Wednesday , December 12 2018

کانگریس کے دو ارکان اسمبلی کی رکنیت برخاست، 11 ارکان معطل

(اسمبلی کی تاریخ کا منفرد واقعہ)
گورنر کے خطبہ میں ہنگامہ آرائی پر کارروائی ،احتجاج پر مارشلس کے ذریعہ باہر کردیا گیا

حیدرآباد ۔ 13 ۔مارچ (سیاست نیوز) تلنگانہ قانون ساز اسمبلی میں ارکان کے خلاف کارروائی کے سلسلہ میں آج ایک نئی تاریخ رقم کی گئی ۔ متحدہ آندھراپردیش اور تلنگانہ ریاست میں اسمبلی کی تاریخ کا یہ پہلا موقع ہے جب ایوان میں ہنگامہ آرائی پر اپوزیشن کے دو ارکان کی رکنیت ختم کردی گئی ۔ ملک کی کسی اور اسمبلی میں حکومت کی جانب سے اپوزیشن ارکان کے خلاف اس قدر سخت کارروائی کی، شاید ہی حالیہ عرصہ میں کوئی مثال ملتی ہو۔ اپوزیشن ارکان کی جانب سے گورنر کے خطبہ اور دیگر مواقع پر شور و غل اور ہنگامہ آرائی کوئی نئی بات نہیں لیکن کل تلنگانہ اسمبلی اور کونسل کے مشترکہ اجلاس سے گورنر کے خطاب کے دوران کانگریس کے ارکان کے مبینہ حملہ میں صدرنشین کونسل سوامی گوڑ کی آنکھ زخمی ہوئی تھی اور انہیں ہاسپٹل میں شریک کیا گیا۔ اس واقعہ کو بنیاد بناکر کانگریس کے دو ارکان کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی اور اے سمپت کمار کی رکنیت ختم کرتے ہوئے قرارداد منظور کی گئی۔ دونوں ارکان اسمبلی کی اسمبلی کی رکنیت برخاست کردی گئی اور اس سلسلہ میں وزیر امور مقننہ ٹی ہریش راؤ نے قرارداد پیش کی جسے ندائی ووٹ سے منظور کرلیا گیا۔ اپوزیشن بی جے پی اور مجلس نے حکومت کی قرارداد کی تائید کی۔ ایوان میں کل پیش آئے واقعہ کا حکومت نے سخت نوٹ لیا ہے۔

آج جیسے ہی اسمبلی کی کارروائی شروع ہوئی، وزیر امور مقننہ ہریش راؤ نے دو علحدہ قراردادیں پیش کیں۔ پہلی قرارداد میں کانگریس کے 11 ارکان اسمبلی کو کل ایوان میں گڑبڑ اور ہنگامہ آرائی کے لئے اسمبلی کی باقی مدت تک ایوان سے معطلی کی سفارش کی جبکہ دوسری قرارداد میں کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی اور سمپت کمار کی رکنیت برخاست کرنے کی سفارش کی گئی۔ اسپیکر مدھوسدن چاری نے ندائی ووٹ سے دونوں قراردادوں کو منظوری کا اعلان کیا۔ ٹی آر ایس اور اپوزیشن جماعتوں نے قرارداد کی تائید کی جبکہ کانگریس کے ارکان مخالفت میں احتجاج کرنے لگے۔ اسپیکر نے رکنیت سے خارج اور اسمبلی سے معطل ارکان سے اپیل کی کہ وہ ایوان سے باہر نکل جائے لیکن کانگریس کے ارکان اپنی نشستوں پر برقرار رہیں۔ اسپیکر نے مارشلس کو ایوان میں طلب کرلیا ۔ مارشلس اور بعض کانگریسی ارکان میں بحث و تکرار ہوئی، آخر کار تمام معطل ارکان کو مارشلس نے ایوان کے باہر پہنچا دیا ۔ قائد اپوزیشن جانا ریڈی ، ڈاکٹر جے گیتا ریڈی ، جیون ریڈی اور اتم کمار ریڈی اپنے طور پر ایوان سے چلے گئے۔ قرارداد کے خلاف اظہار خیال کا موقع دیئے جانے کا جانا ریڈی اور اتم کمار ریڈی نے مطالبہ کیا لیکن انہیں مائیک نہیں دیا گیا۔ اسپیکر مدھوسدن چاری نے کہا کہ تلنگانہ ریاست کے 4 برسوں میں یہ اب تک کا بدبختانہ واقعہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ اسمبلی کی مثالی کارکردگی کی دیگر ریاستوں کی جانب سے ستائش کی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پریسائیڈنگ آفیسرس کی کانفرنس میں مختلف ریاستوں میں تلنگانہ اسمبلی کی کارروائی کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ کل جس طرح صدرنشین کونسل سوامی گوڑ کی آنکھ متاثر ہوئی ہے، اس واقعہ سے انہیں دکھ پہنچا۔ اسپیکر نے کہا کہ وہ صدرنشین کونسل پر حملے سے صدمہ کا شکار ہوچکے ہیں۔ بی اے سی اجلاس میں کارروائی کی ویڈیو ریکارڈنگ دیکھنے کے بعد مناسب قدم اٹھانے اسپیکر کو اختیار دیا گیا تھا ۔ لہذا وہ ویڈیو ریکارڈنگ دیکھنے کے بعد اس نتیجہ پر پہنچے کہ صدرنشین کونسل پر حملہ منصوبہ بند انداز میں کیا گیا ۔ مارشلس کی جانب سے کانگریس کے دو برطرف اور 11 معطل ارکان کو ایوان سے باہر لے جانے کے بعد چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ اور مجلس اور بی جے پی کے فلور لیڈرس نے کانگریسی ارکان کے خلاف کارروائی کی تائید کی۔ کانگریس کے جن ارکان کو اسمبلی کی باقی مدت کیلئے معطل کیا گیا، ان میں قائد اپوزیشن جانا ریڈی ، جیون ریڈی ، گیتا ریڈی ، چنا ریڈی ، اتم کمار ریڈی ، ڈی کے ارونا ، بھٹی وکرمارکا ، رام موہن ریڈی ، ومشی چندر ریڈی، پدماوتی اور مادھو ریڈی شامل ہیں۔

TOPPOPULARRECENT