Friday , September 21 2018
Home / ہندوستان / کتھوعہ، انائو واقعات، مابعد آزادی ہندوستان کا تاریک ترین لمحہ

کتھوعہ، انائو واقعات، مابعد آزادی ہندوستان کا تاریک ترین لمحہ

ہولناک و شرمناک صورتحال کیلئے وزیراعظم ذمہ دار، تلافی کے بجائے خاموشی کو ترجیح افسوسناک، مودی کے نام سابق اعلی افسران کا کھلا خط
نئی دہلی۔16 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) ملک کے سرکردہ ریٹائرڈ اعلی سرکاری عہدیداروں نے انائو اور کھتوعہ عصمت ریزی واقعات کے تناظر میں وزیراعظم کے نام ایک کھلے خط میں انہیں ہی اس ہولناک صورتحال کے لیے ذمہ دار ٹھہرایا اور کہا کہ یہ مابعد آزادی ہندوستان کا تاریک ترین وقت ہے۔ 49 ریٹائرڈ اعلی سرکاری عہدیداروں کے ایک گروپ نے وزیراعظم کے نام اپنے کھلے خط میں لکھا کہ اس کی صورتحال کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اس کی تلافی کے لیے اقدامات کرنے کے بجائے انہوںن ے (وزیراعظم نے خاموشی کا انتخاب کیا تھا اور صرف اس وقت اپنی خاموشی توڑنے پر مجبور ہوئے جب ہندوستان اور بین الاقوامی سطح پر عوامی غیض و غضب اس نقطہ پر پہونچ گیا جہاں وہ (مودی) اس کو مزید نظرانداز نہیں کرسکتے تھے۔ انائو اور کتھوعہ میں کمسن لڑکیوں کی عصمت ریزی کے واقعات پر مودی نے پہلی مرتبہ ملب کشائی کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ واقعات سارے ملک کے لیے باعث شرم ہیں۔ انہوں نے ادعا کیا تھا کہ خاطیوں کو بخشا نہیں جائے گا اور تمام بیٹیوں کو انصاف دلایا جائے گا۔ ریٹائرڈ آئی اے ایس، آئی پی ایس اور آئی ایف ایس افسران کے اس گروپ نے وزیراعظم کے نام اپنے کھلے خط میں مزید لکھا کہ ’’مابعد آزادی ہند کا یہ تاریک ترین لمحہ ہے اور اس پر ہم اپنے حکومت، ہماری سیاسی جماعتوں کے قائدین کے ردعمل اور جواب کو ناکافی اور مجہول محسوس کررہے ہیں۔ جموں و کشمیر کے کتھوعہ میں آٹھ سالہ لڑکی کے اغوا، عصمت ریزی اور قتل کا حوالہ دیتے ہوئے مکتوب میں کہا گیا ہے کہ ’’درندگی اور بربریت‘‘ اس سنگین صورتحال کی گہرائی کا پتہ چلاتا ہے جس میں ہمارا ملک ڈوب چکا ہے۔ 49 ریٹائرڈ اعلی سرکاری عہدیداروں میں پولیس کے سابق پولیس کمشنر میراں بوروانکر، پرسار بھارتی کے سابق سی ای او جو اہرسرکار، ممبئی پولیس کے سابق کمشنر جولیو ربیرو، آر ٹی آئی جہد کار ارونا رائے ، سابق انفارمیشن کمشنر وجاہت حبیب اللہ، سابق ہیلتھ سکریٹری جاوید چودھری، سابق سینئر آفتاب سیٹھ، سابق چیف سکریٹری (رینک) بہار ایم اے ابراہیمی، مدھیہ پردیش کے سابق اعلی عہدیدار ہرش مندھر، سابق سینئر کے پی نابیان اور دوسرے بھی شامل ہیں۔ جنہوں نے عصمت ریزی کے انسانیت سوز واقعات پر وزیراعظم نریندر مودی کے نام کھلے مکتوب میں اپنے شدید غم و غصہ کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے وزیراعظم سے مزید کہا کہ ’’ہم یہ امید کررہے تھے کہ جس کے دستور کی پاسداری کا حلف لیا ہے اور وہ حکومت جس کی آپ قیادت کررہے ہیں اور وہ پارٹی جس سے آپ تعلق رکھتے ہیں۔ خوفناک اور چونکادینے والی صورتحال پر خواب غفلت سے بیدار ہوجائیں گے اور اس لعنت کے خاتمہ کے لیے قیادت کریں گے اور سب کو بالخصوص سماج کے اقلیتی اور غیر محفوظ طبقات کو دوبارہ یقین دلائیں گے کہ انہیں اپنی زندگی اور آزادی کے لیے ڈرانے گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ لیکن ہماری یہ امیدیں تباہ و برباد ہوگئی ہیں۔ کتھوعہ عصمت ریزی اور قتل کے بدترین واقعہ کا حوالہ دیتے ہوئے مکتوب میں کہا گیا ہے کہ سنگھ پریوار کی طرف سے پھیلائے گئے اکثریتی جبرو استبداد اور جارحیت کے کلچر نے اس ناپاک ایجنڈہ کو آگے بڑھانے کے لیے فرقہ پرست عناصر کو ایک نیا حوصلہ بخشا ہے۔ مکتوب میں کہا گیا ہے کہ ہندوئوں کے نام پر ایک انسان کو دوسرے کے خلاف بربریت و درندگی کو جائز قرار دینے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ایک انسان کی حیثیت سے سماج ناکام ہوگیا ہے۔ ان سرکردہ ریٹائرڈ اعلی افسران نے کہا کہ ’’ہم ایسی ایک قوم اور ایک ایسے ملک کی حیثیت سے بھی ناکام ہوگئے ہیں جو اپنے اخلاقی روحانی اور تہذیبی ورثے پر فخر کرتا ہے اور ایک ایسے سماج کی حیثیت سے بھی خود کو ناکام محسوس کررہے ہیں جس کی تہذیب و تمدن کے اعلی انداز رواداری، صلہ رحمی اور اخوت کے نظریات و جذبات پر مبنی ہیں۔

TOPPOPULARRECENT