Wednesday , November 21 2018
Home / ہندوستان / کتھوعہ اور اناؤ واقعات کیخلاف ممبئی اور سرینگر میں احتجاج

کتھوعہ اور اناؤ واقعات کیخلاف ممبئی اور سرینگر میں احتجاج

بالی ووڈ کی نامور شخصیتوں کی شرکت، سرینگر میں کئی گرفتار ، متاثرین سے انصاف کا مطالبہ
ممبئی ۔ 16 ۔ اپریل (سیاست ڈاٹ کام) کتھوعہ اور اناؤ عصمت ریزی واقعات کے متاثرین کے ساتھ انصاف کا مطالبہ کرتے ہوئے کئے گئے ایک احتجاج میں بالی ووڈ کے کئی نامور شخصیتوں بشمول راج کمار راؤ، ٹوئینکل کھنہ اور کالکا کوئچلن نے شرکت کی ۔ ان واقعات پر ملک بھر میں برہمی کا اظہار کیا جارہا ہے ۔ یہاں کل شام کئے گئے اس احتجاج میں سینکڑوں لوگوں نے کارٹر روڈ پر جمع ہوکر پلے کارڈس تھامے ہوئے احتجاج کیا جس پر اس طرح کے پیامات تحریر تھے ، جیسے اس لمحہ کو ضائع ہونے نہ دیں، وٹیرن اداکارہ ہیلن نے ، جو اس احتجاج میں موجود تھیں، اخباری نمائندوں کو بتایا کہ ’’میں شرمندہ ہوں، میں دکھی ہوں، میرے پاس آپ کو بتانے کیلئے الفاظ نہیں ہیں ، یہ لرزہ خیز ہے، اس کی سزا کیا ہوگی ؟ ‘‘ انہوں نے کہا کہ چند دنوں بعد وہ آپ کو اس کے بارے میں بھلا دیں گے۔ ہم کیا کرسکتے ہیں؟ اعلیٰ حکام کو اس سلسلہ میں آگے آنا ہوگا۔ اس احتجاج میں شامل ہونے والے دیگر بالی ووڈ شخصیتوں میں ایکٹرس آدینی راؤ حیدری ، پترا لیکھا ، سمیرا ریڈی ، سنگرس سونا، مہا پترا ، انوشیکا لنچندا اور سوسیکار وشال اور دوسرے شامل ہیں۔ اداکارہ پرینکا چوپڑہ نے جو فی الوقت آئرلینڈ میں ہیں ، اس احتجاج کے سلسلہ میں ٹوئیٹر پر اپنی بات کہی اور عوام سے اپیل کی کہ وہ اس میں شرکت کریں۔ انہوں نے ٹوئیٹ کیا کہ ’’اگر آپ یہ کرسکتے ہیں تو کیجئے ۔ ہم سب مانتے ہیں کہ آرم چیر سرگرمی کافی نہیں ہوتی ہے ۔ تعداد میں طاقت ہوتی ہے اور اتحاد میں ‘‘۔ وشال نے اس اح ساس کا اظہار کیا کہ عصمت ریزی کرنے والوں کو سخت ترین سزا دی جانی چاہئے اور کہا کہ یہ انتہائی دکھ کی بات ہے کہ چند لوگ اس طرح کے گھناونے جرم کا ارتکاب کرنے والوں کی حم ایت میں آئے ہیں، لیکن یاد رکھیں ان دو کیسس میں عصمت ریزی کرنے والوں کو بچانے کی کوشش کرنے والے اسی ذہن کے ہوتے ہیں۔ ہم کو سمجھنے کی ضرورت ہے ۔ ہندوستان ان لوگوں کی مدد نہیں کرتا ہے ۔ ہم کو بیدار ہونے اور ہندوستان کو بچانے کی ضرورت ہے ۔ آدتیی نے ، جنہیں اس احتجاج کے دوران ایک پلے کارڈ تھامے ہوئے دیکھا گیا جس پر تحریر ہوئے دیکھا گیا جس پر تحریر تھا ، سیاست داں / پولیس / عدالت شہریوں کی مدد کرے نہ کہ عصمت ریزی کرنے والوں کی ‘‘۔ کہا کہ جب تک ہم کچھ نہ کریں ، تبدیلی نہیں ہوگی ۔ انہوں نے کہا کہ ہم کو مسئلہ کو سمجھنے کی ضرورت ہے اور پھر اس کے حل کو یقینی بنانے کی چونکہ کوئی بھی نہیں کر رہا ہے اس لئے ہمیں یہ کرنا ہوگا۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT