Wednesday , May 23 2018
Home / Top Stories / کانگریس کے لئے علاقائی جماعتوں سے اتحاد کا ایک واضح اشارہ۔

کانگریس کے لئے علاقائی جماعتوں سے اتحاد کا ایک واضح اشارہ۔

New Delhi: Congress Vice President Rahul Gandhi and West Bengal Chief Minister Mamata Banerjee during their joint press conference on demonetization issue in New Delhi on Tuesday. PTI Photo by Manvender Vashist(PTI12_27_2016_000162B)

نئی دہلی ۔کرناٹک الیکشن کے نتائج سے یہ با ت صا ف ہوگئی ہے کہ ترنمول کانگریس‘ این سی پی‘ ڈی ایم کے اور لفٹ کانگریس سے کہہ رہے ہیں کہ وہ دیوار پر لکھی ہوئی تحریری کا مطالعہ لریں اور رعلاقائی پارٹیوں سے مفاہمت کرلیں تاکہ بی جے پی سے مقابلہ کیاجاسکے۔

کانگریس کے اندر بہادری اور بھروسہ کا احساس منگل کے روز نظر آیاجب اعداد وشمار کرناٹک سے سامنے ائے۔ یہاں تک کہ پارٹی کی قیادت اس بات پر غور وفکر کررہی تھی اور ساتھی کہہ رہے تھے کہ کانگریس کو ’’ سچائی کا سبق ‘‘ پڑھنا لینا چائے کہ2019میں بی جے پی سے مقابلے کے لئے علاقائی پارٹیوں سے مفاہمت کی تیار کرلینا چاہئے۔ان کا کہنا ہے کہ پارٹی اتحاد کی قیادت کرے مگر بنا ء کسی شرط کے ۔

این سی پی کا کہنا ہے کہ کانگریس فی الحال وزیراعظم کے امیدوار کے مسئلے پر بات نہیں کرے ۔کرناٹک نتائج کے جائزہ میں کانگریس لیڈر ایک بڑا پیغام کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ جو ماحول گجرات الیکشن کے بعد پارٹی کے لئے بناتھا وہ کہیں گم ہوگیا ہے۔ راجستھان‘مدھیہ پردیش او رچھتیس گڑہ میں اندرون ایک یا دوماہ الیکشن ہونے والے ہیں اور اگلے ساتھ لوک سبھا کی بڑی لڑائی بھی ہے ‘ تو پارٹی اپنی حکمت عملی کی تیاری میں دیکھائی دے رہی ہے۔

مدھیہ پردیش میں پارٹی کی بی ایس پی سے انتخابی مفاہمت پر بھی تبادلہ خیال کی ضرورت ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کانگریس میں کئی لوگ اسی طرح کی سونچ رکھتے ہیں۔کم سے کم تین سابق مرکزی وزراء نے راہول گاندھی کے کام کرنے کے طریقے پر سوال اٹھایا۔ پارٹی کے ایک سینئر لیڈر نے کہاکہ ’’ پارٹی کے سینئر لیڈر ان جیسے غلام نبی آزاد‘ اومن چانڈی‘ ترون گوگوئی ‘ احمد پٹیل‘ وہ حکمت عملی کا حصہ بنتے ‘ جے ڈی ( ایس) کی جن سیٹوں پر مدد کی جاسکتی ہے اس کی نشاندہی کرتے اس کے بدلے میں انہیں کچھ سیٹوں پر مدد ملتی۔کے سی وینوگوپال یہ سب نہیں کرسکتے تھے۔

سدارامیہ جے ڈی ( ایس) کے ساتھ اتحاد کے خلاف تھے کیونکہ وہ اپنے سوائے کسی کو چیف منسٹر بننے نہیں دینا چاہارہے تھے‘ اعلی کمان کو ان کے تما م چیزوں کاجائزہ لینا چاہئے تھا۔ راہول گاندھی نے بی جے پی سے زیادہ جے ڈی( ایس ) کو اپنی تقریروں میں نشانہ بنایاتھا۔ سدارامیہ نے پوری طرح ان کے ذہن پر حاوی ہوگئے تھے۔ الیکشن کوئی بچو ں کا کھیل نہیں ہے‘‘۔کانگریس لیڈرس کا کہنا ہے کہ جے ڈی( ایس) کی حمایت کرتے تو یہ ایک بہتر پیغام ہوتا۔

پارٹی کے ایک سینئر لیڈر نے کہاکہ’’ یہ وہ پیغام ہے جو سونیا گاندھی نے دینے کی کوشش کی ‘ یہ اس لئے کہ ہم بی جے پی کو اقتدار سے دور رکھنے کے لئے کچھ بھی کرسکتے ہیں‘‘۔ سابق مرکزی وزیر کے وی تھامس نے کہاکہ’’کانگریس تمام ڈیموکرٹیک‘ سکیولر او رمخالف بی جے پی پارٹیوں کو متحدکرنے کی ذمہ دار اٹھائے اور یہ نہایت منظم ہونی چاہئے۔

ہماری منصوبہ سازی ریاست در ریاست تبدیل ہوتی رہے گی۔ یہ نہ صرف قومی سطح پر ہوگی بلکہ علاقائی خطوط پر بھی کی جائے گی۔ مثال کے طور پر کیرالا میں کانگریس اور سی پی ائی( ایم) ایک ساتھ نہیں آسکتے مگر کیرالا کے باہر تو ایک ساتھ ہوسکتے ہیں۔

اسی طرح ممتا بنرجی اور شرد پوار‘ کانگریس آگے ہی رہے گی‘‘۔ مغربی بنگال کی چیف منسٹر اور ٹی ایم سی کی سربراہ ممتا بنرجی نے ٹوئٹ کے ذریعہ کہاکہ’’ اگر کانگریس نے جنتادل(سکیولر) کے ساتھ اتحاد کیاہوتاتو نتائج بلکل ہی الگ پوری الگ ہوتے‘‘۔این سی پی ‘ ڈی ایم کے اور لفٹ کو منظور ہے۔

ّ ؁ سی پی ائی جنرل سکریٹری ایس سدھاکر ریڈی نے کہاکہ’’ ہم یہ کہتے آرہے ہیں بی جے پی کوشکست دینے کے لئے سکیولر پارٹیوں میں اتحاد ضروری ہے۔ کانگریس کو اپنے آپ پر بہت زیادہ بھروسہ ہے ۔ او راس نے کوئی پہل نہیں کی۔ افسوس کی بات ہے کہ انہو ں نے سابق سے کوئی سبق حاصل نہیں کیا۔ بڑی پارٹی ہونے کی سبب اور کرناٹک کی برسراقتدار پارٹی ہونے کی وجہہ سے انہیں سکیولر پارٹیوں کے ساتھ مفاہمت کی پہل کرنے چاہئے تھی ۔

یہ تھا یا نہیں مگر انہیں جے ڈی(ایس) کے ساتھ کوشش کرنی چاہئے تھی‘‘۔ڈی ایم کے ٹی ے ایس ایلن گوان نے کہاکہ ’’ کانگریس کا جے ڈی ( ایس) کے ساتھ الائنس ہونا چاہئے تھا۔پارٹی کے ساتھ مسلئے یہ ہے کہ وہ سب کچھ چاہتی ہے۔ وہ جے ڈی ( ایس) سے کہتے تم اپنی طاقت کا مظاہرہ کرو ‘ ہم تمہیں مدد کریں گے اور پارلیمنٹ میں ہمیں زیاہ سیٹیں چاہئے۔

یہ 2019میں ان کے لئے مددگار ثابت ہوتا۔میرا کانگریس پارٹی کو مشورہ ہے کہ بہت کم ریاستیں ہیں جہاں پر علاقائی پارٹیوں کی اجارہ داری ہے ‘ وہاں پرعلاقائی پارٹیوں کو بڑا حصہ دیں او رپارلیمنٹ الیکشن میں اپنی حصہ داری کو بڑھائیں‘‘۔ اسی طرح کی باتیں این سی پی کے طارق انور نے کہاکہ اس وقت کانگریس کوبی جے پی سے زیادہ ووٹ ملیں گیں‘‘۔انہوں نے کہاکہ ’’ یہ ناتو پارٹی کی شکست ہے او رنہ ہی قیادت کی ہار۔

جے ڈی( ایس) کے ساتھ مفاہمت بہتر کام کرتی۔ علاقائی پارٹیوں کی اہمیت کو فراموش نہیں کیاجاسکتا اور کانگریس کو چاہئے کہ تمام اپوزیشن ‘ تما م علاقائی پارٹیوں میں کو اعتماد میں لیں اور ان کے ساتھ اتحاد کریں۔ اگر بی جے پی کوشکست فاش کرنا ہے تو ‘ تم( کانگریس) کو علاقائی پارٹیوں کے ساتھ جانا ہوگا‘‘۔تاہم انہوں نے کہاکہ کانگریس کے بغیر کوئی اتحاد کا تصوئیر ممکن نہیں ہے۔

TOPPOPULARRECENT