Wednesday , December 12 2018

کانگریس کے دو نوجوان قائدین کے جھگڑے پر پردیش کانگریس کا سخت نوٹ

ومشی چندر ریڈی اور وشنووردھن ریڈی سے پنالہ لکشمیا اور جاناریڈی کی بات چیت

ومشی چندر ریڈی اور وشنووردھن ریڈی سے پنالہ لکشمیا اور جاناریڈی کی بات چیت
حیدرآباد ۔ 13 ڈسمبر (سیاست نیوز) کانگریس کے دو نوجوان قائدین کے جھگڑے کا پردیش کانگریس کمیٹی نے سخت نوٹ لیا ہے۔ کئی سینئر قائدین نے مداخلت کرتے ہوئے صلح صفائی کی کوشش کی ہے۔ تاہم دونوں قائدین اپنے اپنے موقف پر اٹل ہیں اور قانونی طور پر ایک دوسرے کے خلاف کارروائی کرنے کا اعلان کررہے ہیں۔ واضح رہے کہ کل تلنگانہ یوتھ کانگریس کے صدر و رکن اسمبلی مسٹر ومشی چند ریڈی اور سابق رکن اسمبلی جوبلی ہلز مسٹر وشنو وردھن ریڈی کے درمیان جھگڑا ہوگیا تھا۔ صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی مسٹر پنالہ لکشمیا نے دونوں نوجوان قائدین سے ٹیلیفون پر بات چیت کی۔ تنازعہ کی وجوہات حاصل کرتے ہوئے پارٹی کے وقار کو متاثر کرنے کے خلاف انتباہ دیا اور آپسی بات چیت کے ذریعہ مسئلہ کو حل کرنے کا مشورہ دیا۔ قائد اپوزیشن مسٹر کے جاناریڈی سکریٹری اے آئی سی سی و رکن راجیہ سبھا مسٹر وی ہنمنت راؤ نے بھی ٹیلیفون پر دونوں قائدین سے بات چیت کی۔ سابق رکن اسمبلی مسٹر وشنو وردھن ریڈی نے کانگریس کے رکن اسمبلی مسٹر ومشی چند ریڈی نے انہیں اشتعال دلانے کے علاوہ بدکلامی کرنے اور ان کے گن مین کی جانب سے بندوق کنپٹی پر لگانے پر ان کا ہاتھ اٹھ جانے کا دعویٰ کیا اور کہا کہ وہ آنجہانی قائد پی جناردھن ریڈی کے فرزند ہیں۔ ڈرنے گھبرانے والے نہیں ہیں۔ مسٹر ومشی چند ریڈی سے میدان میں آر پار کی لڑائی لڑنے یا ضلع محبوب نگر پہنچ کر ان کے اسمبلی حلقہ میں بھی سامنا کرنے کیلئے تیار ہیں۔ وہ ومشی چند ریڈی کے خلاف کانگریس پارٹی ہائی کمان سے شکایت کرچکے ہیں ساتھ ہی ان کے خلاف قانونی کارروائی بھی کریں گے۔ انہوں نے کانگریس کے قائد اپوزیشن مسٹر کے جاناریڈی پر صبروتحمل کا مظاہرہ کرنے اور غیرجانبدار رہنے کا مشورہ دیا۔ کانگریس کے رکن اسمبلی و صدر یوتھ کانگریس مسٹر ومشی چند ریڈی نے کہا کہ وہ جھگڑے کی وجہ ابھی تک سمجھ نہیں پائے ہیں۔ انہوں نے کوئی حملہ نہیں کیا ہے۔ سی سی کیمرے کے فوٹیج گواہی دیں گے کہ کون صحیح اور کون غلط ہے۔ کانگریس ہائی کمان سے وشنو وردھن ریڈی کے خلاف شکایت کرنے کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہم دونوں کے درمیان جو جھگڑا ہوا ہے اس سے کانگریس پارٹی کا کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ ہی اس تنازعہ میں پارٹی کو درمیان میں کھینچنے کا کوئی ارادہ رکھتے ہیں۔ وہ وشنو کے خلاف قانونی کارروائی کریں گے۔ ان پر ڈاکٹر راج شیکھر ریڈی کے کٹر حامی ہونے اور ریلانس اسٹورس پر حملہ میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔

TOPPOPULARRECENT