Tuesday , June 19 2018
Home / مضامین / کجریوال حکومت کا دھرنا قانون کی خلاف ورزی

کجریوال حکومت کا دھرنا قانون کی خلاف ورزی

ظفر آغا

ظفر آغا

اُس ریاست کا کیا حال ہوگا، جس کا وزیر اعلیٰ خود اپنی ہی ریاست کی پولیس کے خلاف دھرنا پر بیٹھ جائے اور یہ مطالبہ کرے کہ پولیس افسروں کو معطل کیا جائے۔ دہلی میں ابھی پچھلے ہفتہ کچھ اسی قسم کا واقعہ پیش آیا۔ آپ بخوبی واقف ہوں گے کہ دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کجریوال یکایک اپنی پوری کابینہ کے ساتھ دہلی کے سرکاری مرکزی علاقہ میں دھرنا پر بیٹھ گئے اور مرکزی حکومت سے مطالبہ کرنے لگے کہ دہلی پولیس کے چار افسروں کو معطل کیا جائے۔ دھرنا کی وجہ سے شہر کا ٹرافک نظام درہم برہم ہو گیا اور لوگ دو دو، چار چار گھنٹے کی تاخیر سے اپنے دفاتر پہنچے۔ ہر طرف ٹرافک جام تھا، لیکن مسٹر کجریوال عوام کی پریشانیوں سے بے خبر، کمبل اور لحاف لے کر اپنے ساتھیوں کے ہمراہ (سردی اور بارش کے باوجود) مرکزی دہلی کے پارک میں دھرنا پر بیٹھ گئے۔ دہلی حکومت کے کام کاج ٹھپ ہو گئے تھے، کیونکہ چیف منسٹر کجریوال دھرنا پر تھے۔ کبھی کبھار وزیر اعلیٰ اپنے دھرنا کے مقام پر دو چار فائلیں دیکھ لیتے تھے۔ ایک وزیر اعلیٰ کا کام اپنی ریاست میں حکومت چلانا ہوتا ہے، نہ کہ دھرنا پر بیٹھ کر خود اپنی ہی حکومت کو ٹھپ کرنا ہوتا ہے؟۔ لیکن اِس دَور میں گنگا اُلٹی بہہ رہی ہے، کیونکہ ریاست کے وزیر اعلیٰ اسمبلی میں بیٹھنے کی بجائے دھرنا پر بیٹھ رہے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ آخر اروند کجریوال کو دہلی پولیس پر اس قدر غصہ کیوں آیا کہ وہ خود دھرنا پر بیٹھ گئے؟۔ اس بات کی اب کافی شہرت ہے کہ اروند کجریوال کے وزیر قانون مسٹر سومناتھ بھارتی نے چند روز قبل رات کے تین بجے دہلی کے ایک علاقہ میں دھاوا کیا تھا۔ وہ علاقہ ایسا ہے، جہاں افریقہ سے آئے سیاہ فام نسل کے بہت سے افراد رہتے ہیں۔ وزیر قانون کا الزام تھا کہ افریقی خواتین جسم فروشی کا کام کرتی ہیں اور وہاں کے مرد نشیلی دوائیں فروخت کرتے ہیں۔ وزیر قانون کے پاس ان افریقیوں کے خلاف نہ تو کوئی ثبوت تھا اور نہ ہی ان کے خلاف پولیس میں ایف آر درج تھی۔ دراصل مسٹر بھارتی اس علاقہ سے ایم ایل اے منتخب ہوئے ہیں، لہذا وہ اپنے حامیوں کے ساتھ صرف شک کی بنیاد پر رات کے تین بجے افریقیوں کے گھروں میں گھس گئے۔ پھر جب پولیس پہنچی تو مسٹر بھارتی نے کہا کہ اِن افریقیوں کو گرفتار کرو، جب کہ پولیس کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس ان کے خلاف کوئی شکایت نہیں درج کرائی گئی، ان حالات میں بھلا ہم کسی کے گھر میں گھس کر بغیر کسی سمن کے کس طرح گرفتار کرسکتے ہیں؟۔ پولیس کی بات قانون کے دائرے میں تھی، جب کہ دہلی کے وزیر قانون غیر قانونی بات کر رہے تھے، اس کے باوجود ان کا اصرار تھا کہ افریقیوں کو گرفتار کیا جائے، تاہم جب پولیس نے گرفتار نہیں کیا تو کجریوال نے 24 گھنٹے ہڑتال کی دھمکی دے دی اور پھر وہ دھرنا پر بیٹھ بھی گئے۔

ان نئے سیاست دانوں کو یہ بھی نہیں معلوم کہ وزیر اعلیٰ اور وزیر قانون کا کام قانون کی حفاظت کرنا ہے، نہ کہ قانون کی دھجیاں بکھیرنا؟۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہندوستانی پولیس بے حد بدنام ہے، پولیس والے آئے دن بے قصور افراد کو پریشان کرتے رہتے ہیں، لیکن دہلی کے اس معاملے میں پولیس کی کوئی غلطی نہیں تھی، بلکہ پولیس قانون کے دائرے میں تھی۔ رات کے تین بجے بغیر سمن کے کسی کے گھر میں داخل ہوکر کسی کو گرفتار کرنا پولیس کا کام نہیں ہے، پھر بھی مسٹر کجریوال کو دہلی پولیس پر غصہ آگیا اور وہ دہلی پولیس پر برہم ہو گئے۔ پھر انھوں نے دھرنا منظم کرکے دہلی شہر کے نظام کو بھی مفلوج کردیا۔

کوئی شخص اگر وزیر اعلیٰ بن جائے تو اس کو یہ اختیار نہیں ہے کہ وہ جس کو چاہے گرفتار کروادے، خواہ اس کے خلاف کوئی معاملہ درج ہو یا نہ ہو؟۔ اگر ایسا ہونے لگا تو ملک میں افرا تفری پھیل جائے گی اور قانون کا راج ختم ہو جائے گا۔ لیکن اب دہلی میں کچھ ایسا ہی محسوس ہو رہا ہے کہ وہاں ملک کا قانون نہیں، بلکہ کجریوال کا قانون چلے گا۔ چوں کہ وہ دہلی کے وزیر اعلیٰ ہیں، لہذا جو چاہیں کریں۔ دہلی میں افرا تفری پھیلائیں یا وہاں کے نظم و ضبط کو بحال کریں۔

سچ پوچھئے تو یہ ایک انتہائی افسوسناک صورت حال ہے۔ افسوس اس وجہ سے ہے کہ صرف دہلی ہی نہیں، بلکہ سارے ملک کے لوگوں نے کجریوال سے بہت امیدیں وابستہ کرلی تھیں۔ مسٹر کجریوال ہندوستان کے سیاسی افق پر ایک نیا ستارہ بن کر اُبھرے تھے۔ ملک کا عام آدمی یہ سوچ رہا تھا کہ کانگریس اور بھارتیہ جنتا پارٹی کی گھسی پٹی اور فرسودہ سیاست سے مسٹر کجریوال نجات دِلائیں گے اور اُن کی عام آدمی پارٹی ملک کے بڑے حصوں میں ایک نئے سیاسی نعم البدل کے طورپر اُبھرے گی۔ لاکھوں کی تعداد میں لوگ عام آدمی پارٹی میں شامل ہو رہے تھے، لیکن اسی دوران مسٹر کجریوال ایک ایسی غیر ذمہ دارانہ حرکت کے مرتکب ہوئے کہ عام آدمی پارٹی کے مستقبل اور کجریوال کی قائدانہ صلاحیت پر سوالیہ نشان لگ گیا۔

غور کیجئے کہ اگر کل اروند کجریوال ملک کے وزیر اعظم بن گئے اور پھر وہ خود اپنی ہی حکومت کے خلاف دھرنا پر بیٹھ گئے تو اس وقت ملک کا کیا حال ہوگا؟۔ وزیر اعلیٰ اور وزیر اعظم کا کام مسائل کا حل تلاش کرنا ہے، نہ کہ مسائل پیدا کرنا۔ وزیر اعلیٰ اور وزیر اعظم ملک کے قانون کے تحفظ کے لئے چنے جاتے ہیں، اسی لئے ان کو قائد کہا جاتا ہے۔ لوگوں کو بڑی امیدیں وابستہ تھیں اروند کجریوال سے، لیکن یہ کسی کو نہیں معلوم تھا کہ وہ اتنی جلد عوام کی امیدوں پر پانی پھیر دیں گے۔ انھوں نے فی الحال دہلی میں جو کچھ کیا ہے، اس کے بعد یہ شک پیدا ہو گیا ہے کہ وہ کسی ریاست کے وزیر اعلیٰ بننے کے لائق ہیں یا نہیں؟ پھر اِن حالات میں اُن کو ملک کا وزیر اعظم کس طرح بنایا جاسکتا ہے؟۔

TOPPOPULARRECENT