Saturday , September 22 2018
Home / شہر کی خبریں / کانگریس کے مسلم قائدین میں اتحاد کا فقدان سے ٹکٹوں میں نا انصافی

کانگریس کے مسلم قائدین میں اتحاد کا فقدان سے ٹکٹوں میں نا انصافی

متحدہ نمائندگی کے بجائے علحدہ فہرستیں ، کانگریس کی ٹال مٹول پالیسی

متحدہ نمائندگی کے بجائے علحدہ فہرستیں ، کانگریس کی ٹال مٹول پالیسی

حیدرآباد ۔ 3 ۔ اپریل : ( سیاست نیوز ) : کانگریس کے مسلم قائدین میں اتحاد کے فقدان سے ٹکٹوں کی تقسیم میں مسلمانوں کے ساتھ نا انصافی ہورہی ہے ۔ متحدہ طور پر نمائندگی کرنے کے بجائے اہم قائدین نے ہائی کمان کو علحدہ علحدہ فہرستیں پیش کی ہیں ۔ سیکولرازم کی علمبردار ہونے اور اقلیتوں کے مفادات کا تحفظ کرنے کی دہائی دینے والی کانگریس کمیٹی ٹکٹوں کی تقسیم کے معاملے میں مسلمانوں کے ساتھ انصاف نہیں کررہی ہے ۔ کانگریس کے ٹاون پریسیڈنٹ سے آل انڈیا کانگریس پارٹی کے پریسیڈنٹ مسز سونیا گاندھی تک مسلمانوں کے ووٹ حاصل کرنے کے لیے بلند بانگ دعوے کرتے ہیں مگر ٹکٹوں کی تقسیم میں مسلمانوں کو نظر انداز کردیا جاتا ہے ۔ پردیش کانگریس کی صدارت ، تشہیری کمیٹی کی صدارت ، منشور کمیٹی کی صدارت کرکے لیے ایس سی ، ایس ٹی بی سی طبقات کو اہمیت دی جاتی ہے ۔ ان عہدوں پر دعویدار رہنے کے باوجود مسلمانوں کو اہمیت نہیں دی جاتی کم از کم اسمبلی اور لوک سبھا کے ٹکٹوں کے لیے بھی مسلمانوں کے ناموں پر غور نہیں کیا جارہا ہے ۔ پڑوسی ریاست کرناٹک کے عام انتخابات میں کانگریس کے تمام مسلم قائدین نے اتفاق رائے سے کانگریس پارٹی ہائی کمان کو 22 نام پیش کئے تو ہائی کمان نے 18 مسلم قائدین کو اسمبلی کا ٹکٹ دیا ۔

حالیہ راجیہ سبھا کے انتخابات میں کانگریس پارٹی نے عددی طاقت کم ہونے کی وجہ سے ایک ایس سی اور ایک ایس ٹی قائد کو دوبارہ راجیہ سبھا کے لیے نامزد نہیں کیا تاہم اسمبلی کی نمائندگی کرنے والے ایس سی ، ایس ٹی طبقات کی نمائندگی کرنے والے تمام ارکان اسمبلی تلنگانہ متحدہ آندھرا کی تحریک کے دوران علاقائی سطح سے بالاتر ہو کر متحد ہوگئے اور راجیہ سبھا کی رائے دہی میں حصہ لینے سے انکار کردیا ۔ اس وقت چیف منسٹر کے علاوہ کانگریس ہائی کمان فوری متحرک ہوگئی اور ایس سی ، ایس ٹی طبقات کے قائدین کو گورنر کوٹہ میں کونسل کے لیے انتخاب کرنے کا تیقن دیا تب پسماندہ طبقات کے ارکان اسمبلی نے کانگریس کے امیدواروں کا ساتھ دیا ہے ۔ ایسی کئی مثالیں جس سے سبق حاصل کیا جاسکتا ہے دہلی میں ایس سی ایس ٹی اور بی سی طبقات کے قائدین متحد ہو کر اپنے اپنے طبقے کے لیے ٹکٹوں کی مانگ کررہے ہیں مگر مسلم قائدین ابھی تک بھی متحد نہیں ہوئے ہیں ۔ کانگریس کے مسلم قائدین مسرس محمد علی شبیر ، محمد فرید الدین ، ایم اے خاں ، عابد رسول خاں اور محمد سراج الدین نے حیدرآباد میں ریاستی قائدین اور دہلی میں ہائی کمان سے علحدہ علحدہ ملاقات کرتے ہوئے مسلمانوں کو ٹکٹس دینے کی نہ صرف نمائندگی کی بلکہ چند حلقوں کے لیے مسلم قائدین کے ناموں پر مشتمل فہرست بھی پیش کی ہے ۔ مگر اتحاد کا فقدان ہونے کی وجہ سے ہائی کمان ٹال مٹول کی پالیسی اپنا رہی ہے ۔ 2009 کے عام انتخابات میں سوائے حیدرآباد سے مجلس کے ٹکٹ پر مسلمانوں کی کامیابی کے تلنگانہ کے کسی بھی اضلاع سے ایک بھی مسلم امیدوار کامیاب نہ ہوسکا 20 تا 40 فیصد مسلم رائے دہندے والے کئی اسمبلی حلقہ ہیں مگر کانگریس پارٹی ان حلقوں پر مسلم قائدین کو اہمیت دینے کے لیے تیار نہیں ہے ۔ ریاستی قیادت اور مقامی قائدین مسلمانوں کو ٹکٹ دینے پر ہار جانے کا دعویٰ کرتے ہوئے ہائی کمان کے سامنے رپورٹس پیش کررہے ہیں ۔۔

TOPPOPULARRECENT