Friday , September 21 2018
Home / مضامین / کب تک بہے گا لہو اِس ملک میں مسلمانوں کا

کب تک بہے گا لہو اِس ملک میں مسلمانوں کا

 

غضنفر علی خان
پھر وہی بے دردانہ قتل کی واردات۔ ایک مسلمان کا گاؤ رکھشکوں کے ہاتھ قتل عبث۔ وہی داستان خونچکاں، وہی غم و اندوہ کا ماحول ایک طرح سے گاؤرکھشکوں کے ہاتھ پئے در پئے قتل کی وارداتیں معمول بنتی جارہی ہیں اس لئے کہ اب تک ایسے جتنے واقعات ہوئے ان میں دو باتیں مشترک تھیں۔ ایک تو یہ کہ قتل ہونے والا شخص مسلمان تھا اور قتل کرنے والے سب کے سب گاؤ ماتا کی رکھشا (حفاظت کرنے والے تھے)۔ تیسری بات تمام واقعات میں مشترک یہ رہی کہ تمام وارداتیں گائے کی منتقلی سے تعلق رکھتی ہیں۔ تازہ ترین واردات راجستھان کے مقام الوار میں ہوئی جہاں ایک ٹرک میں کچھ گایوں کو عمر خان اور ان کے ساتھی کسی اور جگہ لے جارہے تھے۔ ان کا مقصد ان جانوروں کو ذبح کرنا نہیں تھا بلکہ گائے کا پالن پوسن کرکے اس کے دودھ سے اپنا روزگار اپنی روٹی روزی حاصل کرنا تھا۔ عمر خان کو نہ صرف بندوق کی گولیوں سے مارا گیا بلکہ ان کی نعش بے دردی سے واردات کے مقام سے تقریباً 10 کیلو میٹر دور واقع ریلوے ٹریک پر پھینک دی گئی تھی جہاں کئی گھنٹوں تک نعش پڑی رہی۔ چونکہ ریلوے ٹریک پر نعش پڑی تھی اس لئے مسخ بھی ہوگئی تھی۔ کیوں کہ 24 گھنٹوں تک مقامی پولیس کو اس قتل کا علم نہیں ہوا؟ یہ کیسی دیدہ دانستہ غفلت ہے۔ کیوں گائے کے مسئلہ پر کسی انسان، کسی مسلمان کے قتل کو معمولی بات سمجھا جارہا ہے؟ کب تک بی جے پی کی یہی روش رہے گی۔ آخر کتنے بے گناہوں کے قتل کے بعد مرکزی اور ریاستی حکومتیں (جہاں بی جے پی اقتدار پر ہے) اپنی ذمہ داری سمجھے گی۔ ایک بات بالکل صاف اور واضح ہے کہ کسی پارٹی کی حکومت ہو خواہ کانگریس کی ہو کہ بی جے پی کی ہو وہ ملک کی حکومت ہوتی ہے۔ کسی ایک فرقہ، ایک مذہب کے ماننے والوں کی ہی نہیں ہوسکتی۔ بی جے پی کی مرکزی حکومت اس کے وزیراعظم ایک دستوری عہدہ پر فائز ہیں۔ ان کی دستوری ذمہ داری ہے کہ وہ تمام ملک کے ایک ارب 30 کروڑ باشندوں کی جان و مال کی حفاظت کریں۔ کوئی حکومت کسی طبقہ کو (خاص کرکے مسلمانوں کو) کسی ایک آمادۂ ظلم و تشدد مٹھی بھر افراد کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جاسکتا۔ اب تک تو یہی ہوا کہ گاؤں رکھشکوں نے جن جن مسلمانوں کو قتل کیا ان میں سے نہ تو کسی قاتل کو گرفتار کیا گیا اور نہ سزا دی گئی۔ گویا قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں، پولیس قتل کے ہر ایسے واقعہ کے بعد بے حس و حرکت رہی۔ الوار کے واقعہ میں تو پولیس نے حد کردی۔ واردات کے کئی گھنٹوں تک تو پولیس کو اور خاص کر ریلوے پولیس کو سن گن نہ ہوئی۔ جب پتہ چلا کہ نعش مسخ ہوچکی تھی۔ صاف ظاہر ہوگیا ہے کہ جنونی افراد جو مذہب کے نام پر قانون اپنے ہاتھ میں لے رہے ہیں کم از کم اس جمہوریت میں جگہ نہیں ہے جس کا اپنا ایک دستور ہے، اپنی فوج ہے، اپنی پولیس ہے اور جس ملک کے وزیراعظم کو اپنے 56 انچ والے سینہ پر فخر ہے جو سب کا ساتھ اور سب کا وکاس‘‘ کا نعرہ بار بار بلند کرتے ہیں اور یہ ساری خوبیاں اس ملک میں ظاہری طور پر حکومت اور وزیراعظم میں موجود ہیں۔ کیا سب دکھاوا ہے۔

کبھی دنیا میں اپنا نام روشن کرنے اور ملک کو بدنام کرنے کی یہ کوشش وزیراعظم کی اجازت ان کی ہاں کے بغیر ہوسکتی ہے۔ آج ملک کے عوام یہ سوچنے پر مجبور ہوگئے ہیں کہ ایسا ہی ہورہا ہے۔ پہلے محمد اخلاق کا بہیمانہ قتل، پھر پہلو خان کی دردناک ہلاکت اور اس کے بعد جنید کا قتل۔ اب اسی انداز میں اسی مقصد کی خاطر عمر خان کی موت۔ آخر کب تک مسلمان ہی کو قتل کیا جاتا رہے گا؟ یہ سب اس لئے ہورہا ہے کہ حکومت نے کسی بھی واقعہ کا سنجیدگی اور ٹھیٹ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر جائزہ نہیں لیا۔ کبھی ان تمام واقعات میں مقامی پولیس نے سخت کارروائی نہیں کی۔ کسی مجرم کو سزا نہیں دی۔ کسی کو کیفر کردار تک نہیں پہنچا، گاؤ رکھشکوں کو معلوم ہوگیا ہے کہ ان کے ہاتھوں ہونے والے قتل کو کسی انسان، کسی ہندوستانی، کسی ہندوستانی مسلمان کا قتل محض نہیں سمجھا جاتا ہے۔ یہ کام آسانی سے کیا جاسکتا ہے اور واردات کے بعد کچھ روز تک اخبارات اور الیکٹرانک میڈیا پر خبریں بھی آتی ہیں۔ گاؤ رکھشکوں کو یہ یقین ہو چلا ہے کہ قانون نافذ کرنے والی طاقتوں کے ہاتھ ہاتھوں ان کی گردنوں تک نہیں پہنچ سکتے۔ وہ قاتل ہوتے ہوئے بھی مقامی اور مرکزی حکومت کی نظر میں معصوم ہی ہوں گے۔ مقتول تو مسلمان تھا اس کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔ اس کا لہو تو ارزاں ہے۔ یہ گلی کوچوں میں بہانے کے لئے ہی ہوتا ہے۔ ’’سیاں بھئی کوتوال ہمیں ڈر کاہے کا‘‘ نظریہ عام ہوتا جارہا ہے بلکہ ہوچکا ہے۔ پہلو خان کے قتل کے سلسلہ میں جن مجرموں کو گرفتار کیا گیا تھا ان تمام چھ 6 قاتلوں کو رہا کردیا گیا۔ محمد اخلاق کے قاتل آج بھی دندناتے ہوئے دادری میں جہاں یہ واردات ہوئی تھی آزادانہ طور پر گھوم پھر رہے ہیں۔

نہ انھیں اپنے جرم پر شرم ہے نہ پولیس میں کوئی احساسِ شرمندگی ہے۔ حکومت کو یہ احساس ہے کہ یہ تمام واقعات اور یہ ہندوستانی مسلمانوں کا لہو کوئی قیمت نہیں رکھتا ہے۔ ہم کسی کو جوابدہ نہیں ہیں۔ قاتل تمام کے تمام مطمئن، مسرور، شاداں ہیں تو ان کو کبھی کچھ نہ ہوگا۔ کیوں کہ حکومت خود خاموش ہے اور قتل کی شہادتوں کے باوجود انہیں رہائی مل سکتی ہے۔ یہ سب کچھ تواتر کے ساتھ ہورہا ہے۔ ملک میں نظم و قانون کی صورتحال ابتر ہوگئی ہے۔ نریندر مودی حکومت کی سرپرست اعلیٰ آر ایس ایس کو بڑا دکھ ہے کہ کیرالا میں اس کے کارکنوں کے قتل کے چند واقعات ہورہے ہیں۔ بی جے پی کی مرکزی حکومت کیرالا پر دباؤ ڈال رہی ہے کہ ان واقعات کی چھان بین ریاستی حکومت کرے لیکن کبھی آر ایس ایس یا خود بی جے پی کے کسی لیڈر نے گاؤ رکھشکوں کے ہاتھوں قتل کئے جانے والے محمد اخلاق، پہلو خان، جنید یا اب عمر خان کے قتل کے بعد حکومت سے آر ایس ایس نے چھان بین کرنے کا مطالبہ کیا۔ کرتی بھی تو کیوں کرتی مرنے والے تو عام ہندوستانی مسلمان تھے۔ وہ اس ملک میں ظالموں کے ہاتھوں مارے جانے کے لئے ہی پیدا ہوتے ہیں۔ کبھی مرکزی وزیرداخلہ راج ناتھ سنگھ نے زبان نہیں ہلائی، کبھی کسی ریاستی حکومت سے یہ نہیں پوچھا کہ کیوں گاؤرکھشک اقلیتی طبقہ سے تعلق رکھنے والوں کا خون بہا رہے ہیں۔ کسی بھی واقعہ کی انھوں نے رپورٹ تک طلب نہیں کی، گویا ’’سب کے ہونٹوں پر تبسم تھا مرے قتل کے بعد‘‘ کی کیفیت ہے جو تمام ریاستی حکومتوں اور مرکز پر طاری ہے۔ اقتدار کے نشہ میں چُور و بدمست بی جے پی حکومت کو اپنی اس غفلت کا کوئی اندازہ نہیں ہے۔ وزیراعظم کو کوئی تشویش نہیں ہے وہ تو بیرونی ممالک کے دوروں اور کانفرنسوں میں حاضر ہونے کو اپنی بنیادی ذمہ داری سمجھ رہے ہیں۔ انھیں اس قتل و غارتگری اور مسلم دشمن عناصر کی کارستانیوں کا علم ہونے کے باوجود ان کی زبان سے کبھی یہ نہیں نکلا کہ خصوصی عدالت یا فاسٹ ٹریک کورٹ کے ذریعہ تمام واقعات کی تحقیقات کروائی جائے اور مجرموں کو سخت سزا (قاتل کو سزا صرف پھانسی یا پھر عمر قید ہی ہوسکتی ہے) دی جائے۔ اگر اس مجرمانہ طرز عمل کو آہنی پنجے سے روکا نہ گیا تو ملک میں انارکی پیدا ہوجائے گی اور ہر شخص قانون کو کھلونا اور پولیس و حکومت کو اپنا ہمدرد سمجھ کر وہ سب کچھ کر گزرے گا جو وہ چاہتا ہے۔ پھر قانون و نظم و ضبط کی صورتحال کتنی بھیانک ہوگی اس کا خیال کرتے ہوئے بھی رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ یہ عام شہری کا احساس ہے کاش یہ احساس حکومت میں بھی پیدا ہو۔

TOPPOPULARRECENT