Wednesday , December 13 2017
Home / اداریہ / کانگریس کے لیے مواقع

کانگریس کے لیے مواقع

کانگریس کے لیے سال 2019 کے عام انتخابات ایک اہم تبدیلی کا موقع ثابت ہوسکتے ہیں ۔ موجود حکمراں پارٹی بی جے پی کی پالیسیوں نے کانگریس قیادت کو عوام کو قریب لانے میں مدد کی ہے ۔ نائب صدر کانگریس راہول گاندھی کو بچہ سمجھ کر اقتدار تک رسائی حاصل کرنے والی بی جے پی قیادت کو اب اس بچہ سے خوف ہوتا دکھائی دے رہا ہے ۔ گجرات میں راہول گاندھی کے روڈ شوز اور جلسوں سے ظاہر ہورہا ہے کہ گجرات کے عوام میں ایک طویل عرصہ بعد تبدیلی کی آرزو جاگ رہی ہے ۔ گذشتہ ماہ امریکہ کا دورہ کرتے ہوئے راہول گاندھی نے بیرون ملک کانگریس کی پالیسیوں اور اس کے دیرینہ تجربات کا ذکر کرتے ہوئے مرکز کی نریندر مودی زیر قیادت بی جے پی حکومت کی خرابیوں سے این آر آئیز کو واقف کروانے میں کامیابی حاصل کی تھی جس کے بعد سے اندرون ملک راہول گاندھی کو غور سے سنا جانے لگا ہے ۔ 2019 کے انتخابات ہی راہول گاندھی اور کانگریس کے لیے اصل آزمائش ثابت ہوں گے ۔ اس سے قبل کانگریس کے سامنے گجرات کے علاوہ دیگر پانچ ریاستوں ، ہماچل پردیش ، کرناٹک ، مدھیہ پردیش ، راجستھان اور چھتیس گڑھ میں بی جے پی سے سخت نبرد آزما ہونا ہے ۔ مودی حکومت کے خلاف ایک مضبوط اپوزیشن کا رول ادا کرنے میں ناکام کانگریس کے اندر حالیہ ناندیڑ بلدی انتخابات میں کامیابی اور پنجاب کے گرداسپور لوک سبھا ضمنی انتخاب میں ہونے والی جیت سے حوصلہ ملا ہے ۔ کسی بھی جمہوریت میں اپوزیشن کا وجود ایک اچھی حکمرانی کا ضامن ہوتا ہے مگر بی جے پی نے کانگریس کو ایک کمزور اور اپوزیشن کے طور پر دیکھنا شروع کیا تھا ۔ اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ کانگریس نے 2014 کے انتخابات میں بدترین ہزیمت کے بعد خود کو مزید کمزور کرلیا تھا ۔ پارٹی قیادت میں تبدیلی اور پارٹی ورکرس میں نئی جان ڈالنے کی تجاویز پر غور ہونے لگا تاہم اب تک بھی پارٹی نے اپنے اندر تنظیمی صلاحیتوں اور نوجوانوں ، قائدین کو آگے بڑھنے کا موقع دینے کا فیصلہ ہی نہیں کیا ہے ۔ اقتدار کے حصول کے لیے مودی زیر قیادت بی جے پی نے جس طرح کا طریقہ کار اختیار کیا تھا اس کے نتیجہ میں بی جے پی کو اقتدار حاصل ہوا مگر بی جے پی یہ طریقہ کار عوام کو کچھ دنوں بعد کانٹے کی طرح چھبنے لگاہے ۔ نوٹ بندی اور جی ایس ٹی نے بی جے پی کے تعلق سے غور کرنے کا موقع فراہم کیا ۔ ایک محدود ذہن نا اہل اور خود غرض حکمرانوں کی حکومتیں ہمیشہ عوام کو بہت مہنگی پڑتی ہیں ۔ بی جے پی بھی عوام کو اب مہنگی پڑ رہی ہے ۔ بی جے پی قیادت کے درباریوں اور خوشامد پسند حواریوں نے مل کر حکومت تو بنالی تھی مگر اچھے دن کے خواب پورے نہیں کئے ۔ یہی وجہ ہے کہ کانگریس کی ساکھ کے احیا کی راہ ہموار ہوگئی ہے ۔ ایسے میں کانگریس کے لیے وقت آگیا ہے کہ وہ خود احتسابی کے ذریعہ تنظیمی انتخابات کروانے اور ایک منطقی نتیجہ پر پہونچکر راہول گاندھی کی ہمہ رخی صلاحیتوں کو مزید بہتر بنائے۔ بی جے پی نے اقتدار کے حصول کا نشانہ مقرر کر کے اپنی صف کو نوجوان قائدین سے مکمل کیا تھا ۔ کانگریس اب تک پسماندہ طبقات کے ووٹ حاصل کرتی رہی ۔ مگر ان طبقات سے تعلق رکھنے والی نوجوان نسل میں قائدانہ صلاحیتوں کو فروغ نہیں دیا ۔ خاص کر مسلمانوں کو پارٹی کے قریب کرنے مسلم قائدین کو اہم مقام فراہم نہیں کیا جب کہ بی جے پی نے ایک منظم طریقہ سے اپنے نظریات کے حامل نوجوان قائدین کو آگے بڑھنے کا موقع دیا ۔ جس کی مثال یو پی کے چیف منسٹر آدتیہ ناتھ یوگی سے دی جاسکتی ہے ۔ بی جے پی نے ہندی پٹی والی ریاستوں جیسے بہار اور یو پی میں خاص توجہ دے کر خود کو مضبوط بنانے میں کسی حد تک کامیاب ہوئی اب انہی ریاستوں میں کانگریس کو مضبوط بنانے کے لیے ضروری ہے کہ کانگریس کی مرکزی قیادت میں فیصلے کرنے کی جرات پیدا ہوجائے ۔ معیشت کی ابتری کے چیلنجس کا سامنا کرنے والی بی جے پی حکومت کے سامنے آیا کانگریس متبادل طاقت بن کر ابھرے گی ۔ یہ پارٹی کی قیادت کی صلاحیتوں پر منحصر ہے ۔ ایک قابل اور بھروسہ مند اپوزیشن پارٹی بن کر کانگریس کو عوام کے توقعات پورا کرنے کے جذبے کے ساتھ مہم شروع کرتی ہے تو آئندہ عام انتخابات تک فرقہ پرستوں کے وجود کو بڑا خطرہ پیدا کرسکتی ہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT