Friday , April 27 2018
Home / مذہبی صفحہ / کثرت ازدواج،نکاح حلالہ کے مسئلہ پر مرکزولا ء کمیشن سے عدالت عظمی کی جواب طلبی نوٹس اورملکی حالات کے تناظر میں 

کثرت ازدواج،نکاح حلالہ کے مسئلہ پر مرکزولا ء کمیشن سے عدالت عظمی کی جواب طلبی نوٹس اورملکی حالات کے تناظر میں 

نکاح حلالہ۔ایک جائزہ
اللہ سبحانہ وتعالی نے انسانوں کے فطری جذبات کی جائزتکمیل کیلئے نکاح کا پاکیزہ رشتہ قائم کیا ہے، نکاح کا پاکیزہ تعلق صرف شہوانی جذبات کی تسکین اورنفسانی خواہشات کی تکمیل کیلئے نہیں بلکہ یہ رشتہ دوجسم ایک جان کا ہے یا جسم وروح کے رشتہ کے مانندہے جسکے بغیرروحانی راحت کے ساتھ زندگی گزارنے کا تصورممکن نہیں،اس رشتہ کی نزاکت واہمیت بیان کرتے ہوئے جوتعبیرقرآن پاک میں بطورکنایہ اختیارکی گئی ہے وہ اچھوتی اورمنفرد ہے’’وہ تمہارا لباس ہے اورتم ان کا لباس ہو‘‘(البقرۃ:۱۸۷)لباس سترپوشی کے ساتھ باعث زینت ہوتااوراشیاء کے بالمقابل لباس انسان کے جسم سے قریب ترہوتاہے ،یہ مقدس رشتہ ایک اجنبی مرد و عورت کے درمیان برضاء ورغبت ایجاب وقبول کے ساتھ دومردیا ایک مرددوعورتوں کی گواہی سے تاحیات ایک ساتھ زندگی گزارنے کے پاکیزہ معاہدہ کے ساتھ منعقدہوتاہے جو کسی مدت کی تحدید کے بغیر کیا جاتاہے ،زوجین کے درمیان نکاح کی وجہ جو حقوق عائد ہوتے ہیں آپسی مؤدت ورحمت کے ساتھ تادم زیست نبہائے جاتے ہیں،اسلام نے ایسے پاکیزہ نکاح کی حوصلہ افزائی کی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دین اسلام میں ازدواجی رشتہ کا قیام مضبوط بنیادوں پرقائم ہے،اسکے مقاصدبڑے پاکیزہ اورعظیم ہیں،خالق کائنات نے انسانوں کی تخلیق ،ان کی افزائش،ان کی بقاء اورحفاظت نسب کا انحصارودارومدارجائزنکاحی تعلق پررکھاہے۔نکاح کی وجہ ایک خاندان تشکیل پاتاہے اوراسکے تسلسل کے نتیجہ میں ایک منظم معاشرہ وجودمیں آتاہے،نکاح معاشرہ کی تشکیل کی اولین بنیادہے اسلئے اسلام نے اس رشتہ کی اہمیت اوراسکے مقاصداوراس رشتہ کی بنیادپر عائدہونے والے حقوق وذمہ داریوں کی تفصیل بڑی وضاحت کے ساتھ بیان کی ہے۔نکاح حلالہ کی شرعی کوئی بنیادنہیں ہے،عام طورپرطلاق کے واقعات ناخوشگوارحالات میں وقوع پذیرہوتے ہیں،اسلام نے اسکے حدودوقیودوضاحت سے بیان کئے ہیں،جلدبازی میں جہاں طلاق دی جاتی ہے وہ بھی خلاف سنت طریقہ پرتو ان میں سے اکثرندامت پرمنتج ہوتی ہیں۔دوبارہ ازدواجی رشتہ کے قیام کیلئے سماج میں جو تصورجہالت کی وجہ سے عام ہوگیا ہے وہ دراصل خواہش نفس کے اسیراورشیطان کے پیروکاروں کی ایجادہے،ان کی دانست میں حلالہ یہ ہے کہ جس عورت کی تین طلاقیں ہوگئی ہوںاسکا نکاح کسی اورسے منصوبہ بندطریقہ پر اس مقصدکیلئے کیا جائے کہ وہ طلاق دینے والے پہلے خاوندکیلئے حلال ہوجائے، ظاہر ہے قرآن پاک میں پاکیزہ طریقہء نکاح کا ذکرتوضرورموجودہے لیکن کہیں نکاح حلالہ کا کوئی ذکر نہیں۔دورجاہلیت میں شوہرکویہ حق حاصل تھا کہ وہ جتنی بارچاہے طلاق دیدے ،ہر مرتبہ قبل ازعدت رجوع کرلے ،اسکی وجہ خواتین مظلومیت کی شکارتھیں ،شوہرباربارطلاق دیتا اوربارباررجوع کرلیتا،نہ اسکے ساتھ معروف طریقہ پر زندگی گزارتا نہ اسکو قیدنکاح سے آزادکرتا،ازدواجی زندگی کی کٹھن اوردشوارگزارراہوں سے گزرنے والی خواتین بدخماش شوہروں کے چنگل سے آزادی کی متمنی رہا کرتی تھیں،چنانچہ ایک انصاری نے اپنی بیوی کے ساتھ ایسا ہی رویہ اختیار کر رکھا تھا ،وہ مظلومہ اپنی ازدواجی زندگی کی دردبھری داستان سنانے رحمت عالم ﷺ کی بارگاہ قدس میں حاضرہوگئی،رحمت الہی کو جوش آیا،جاہلانہ وظالمانہ طریقہء طلاق پر’’طلاق دوبارہے ‘‘کے ارشادربانی سے تحدیدعائدکردی گئی۔پھرمزید ارشاد فرمایاکہ ’’ دوطلاق کے بعد بیوی کو روکے رکھنا ہو توبھلائی کے ساتھ روکے رکھو،
یا چھوڑدینا چاہتے ہوتو پھراحسان وسلوک کے ساتھ رخصت کردو‘‘(البقرۃ:۲۲۹)اگلی آیت میں ارشادباری ہے’’کہ جب تم نے دوطلاق دے دینے کے بعداگرتیسری طلاق بھی دیدی تو وہ تمہارے لئے حلال نہیں ہوگی الا یہ کہ وہ اسکے بعدکسی اورسے نکاح کرے،پھروہ اس کو طلاق دیدے تب پھران دونوں کے لئے کوئی حرج نہیں کہ وہ آپس میں رجوع کر لیں بشرطیکہ ان کو اس بات کا یقین ہو کہ وہ اللہ کے حدودکو قائم رکھ سکیں گے(البقرۃ:۲۳۰)۔اس رکوع کے آخرتک جتنی ہدایات مکررسہ مکررتاکید کے انداز میں دی گئی ہیں ان کا خلاصہ یہی ہے گھربسانے اورخاندان آبادکرنے کیلئے نکاح کرو، دکھ دینے ،ستانے یا کسی اورمقصد کیلئے نہیں، قرآن کریم کی واضح ہدایات میں کسی تاویل کی کوئی گنجائش نہیں ۔ ’’ اللہ سبحانہ نے حلالہ کرنے والے اورجس کے لئے حلالہ کیا جائے ان دونوں پر لعنت فرمائی ہے‘‘(ابن ماجہ:۹۲۶) سیدنا عمربن الخطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا:’’محلل ومحلل لہ دونوں کو میرے پاس اگرلایا جائے تو میں ان دونوں کورجم کردونگا‘‘(ابن ابی شیبہ:۴؍۲۹۴)سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے پاس ایک شخص لایا گیا جس نے حلالہ کی غرض سے نکاح کیا تھا تو آپ رضی اللہ عنہ نے ان دونوں کے درمیان جدائی کرادی اورفرمایا یہ عورت ایسے نکاح حلالہ سے پہلے شوہرکی طرف نہیں لوٹ سکتی بلکہ ایسے نکاح کے ذریعہ ہی لوٹ سکتی ہے جو رغبت وخواہش کے ساتھ کیا گیاہواوردھوکہ دہی سے پاک ہو(بیہقی:۷؍۲۰۸)حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اس طرح کے واقعہ حلالہ کا تذکرہ کرکے دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا:کہ نکاح صحیح کے بغیراسکے جوازکی کوئی صورت نہیں، رسول پاک ﷺ کے پاکیزہ عہد میں ایسا عمل سفاح یعنی بدکاری وزناکاری میں شمارہوتاتھا(بیہقی:۷؍۲۰۸) قرآن حکیم کے منشاء کی احادیث پاک وآثارصحابہ رضی اللہ عنہم کی روشنی میں جس کو فقہ اسلامی میں تحلیل شرعی کا نام دیا گیاہے اسکا مختصرخلاصہ یہ ہے کہ مطلقہ ثلاثہ کا بعدعدت کسی اور سے دائمی وابستگی کے جذبہ سے نکاح انجام پائے ،آگے چل کرآپس میں نباہ نہ ہونے کی صورت میں طلاق یا خلع سے رشتہ نکاح منقطع ہو یا شوہر فوت ہوجائے تواسکی شرعی عدت تکمیل پانے کے بعدشوہراول سے نکاح کا جوازثابت ہوسکتاہے ،نکاح ۔تحلیل کی شرط یا مدت معینہ کی شرط کے بغیر کیا گیاہوبعدازاں اتفاقی یا حادثاتی طورپر طلاق یا وفات وغیرہ کی صورت پیش آگئی ہوتو اسلام نے اس نکاح کو جائزرکھا ہے،اس پاکیزہ صورت میں ہونے والے نکاح کا خلاف غیرت وحمیت منصوبہ بندطریقہ پر کئے جانے والے غیر اسلامی نکاح حلالہ سے کیا جوڑ ہوسکتا ہے۔ الغرض اسلامی نقطئہ نظرسے یہ ایک صدفیصدباطل عمل ہے، اسکا کوئی وجودخیر القرون اوراسکے بعد کے ادوار میں نہیں ملتا۔فقہاء اسلام کے مجتہدات میں بھی اسکا کوئی تصورنہیں،بشرط تحلیل نکاح امام ابویوسف رحمہ اللہ کے نزدیک شرعا منعقدہی نہیںہوتا،امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک نکاح تو منعقدہوجاتاہے لیکن پہلے شوہرکیلئے وہ حلال نہیںہوتی۔دوسرے کیلئے ناجائزرشتہ کو جائزکرنے کے ناجائزطریقہ کارکو جائزفرض کرکے کیا جانے والا عمل جاہلانہ سماج میں حلالہ کہلاتاہے تواسلام کے پاکیزہ نظام نکاح سے اسکا دوردورتک بھی کوئی تعلق نہیں، نکاح کا مقصودتوگھرآبادکرنا اورنسل انسانی کوفروغ دینا ہے جبکہ یہ بات نکاح حلالہ میں مفقودہے،چونکہ اسکی وجہ وقتی جنسی خواہش کی تسکین کا جذبہ رواج پاتاہے اسلئے اسلام میں اسکی کوئی گنجائش نہیں۔غیر اسلامی حلالہ شریفانہ سماج میں انسانی غیرت وحمیت کوللکارنے کے مترادف ہے،
کیونکہ اسکے ارتکاب کا کوئی خوددار،شریف الطبع، نیک نفس انسان اورایک شریفانہ انسانی معاشرہ اسکا تحمل نہیں کرسکتا۔طلاق ثلاثہ کا بل پارلیمنٹ میں منظورنہیں ہوسکا ،اس بل کے ذریعہ مسلم سماج میں ایک ہیجان برپاکردیا گیا ہے،جبکہ اس بل سے مسلم خواتین سے مصنوعی ہمدردی جتائی جارہی ہے،مذکورہ بل کے خلاف اب تک ملک کے ۸۰؍شہروں میں ایک کروڑسے زائد مسلم خواتین نے پرامن احتجاجی مظاہرے کئے۔اوراس بل کو انہوں نے شریعت محمدی ﷺ میں کھلی مداخلت قراردیا اورکہا کہ ہم اس کو ہرگزبرداشت نہیں کریں گے،اس بل کی بنیاد پر مسلم خواتین کے حقوق کے حوالہ سے جوجھوٹا پروپیگنڈہ جاری ہے اسکوبندکرنے کا مطالبہ کیا، اوراب نکاح حلالہ اورتعددازدواج کے مسئلہ پرسپریم کورٹ نے مرکزی حکومت اورلاء کمیشن کونوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کیا ہے۔قبل ازیں پانچ ججوں پر مشتمل بنچ نے تین کی اکثریت کی بنیادپرطلاق ثلاثہ کوغیر دستوری قراردیا تھا،اسی دوران بنچ کے سامنے حلالہ اورکثرت ازدواج پر بھی جائزہ لینے کی درخواست کی گئی تھی جس کو مذکورہ بنچ نے مؤخر کرتے ہوئے بعد میں غورکرنے کا تیقن دیا تھا،اس فتنہ کو پھردوبارہ تازہ کیا گیاہے۔ حکومت کو مسلم خواتین سے کیا ہمدردی ہوسکتی ہے جبکہ دیگرمذاہب پر عمل پیراخواتین سے حکومت کو کوئی ہمدردی نہیں،خواتین کا احترام اورانکی خیر خواہی مقصودہوتی توایک سیکولرملک میں بکثرت عصمت ریزی پھران کو آگ میں زندہ جلادینے کے واقعات وہ بھی نابالغ لڑکیوں کے ساتھ کیونکرممکن ہوسکتے تھے؟  ناراض خواتین شمال مشرقی ریاست آسام میں ترقی کے وعدوں پر یقین کرکے بی جے پی کو ووٹ دیا تھا اب وہ پچھتاوے کا اظہارکررہی ہیں، بطوراحتجاج انہوں نے اپنے سرمنڈوالئے ہیں اورسنگین نتائج کی دھمکی بھی دی ہے۔نکاح حلالہ کے نام سے کچھ نفس پرست نکاح کے پاکیزہ رشتہ کا کھلواڑکررہے ہوں توان کا تناسب مسلم سماج میں ایک فیصدبھی نہیں،اسکے باوجوداسکے پیچھے دوڑنا گویا لکیرکوپیٹنا ہے۔نکاح حلالہ ، تعددازدواج اوراس طرح کے مسائل کو اٹھانے کا مقصدظاہر ہے عوام کو ایسے مسائل میں الجھائے رکھنا کہ وہ اسی میں غلطاں وپیچاں رہیں اور حکومت کی کوتاہیوں کی پردہ پوشی ہوتی رہے ،حکومت نے عوام سے جووعدے کئے تھے جیسے بے روزگاروں کو روزگارملے گا،سماج کے پچھڑے طبقات کو اونچا اٹھایاجائے گا،کسانوں کی بھرپورمدد ہوگی جس سے ان کی پریشانیوں کا مداوا ہوسکے گا،خواتین کوبھرپورتحفظ فراہم ہوگا اوران کو خصوصی مراعات حاصل ہوں گی ، کالا دھن غیر ملکوں سے واپس لا یا جائے گا،ہرہندوستانی کے اکاونٹ میں پندرہ لا کھ روپیئے جمع ہوجائیں گے وغیرہ وغیرہ۔بھولی بھالی ،سادی سیدھی عوام ’’سب کا ساتھ ،سب کا وکاس‘‘کے خوشنما نعرہ کے سحر میں ایسے کھوگئی کہ اسکا ہوش وحواس اس وقت ٹھکانہ آیاجب ملک کے وزیراعظم نے نوٹ بندی کا قانون نافذکیاپھربڑے بڑے قرض داروں کے قرضے معاف کردئیے اورکئی ایک ہزاروں کروڑ کی رقم جوغریب شہریوں کا سرمایہ تھی لوٹ لاٹ کرملک سے رفوچکرہوگئے،اوراب صورتحال یہ ہے کہ بنکوں میں اپنی جمع شدہ رقم حاصل کرنے کیلئے پریشان عوام قطاروں میں لگی ہے،ایسا بھی دیکھا گیا کہ گھنٹوں قطارمیں لگے رہنے کے بعدجب کاونٹرکے قریب پہنچے تو اعلان ہواکہ اب بنک کی پونجی ختم ہوچکی ہے کل زحمت کریں۔ملک کے تقریبا سارے اے ٹی ایمس خالی پڑے ہیں ، ملکی قوانین کے احترام کوپامال کرکے لوٹ مچانے والے اورجرائم پیشہ افرادکی کیوں خبرنہیں لی جاتی،عدل وانصاف قائم کرکے ملک کوامن وآمان کا گہوارہ بنانے کی کیوں فکرنہیں کی جاتی۔غیر اہم مسائل میں وقت ضائع کرنے کا کیا فائدہ۔
TOPPOPULARRECENT