Tuesday , June 19 2018
Home / اداریہ / کب بند ہونگے غزہ پر حملے ؟

کب بند ہونگے غزہ پر حملے ؟

غیروں نے بھی کی گوکہ درندوں کی مذمت افسوس کہ اپنوں کی زباں بند ہے اب بھی کب بند ہونگے غزہ پر حملے ؟

غیروں نے بھی کی گوکہ درندوں کی مذمت
افسوس کہ اپنوں کی زباں بند ہے اب بھی
کب بند ہونگے غزہ پر حملے ؟
غزہ پر اسرائیل کی دہشت گردی اور جارحانہ و وحشیانہ بمباری کا سلسلہ ہنوز جاری ہے ۔ ہزاروں افراد جام شہادت نوش کرچکے ہیں اور سینکڑوں معصوم اور بے گناہ بچے موت کی نیند سلادئے گئے ۔ ان کا نہ کوئی قصور تھا اور نہ ہی انہیں یہ معلوم تھا کہ انہیں اس طرح کی وحشیانہ بمباری کا نشانہ کیوں بنایا جارہا ہے ۔ اسرائیل نے اپنے قابض اور جارحانہ عزائم کی تکمیل کا جو سلسلہ پندرہ دن قبل جب شروع کیا تھا اس وقت سے اب تک مسلسل بمباری جاری ہے ۔ حالانکہ درمیان میں کچھ گھنٹوں کیلئے جنگ بندی بھی رہی لیکن اس دوران بھی اسرائیل نہ کسی نہ کسی بہانے سے غزہ کے معصوم شہریوں کو نشانہ بنانے کا عمل جاری رکھا ہوا ہے ۔ یہ حملے دنیا کے ہر اصول اور قانون کے مغائر ہیں اور اس کی کسی بھی حال میں کوئی مدافعت نہیں ہوسکتی نہ اس کا کوئی جواز قابل قبول ہوسکتا ہے ۔ حالانکہ اسرائیل اور اس کے حواری امریکہ اور برطانیہ اسے اسرائیل کے دفاعی حق سے جوڑنے کی کوشش کر رہے ہیں اور یہ کہہ رہے ہیں کہ حماس کی جانب سے کئے جانے والے راکٹ حملوں اور مورٹار فائرنگ کے جواب میں اسرائیل اپنے دفاع کیلئے یہ حملے کر رہا ہے اور اسے اس طرح کی کارروائی کا حق حاصل ہے ۔ لیکن اسرائیل ‘ امریکہ یا برطانیہ اور کوئی دوسرے ممالک یا خود اقوام متحدہ یہ جواب دینے کے موقف میں ہرگز نہیں ہیں کہ غزہ میں موت کی نیند سلائے جارہے بچوں کا اس معاملہ میں کیا قصور ہے ۔ یہ بچے کھیل کود میں مصروف ہیں اور انہیں بمباری کا اور میزائیلوں کا نشانہ بنایا جارہا ہے ۔ ان حملوں کو کسی بھی حال میں درست یا جائز قرار نہیں دیا جاسکتا ۔دفاع کے نام پر مساجد اور دواخانوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے ۔ یہ انتہائی مذموم اور غیر انسانی طرز عمل ہے ۔ اس طرز عمل کے جو ذمہ دار ہیں وہ وہی ممالک ہیں جو دنیا بھر میں حقوق انسانی کی دہائی دیتے ہیں۔ یہ وہی ممالک ہیں جنہوں نے ایک لڑکی ملالہ یوسف زئی پر حملہ ہوا تو ساری دنیا میں اس کی مذمت کی تھی اور اب یہی ممالک سینکڑوں فلسطینی بچوں کی اموات کو اسرائیل کے دفاع سے جوڑنے کے انتہائی مذموم اورشرمناک عمل کے ذمہ دار بن رہے ہیں۔ حماس کے دہشت گردوں کو نشانہ بنانے کے نام پر کی جانے والی کارروائیوں میں جس طرح سے عام شہریوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے اور رہائشی علاقوں پر بمباری کی جا رہی ہے اس کی ساری دنیا میں مذمت کی جا رہی ہے
اس طرح کی وحشیانہ اور ظالمانہ بمباری اور فضائی حملوں کا کسی پر اثر نہیں ہو رہا ہے تو وہ اسرائیل ‘ امریکہ ‘ برطانیہ اور ان ممالک کی کٹھ پتلی کا رول ادا کرنے والے اقوام متحدہ کے ادارہ پر کوئی اثر نہیں ہو رہا ہے ۔ عراق میں معمولی ہتھیاروں کی موجودگی کا بہانہ بناتے ہوئے عراق کو تہس نہس کرنے میں امریکہ اور اقوام متحدہ سب سے آگے تھا ۔ شام میں لڑائی کے معاملہ میں اقوام متحدہ نے امریکہ کے مقاصد و مفادات کی تکمیل کیلئے اس مسئلہ کو حقوق انسانی سے جوڑنے کی کوشش کی تھی اور شام کے خلاف جنگی جرائم کا مقدمہ تک چلانے کا اعلان کیا گیا ۔ لیکن اسرائیل کے معاملہ میںایسا لگتا ہے کہ اس ادارہ اور امریکہ و اس کے حواری ممالک نے اپنی آنکھیں اور کان بند کرلئے ہیں اور ان کا رول نہ صرف بالواسطہ طور پر بلکہ راست طور پر بھی غزہ کے معصوم بچوں کی ہلاکتوں میں واضح ہوتا جا رہا ہے ۔ امریکہ اور اس کے ساتھیوں کی کٹھ پتلی کا رول ادا کرنے والے اقوام متحدہ کا وجود ہی اب بے معنی ہوکر رہ گیا ہے بلکہ یہ کہا جائے تو بیجانہ ہوگا کہ اقوام متحدہ کا وجود مظلوموں پر ظلم ڈھانے کا جواز فراہم کرنے والے ادارہ کا رہ گیا ہے جو ساری دنیا میں صرف امریکہ اور اس کے حواری ممالک کے مفادات کی تکمیل تک محدود ہوکر رہ گیا ہے ۔ اس میں نہ کسی دوسرے ملک کی آواز سنی جاتی ہے اور نہ دنیا بھر میں ہونے والے مظالم کی روک تھام کیلئے کوئی قرار داد ہی منظور کی جاسکتی ہے ۔ یہاں وہی کچھ ہوتا ہے جو امریکہ اور اس کے حواری چاہتے ہیں۔
اسرائیل کی وحشیانہ اور دہشت گردانہ کارروائیوں میں اب تک معلنہ اعداد و شمار کے مطابق 1500فلسطینی جام شہادت نوش کرچکے ہیں اور ان میں اکثریت بچوں کی ہے ۔ ان بچوں کو نہ حماس کا دہشت گرد قرار دیا جاسکتا ہے اور نہ ہی راکٹ حملوں کا ذمہ دار قرار دیا جاسکتا ہے ۔ ایسے میں ان ہلاکتوں پر اسرائیل اور اس کی تائید کرنے والوں کے خلاف جنگی جرائم کا مقدمہ درج کیا جانا چاہئے اور عالمی سطح پر اس کے خلاف کارروائی کیلئے ایک محاذ بننا ضروری ہے ۔ علاوہ ازیں اس بات کو یقینی بنانے کی ذمہ داری جہاں اقوام متحدہ اور دوسرے ممالک پر عائد ہوتی وہیں ان سے زیادہ ذمہ داری اسلامی ممالک پر عائد ہوتی ہے لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ اسلامی ممالک کو اپنے معصوم فلسطینی بھائیوں اور بچوں کی آہیں اور چیخیں سنائی نہیں دے رہی ہیں۔ انہیں اپنی ذمہ داری کو سمجھتے ہوئے اسرائیل کے وحشیانہ اور دہشت گردانہ حملوں کو روکنے کیلئے عملی کوشش کرنی چاہئے ۔

TOPPOPULARRECENT