Sunday , April 22 2018
Home / ہندوستان / کتھوعہ واقعہ پر ہڑتال کی جھوٹی اپیل پر کیرالا میں کشیدگی

کتھوعہ واقعہ پر ہڑتال کی جھوٹی اپیل پر کیرالا میں کشیدگی

ترواننتاپورم۔16 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) جموں وکشمیر کے کتھوعہ علاقہ میں ایک آٹھ سالہ لڑکی کی مبینہ اجتماعی عصمت ریزی اور قتل کے خلاف احتجاجاً سوشل میڈیا پر ہڑتال کی ایک جھوٹی اپیل کے باعث آج کیرالا کے مختلف مقامات پر کشیدگی پیدا ہوگئی جس پر پولیس کو ہائی الرٹ کرنا پڑا۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمس کے ذریعہ کل سے یہ پیام پھیلایا جارہا تھا کہ کتھوعہ واقعہ کے خلاف پیر کو ملک گیر ہڑتال کی جائیگی اور عوام پر زور دیا گیا کہ اس احتجاج میں حصہ لیں۔ سینکڑوں افراد کو ہڑتال کے نام پر روڈ ٹرانسپورٹ بسوں کو روکنے، زبردستی دوکانات بند کروانے اور گاڑیوں پر پتھرائو کرنے پر تحویل میں لے لیا گیا ہے۔ کنور میں پولیس نے احتجاجیوں کو منشہ کرنے کے لیے لاٹھی چارج کیا جو ٹائون پولیس اسٹیشن میں داخل ہونے کی بھی کوشش کی تھی۔ اس کے علاوہ ٹریفک کو درہم برہم کرنے اور دوکانات کو زبردستی بند کرانے کی کوشش کی۔ پولیس نے کہا کہ اس واقعہ میں چند پولیس ملازمین بشمول ایک ڈپٹی ایس پی زخمی ہوگئے اور کہا کہ اس سلسلہ میں 40 سے زیادہ افراد کو تحویل میں لے لیا گیا ہے۔ پولیس نے کنور میں اشتعال انگریزی کو ہوا دینے والے پوسٹرس کو بھی نکال دیا۔ پولیس نے کہا کہ کے ایس آر ٹی سی کا ایک بس ڈرائیور شمالی کساراگڑ پتھرائو میں زخمی ہوگیا۔ریاست کیرالا کے مختلف مقامات اور اس کے دارالحکومت ترواننتاپورم میں پبلک وہیکلس رکے رہے اور دوکانات بند رہے۔ عصمت ریزی کی شکار متاثرہ لڑکی کی تصاویر کے ساتھ احتجاجی مارچس مختلف مقامات بشمول ایرناکلم ڈسٹرکٹ میں کئے گئے تاہم پولیس نے کہا کہ کسی سیاسی جماعت یا تنظیم نے ہڑتال کی اپیل نہیں کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ہڑتال کی جھوٹی اپیل وائرل ہوگئی اور سوشل میڈیا پوزرس نے اس کی حقیقت کی جانچ کیے بغیر اس میں شامل ہوئے۔

TOPPOPULARRECENT