Wednesday , June 20 2018
Home / شہر کی خبریں / کاٹے دھن اور گگن پہاڑ علاقہ میں آئیل مافیا سرگرم

کاٹے دھن اور گگن پہاڑ علاقہ میں آئیل مافیا سرگرم

اَن ریفائینڈ تیل کی تیاری، ہوٹلس اور کرانہ شاپس کو فروخت ، متعلقہ عہدیداروں کی چشم پوشی

اَن ریفائینڈ تیل کی تیاری، ہوٹلس اور کرانہ شاپس کو فروخت ، متعلقہ عہدیداروں کی چشم پوشی
حیدرآباد 15 فروری (ایجنسیز) کاٹے دھن اور گگن پہاڑ میں واقع آئیل ملز ایک عرصہ دراز سے ان ریفائینڈ آئیل کی تیاری کیلئے اہم مرکز بنے ہوئے ہیں جوکہ ویجیٹیبل آئیل برانڈس کے مینوفیکچررس کو بطور خام میٹرئیل سربراہ کیا جاتا ہے۔ نیز آئیل مافیا کی جانب سے اس علاقہ میں ہوٹلس اور کرانہ شاپس کو ان ریفائینڈ آئیل فروخت کیا جاتا ہے اور متعلقہ عہدیدار اس پر چشم پوشی کا رویہ اختیار کئے ہوئے ہیں۔ ان ریفائینڈ تیل کی ٹینکرس میں ویجیٹیبل آئیل کمپنیوں کو روانہ کیا جاتا ہے اور عام طور پر بنگلورو ہائی وے پر یہ ہوتا ہے۔ قریب میں رہنے والے مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اکثر بعض گاڑیاں رُخ تبدیل کرکے منتخب گلیوں اور کوچوں کی طرف جاتی ہیں جہاں 20 ٹن آئیل کو 20 لیٹر ڈرمس میں منتقل کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد 20 لیٹرڈرمس ؍ کیانس اس علاقہ میں ہوٹلس اور کرانہ شاپس کو سربراہ کئے جاتے ہیں۔ حالانکہ ان ویانس کو پولیس کی جانب سے اکثر راستہ میں روکا جاتا ہے پھر بھی چند ہی گاڑیوں کو مبینہ طور پر ضبط کیا جاتا ہے۔ جوکہ ایک سینئر سٹیزن کے مطابق ایک علامتی اقدام ہوتا ہے۔ چھوٹے دوکاندار بھی ان ریفائینڈ تیل فروخت کرتے ہیں۔ اس علاقہ میں ہر کرانہ شاپ کی جانب سے سیمی ریفائینڈ تیل کے 20 لیٹر ڈرم کو 400 روپئے میں خریدا جاتا ہے اور 80 روپئے فی لیٹر فروخت کیا جاتا ہے۔ اس طرح ہر ڈرم پر 1000 روپئے سے زیادہ کا منافع حاصل کیا جاتا ہے۔ جس میں آئیل مافیا اور کرانہ شاپ مالک کا حصہ ہوتا ہے۔ اس میں ہر ٹینکر سے یومیہ دس لاکھ روپئے تک منافع ہوتا ہے۔ کاٹے دھن علاقہ کے ایک اور عمر رسیدہ شخص نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ اسٹریٹ، اسمارٹ انٹرپرینئرس عرصہ دراز سے اس طریقہ کار کو اختیا رکررہے ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ چند آئیل کمپنیوں کا آئیل مافیا کے ساتھ ساز باز ہے۔ کاٹے دھن میں ایک آئیل کمپنی کے مالک نے بتایا کہ ویجیٹیبل آئیل تیار کرنے والی کمپنیاں اب ہم سے خریداری نہیں کررہی ہیں۔ جب فوڈ انسپکٹرس سے ربط پیدا کیا گیا تو اُنھوں نے بتایا کہ اب تک کوئی باضابطہ شکایت درج نہیں کرائی گئی۔ پی چندرشیکھر ایم آر او راجندر نگر سرکل نے کہاکہ اس بات کو ہمارے علم میں لایا گیا ہے کہ سیمی کروڈ آئیل کو فروخت کرنے والا آئیل مافیا کاٹے دھن اور گگن پہاڑ علاقہ میں سرگرم ہے۔ ہم کو اس سلسلہ میں شکایتیں موصول ہوئی ہیں اور ہم نے اس علاقہ میں فوڈ انسپکٹرس اور پولیس کو چوکس کردیا ہے۔ ہم اس مافیا کے خلاف سخت کارروائی کریں گے۔

TOPPOPULARRECENT