Friday , September 21 2018
Home / Top Stories / کتھوعہ مقدمہ : خوفزدہ خاندان بڑی بیٹی کی اسکولی تعلیم ترک کرنے پر مجبور

کتھوعہ مقدمہ : خوفزدہ خاندان بڑی بیٹی کی اسکولی تعلیم ترک کرنے پر مجبور

کتھوعہ۔16 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) ایک جنگل کے بیچ و بیچ واقع ایک منزلہ مکان کی 8 سالہ لڑکی کی بے رحمی سے عصمت ریزی اور قتل جنوری کے مہینے میں راسنہ دیہات میں پیش آیا جو اب ویران ہوچکا ہے۔ اہم باب الداخلہ پر ایک بڑا قفل لٹک رہا ہے۔ ہری اینٹوں کا یہ مکان کسی بھی شخص کے استقبال کے لیے تیار ہے جو اس مکان کا دورہ کرنا چاہتا ہو۔ مکان کا سبز حلیہ ہر ایک کے لیے پرکشش ہے۔ غالباً اس خاندان کی امیدیں بھی اپنی چھوٹی بیٹی کے ذائع ہوجانے پر چکناچور ہوگئی ہیں لیکن اس الگ تھلگ مکان کی خاموشی دوسرے مکان کو جو دیڑھ کیلومیٹر کے فاصلے پر ہے طوفان سے پہلے کی خاموشی کی نشاندہی کرتی ہے جو ابھی ابھی گزرچکا ہے اور اس نے تباہی کی ایک داستان چھوڑدی ہے جس کی تلافی ناممکن ہے۔ بیشتر بنجارہ قبائیلی خاندان رسنا دیہات سے فرار ہوچکے ہیں۔ یہ دیہات ضلع کتھوعہ کی سرحد پر واقع ہے۔ ان خاندانوں کے فرار کی وجہ غالباً یہاں کا فرقہ وارانہ کشیدگی کا ماحول ہے جو عصمت ریزی اور قتل کے واقعہ کے بعد اس علاقہ میں پھیل گئی ہے۔ متصلہ پنچایت کوٹہ دیہات کے ساکن محمد جان نے کہا ’’وہ ایک انتہائی حسین اور ہوشیار لڑکی تھی۔ وہ تیزی سے کوئی بھی بات سمجھ جاتی تھی۔ جبکہ دوسروں کو ہماری زبان سکھانے کے لیے برسوں درکار ہوتے ہیں لیکن وہ اس میں ماہر تھی۔ کوٹہ کے رہنے والوں کا کہنا ہے کہ بچی اس کے باپ محمد یوسف نے چھ سال قبل متبنی کرلیا تھا۔ یوسف نے اپنی یکلوتی بیٹی کھودی۔ دو بیٹے اور ماں ایک علمناک سانحہ سے دوچار ہوئے۔ حالانکہ اس کے دو بیٹے ہیں۔ لیکن وہ چاہتی تھیں کہ ایک بیٹی بھی ہو چنانچہ اس نے اپنی نند کی بیٹی کو گود لے لیا جس کی تین بیٹیاں تھیں۔ لڑکی کی دیگر دو بڑی بہنیں اسکول جارہی ہیں۔ بڑی بہنوں میں سے ایک 8 ویں جماعت کی طالبہ ہے۔ تاہم ان کے والدین منصوبہ بندی کررہے ہیں کہ اپنی دوسری بیٹی کی اسکولی تعلیم ترک کروادیں۔ سماجی کارکن اور قانونداں سے گوجربکروال قائد طالب حسین کا کہنا ہے ’’حولناک نابالغ لڑکی عصمت ریزی اور قتل دیکھنے کے بعد وہ اپنی بڑی بیٹی کی اسکولی تعلیم جاری رکھنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔‘‘ طالب حسین نے کہا کہ اس خاندان کو خوف ہے کہ اس لڑکی کو بھی یہ عناصر نشانہ بنائیں گے جنہوں نے اس کی چھوٹی بہن کو اپنے ظلم کا نشانہ بنایا ہے۔

TOPPOPULARRECENT