کتے اور بلیوں کے گوشت کی خبروں سے حیدرآبادی عوام میں بے چینی

حیدرآباد ۔ 26 ۔ نومبر : ( سیاست نیوز) : حلال گوشت کا مسئلہ ہمیشہ ہی اہمیت کا حامل رہا ہے جب کہ بعض چکن سنٹرس پر بھی سوالیہ نشان رہتا ہے کہ تمام مرغیوں کو ذبح کرتے ہوئے ان پر اللہ کا نام لیا جاتا ہے ۔ ہمارے لیے یہی مسائل پہلے سنگین نوعیت کے ہیں تو اب شہر میں حرام جانوروں کے گوشت کی اسمگلنگ کے پکڑے جانے کے بعد عوام کی بے چینی میں اضافہ ہوا ہے ۔ گذشتہ مہینے چینائی میں ایک ٹرین سے 2100 کیلو مشتبہ گوشت کی اسمگلنگ کی خبر سامنے آئی اور فوڈ سیفٹی عہدیداروں نے پہلی نظر میں اس گوشت کو بکرے یا کسی اور جانور کے گوشتہ کی تصدیق کرنے میں ناکام ہوئے حالانکہ بعد میں اس خبر کوایک نیا موڑ دے دیا گیا لیکن ابتدائی خبروں میں جس جانور سے اس کی مشابہت ثابت کی جارہی تھی وہ کتا کا گوشت تھا اور اب مشیر آباد کے قریبی علاقے وی ایس ٹی میں 4 مشتبہ افراد کی تھیلوں سے بلیوں کو برآمد کیا گیا ہے اور جانوروں کے حقوق کے تحفظ کی تنظیم کے سرگرم رکن پی ریجا نے کچرے کے قریب بلیوں کو پکڑنے اور ان افراد کی مشتبہ حرکات کی جب پولیس کو اطلاع دی تو ان کے قبضے سے نہ صرف بلیوں کو برآمد کیا گیا بلکہ شہر میں ایک طبقے پر یہ شک بھی کیا جارہا ہے کہ وہ نہ صرف طبی وجوہات کی بناء پر بلیوں کا گوشت کھا رہے ہیں بلکہ کچھ لوگ اس گوشت کے شوقین بھی ہیں ۔ اندرون 15 یوم کتے اور بلی کے گوشت کی خبروں نے حیدرآبادی عوام میں بے چینی پیدا کردی ہے جب کہ وہ باہر کے کھانوں میں گوشت کے استعمال پر محتاط ہونے کی سمت راغب ہورہے ہیں ۔ ہائی ٹیک سٹی کے ملازم اور وجئے نگر کالونی کے مقیم عرفان خاں ( نام تبدیل ) نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہر گلی اور محلے میں کئی ایک بنڈیوں کے علاوہ ویان میں مختلف اقسام کے کھانے فرائم کئے جاتے ہیں لیکن اب ایسی خبروں کے منظر عام پر آنے کے بعد کس پر بھروسہ کیا جائے اور کس پر شک کیا جائے یہ آسان نہیں ہے ۔ ٹولی چوکی کے یسین خاں نے کہا کہ وہ ان ہی ہوٹلوں سے پارسل لینا پسند کرتے ہیں جن کے عملہ میں ان کا کوئی پہچان کوئی فرد ہو یا کوئی ایسا ذریعہ ہو جس سے وہاں کے پکوان اور گوشت کے متعلق اطمینان حاصل ہوسکے ۔۔

TOPPOPULARRECENT