمبلی میں قائد اپوزیشن کے جانا ریڈی نمایاں طور پر شامل ہیں۔ ان کے علاوہ کے سی آر اور حکومت کو وقفہ وقفہ سے نشانہ بنانے والے ریونت ریڈی ، کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی اور پی سی سی کے کارگزار صدر ملو بھٹی ورکرا مارکا کامیاب ہونے سے روکنے کیلئے مضبوط امیدواروں کو میدان میں اتارا جائے گا ۔ بتایا جاتا ہے کہ کانگریس ارکان اسمبلی کے حلقوں میں موجود عوامی ناراضگی کی آڑ میں ٹی آر ایس کیڈر کو متحرک کیا جائے گا ۔ اگرچہ ٹی آر ایس اور کانگریس ارکان اسمبلی کے حلقوں میں کسی نہ کسی حد تک ناراضگی فطری ہے، لیکن ٹی آر ایس قائدین کے حلقوں پر توجہ مرکوز کرے گی ۔ اہم قائدین کے خلاف ٹی آر ایس کے امکانی امیدواروں کے ناموں کو قطعیت دی جارہی ہے۔ ان کی کامیابی کی ذمہ داری متعلقہ اضلاع کے وزراء پر عائد کی جائے گی ۔ صدرپردیش کانگریس اتم کمار ریڈی نے 2014 ء میں حضور آباد اسمبلی حلقہ سے ٹی آر ایس امیدار کے شنکرما کو 24,000 ووٹوں سے شکست دی تھی ۔ اس مرتبہ ٹی آر ایس ان کے مقابلہ میں ایک این آر آئی کو میدان میں اتارنے کی تیاری کرچکی ہے۔ سیدی ریڈی نامی این آر آئی نے حال ہی میں ٹی آر ایس میں شمولیت میں اختیار کی اور پارٹی قیادت انہیں اتم کمار ریڈی کے خلاف مضبوط امیدوار کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ قائد اپوزیشن کے جانا ریڈی نے 2014 ء میں ٹی آر ایس امیدوار این نرسمہیا کو 16000 سے زائد ووٹ سے شکست دی تھی ۔ ناگرجنا ساگر اسمبلی حلقہ سے جانا ریڈی منتخب ہوئے ۔ ٹی آر ایس 2019 ء میں این نرسمہیا کو دوبارہ امیدوار بنانے کی تیاری کرلی ہے۔ نرسمہیا سی پی آئی ایم سے ٹی آر ایس میں شامل ہوئے اور ان کا تعلق بی سی طبقہ سے ہے۔ 1994 ء میں جانا ریڈی کو تلگو دیشم امیدوار جی رام مورتی یادو سے چلکرتی اسمبلی حلقہ میں شکست کا سامنا کرنا پڑا ۔ ٹی آر ایس نے ان کے داماد بی لنگیا یادو کو حال ہی میں راجیہ سبھا کیلئے منتخب کیا ہے۔ ناگرجنا ساگر اسمبلی حلقہ میں یادو طبقہ کے ووٹ اہمیت کے حامل ہیں۔ لہذا لنگیا یادو کو راجیہ سبھا کیلئے منتخب کرتے ہوئے ٹی آر ایس نے جانا ریڈی کے خلاف محاذ آرائی کو تیز کردیا ہے۔ کوداڑ اسمبلی حلقہ میں اتم کمار ریڈی کی شریک حیات شریمتی پدماوتی کے خلاف ٹی آر ایس ششی دھر ریڈی کو دوبارہ امیدوار بنانے کا فیصلہ کرچکی ہے۔ کوڑنگل اسمبلی حلقہ میں ریونت ریڈی کے خلاف پی نریندر ریڈی کو امیدوار بنایا جاسکتا ہے۔ وہ ریاستی وزیر ٹرانسپورٹ مہیندر ریڈی کے بھائی ہیں۔ کھمم کے مدیرا اسمبلی حلقہ میں بھٹی وکرمارکا کے خلاف مضبوط امیدوار کی تلاش ہے۔ اگر تلگو دیشم سے خارج کردہ دلت قائد ایم نرسمہلو ٹی آر ایس میں شمولیت اختیار کرتے ہیں تو انہیں بھٹی کے خلاف ٹکٹ دیا جاسکتا ہے۔ اگر کانگریس پارٹی ڈاکٹر ناگم جناردھن ریڈی کو ناگرکرنول اسمبلی حلقہ سے ٹکٹ دیتی ہے تو ٹی آر ایس کے دامودھر ریڈی کو امیدوار بنائے گی، جنہوں نے حال ہی میں کانگریس سے ٹی آر ایس میں شمولیت اختیار کی ۔ دامودھر ریڈی قانون ساز کونسل کے رکن ہیں جنہوں نے پارٹی میں ناگم جناردھن ریڈی کی شمولیت کے خلاف بطور احتجاج ٹی آر ایس میں شمولیت اختیار کرلی۔

TOPPOPULARRECENT