Wednesday , December 12 2018

کاچی گوڑہ ریلوے اسٹیشن سے اردو غائب

حیدرآباد ۔ 18 ۔ فروری : ( نمائندہ خصوصی ) : برصغیر ہند کی سب سے میٹھی زبان کو تعصب اور جانبداری کے ذریعہ اس کے مستحقہ مقام سے محروم کرنے کی کوششیں آزادی کے بعد سے ہی کی جارہی ہیں ۔ ماضی کے دور میں جتنے بھی سرکاری ادارے ، محکمہ جات ، پولیس اسٹیشن بس اور ریلوے اسٹیشن قائم کئے گئے تھے ۔ ان تمام مقامات پر دیگر زبانوں کے ساتھ ساتھ اردو زبان میں

حیدرآباد ۔ 18 ۔ فروری : ( نمائندہ خصوصی ) : برصغیر ہند کی سب سے میٹھی زبان کو تعصب اور جانبداری کے ذریعہ اس کے مستحقہ مقام سے محروم کرنے کی کوششیں آزادی کے بعد سے ہی کی جارہی ہیں ۔ ماضی کے دور میں جتنے بھی سرکاری ادارے ، محکمہ جات ، پولیس اسٹیشن بس اور ریلوے اسٹیشن قائم کئے گئے تھے ۔ ان تمام مقامات پر دیگر زبانوں کے ساتھ ساتھ اردو زبان میں بھی بورڈ نصب کئے گئے تھے جس میں سے آج بھی مختلف مقامات پر اس کے محض آثار دیکھے جاسکتے ہیں چونکہ اکثر مقامات پر سے منظم انداز سے اردو زبان پر مبنی تختیوں کو ہٹا دیا گیا ہے ۔ المیہ یہ ہے کہ اردو زبان کے ساتھ تعصب اور شرپسندی کا یہ سلسلہ مسلسل جاری ہے اور اسی تسلسل کی ایک کڑی ، کاچی گوڑہ ریلوے اسٹیشن کی تاریخ پر مبنی 10 فٹ طویل بورڈ کی تنصیب ہے ۔ اس بورڈ میں کاچی گوڑہ ریلوے اسٹیشن کے حوالے سے صرف تین زبان ، انگریزی ، ہندی اور تلگو میں ہی تاریخ تحریر کی گئی ہے

جب کہ اردو کو مکمل طور پر نظر انداز کردیا گیا ہے ۔ حالانکہ ملک کے اس تاریخی ریلوے اسٹیشن کو آصف جاہی حکمرانوں نے 1916 میں تعمیر کرایا تھا ۔ اس اسٹیشن کو ساوتھ سنٹرل ریلوے کا سب سے خوبصورت فن تعمیر کا شاہکار ریلوے اسٹیشن قرار دیا جاچکا ہے ۔ 5 گنبدوں والی اس اسٹیشن کی تعمیر 1916 میں شروع ہوئی اور 1935 میں مکمل ہوئی ۔ لیکن 98 برس گذر جانے کے باوجود کاچی گوڑہ ریلوے اسٹیشن اسی آن بان اور شان و شوکت کے ساتھ کھڑا ہے جیسا کہ تعمیر کے وقت تھا ۔ حضور نظام نواب میر عثمان علی خاں کے دور حکمرانی میں تعمیر کردہ تاریخی عمارتوں میں کاچی گوڑہ ریلوے اسٹیشن کو خصوصی اہمیت حاصل ہے ۔ اسے انٹاک اور دیگر تنظیموں کے علاوہ آثار قدیمہ کے تحفظ میں دلچسپی رکھنے والے ملکی و غیر ملکی ادارے اسے غیر معمولی خوبصورت عمارت کا نام دیا ہے ۔ کاچی گوڑہ ریلوے اسٹیشن کو سب سے پہلے نظامس گیارنیٹیڈ اسٹیٹ ریلوے اسٹیشن کا نام دیا گیا اور اب اسے کاچی گوڑہ ریلوے اسٹیشن کے نام سے جانا جاتا ہے ۔ تاریخی جائزے کے مطابق اس کا آغاز چھوٹے پیمانے پر نواب سالار جنگ اول کی مدارالمہامی کے دوران 1870 میں ہوچکا تھا ۔ اس وقت ٹرین صرف حیدرآباد سے واڑی تک 120 میل کا فاصلہ طئے کرتی تھی ۔ تاہم سر آسمان جاہ بہادر کے عہد میں نظامس ریلویز کو وسعت دی گئی ۔ واضح رہے کہ Intech نے کاچی گوڑہ ریلوے اسٹیشن کی عمارت کو 2004 کے تاریخی آثار کا ایوارڈ بھی عطا کیا ہے ۔ آپ کو یہ بھی بتادیں کہ اس علاقے میں چونکہ اس دور میں کاچی طبقہ کی اکثریت ہوا کرتی تھی ۔ اس لیے اسے کاچی گوڑہ کہا جاتا ہے ۔ بہر حال ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ اگرچہ 1853 میں ہندوستان میں پہلی مرتبہ ریل ممبئی تا تھانے متعارف کرائی گئی ۔ لیکن حیدرآباد دکن میں ریلویز کے آغاز نے ساری دیسی ریاستوں کو ریلوے اسٹیشن قائم کرنے کی ترغیب دی مگر اس قدر اہمیت اور تاریخی حیثیت کی حامل عمارت سے لاپرواہی اور زبان اردو سے بیزارگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ پہلے سے موجود اردو زبان کے بورڈ ’ کاچی گوڑہ ‘ کے ’’ چ ‘‘ کا ایک نقطہ نکل کر تین سال ہوگئے ہیں مگر آج تک اس کی اصلاح نہیں کی گئی ۔ تو اب جو تاریخی بورڈ نصب کیا گیا ہے اس میں بھی اردو کو نظر انداز کردیا گیا۔ آخر یہ اردو دشمنی نہیں تو اور کیا ہے ؟ ۔۔

TOPPOPULARRECENT