Thursday , January 18 2018
Home / ہندوستان / کجریوال حکومت کو مطالبات پورے کرنے 10 دن کی مہلت

کجریوال حکومت کو مطالبات پورے کرنے 10 دن کی مہلت

نئی دہلی ۔ 27 جنوری ۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) عام آدمی پارٹی کے برطرف رکن اسمبلی ونود کمار بنی نے پارٹی سے معزولی کے دوسرے دن اروند کجریوال حکومت کے خلاف دھرنا منظم کیا لیکن انھوں نے چار گھنٹے کے اندر احتجاج سے اچانک دستبرداری اختیار کرلی اور حکومت کو انتباہ دیا کہ اُن کے مطالبات بشمول جن لوک پال بل کی آئندہ دس دن میں منظوری عمل میں نہ لائی ج

نئی دہلی ۔ 27 جنوری ۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) عام آدمی پارٹی کے برطرف رکن اسمبلی ونود کمار بنی نے پارٹی سے معزولی کے دوسرے دن اروند کجریوال حکومت کے خلاف دھرنا منظم کیا لیکن انھوں نے چار گھنٹے کے اندر احتجاج سے اچانک دستبرداری اختیار کرلی اور حکومت کو انتباہ دیا کہ اُن کے مطالبات بشمول جن لوک پال بل کی آئندہ دس دن میں منظوری عمل میں نہ لائی جائے تو وہ بڑے پیمانے پر احتجاج شروع کریں گے ۔ 39 سالہ بنی نے کہا کہ وہ عام آدمی پارٹی سے برطرفی کے باوجود عوامی مسائل پر حکومت کی تائید کرتے رہیں گے ۔ انھوں نے اپنا احتجاج ختم کرنے کا فیصلہ اس لئے کیا کیونکہ لیفٹننٹ گورنر نجیب جنگ اور انا ہزارے نے اُنھیں مشورہ دیا ہے کہ نئی حکومت کو اپنے وعدے پورے کرنے کیلئے چند دن کا وقت دیا جانا چاہئے ۔ انھوں نے جنتر منتر پر ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اگر کجریوال حکومت انا ہزارے کا جن لوک پال بل مقررہ وقت میں منظور نہ کرے تو وہ ملک بھر میں احتجاج شروع کردیں گے ۔ ونود کمار بنی نے حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ انتخابی تیقنات کی جو اس نے عوام کو دیئے تھے تکمیل سے بچنے کیلئے اقتدار سے بے دخل ہونے کی کوشش کررہی ہے۔

بنی کو کجریوال نے پارٹی سے مخالفانہ سرگرمیوں کے الزام میں برطرف کردیا ہے۔ انہوں نے یاددہانی کی کہ کجریوال نے تشکیل حکومت سے پہلے پوری دہلی میں استصواب عامہ کروایا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ان کے اخراج کا فیصلہ کرنے سے پہلے ہی انہیں لکشمی نگر انتخابی حلقہ میں جس کی وہ اسمبلی میں نمائندگی کرتے ہیں استصواب کروانا چاہئے تھا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ چیف منسٹر دہلی ایک ڈکٹیٹر بن گئے ہیں اور تمام فیصلے خود کررہے ہیں۔ وہ جنتر منتر پر دھرنے کے آغاز کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔انہوں نے کہا کہ ان کے خلاف ضابطہ کے مطابق کارروائی کے بارے میں کوئی مکتوب وصول نہیں ہوا۔ میرے خلاف کارروائی کے بجائے کجریوال کو وزیر قانون سومناتھ بھارتی کے خلاف کارروائی کرنی چاہئے تھی جنہوں نے آدھی رات کے دھاوے کی قیادت کرتے ہوئے ایک افریقی خاتون کو زدوکوب کیا تھااور اس سے بد سلوکی کی تھی۔ دھرنے کے آغاز سے قبل بنی نے لیفٹننٹ گورنر دہلی نجیب جنگ سے ملاقات کی اور وزیر قانون سومناتھ بھارتی کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ ان کے خلاف کارروائی دیگر غیر مطمئن ارکان اسمبلی کو دھمکانے کے مقصد سے کی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ گورنر نے انہیں تیقن دیا ہے کہ مناسب کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ عام آدمی پارٹی حکومت نے خواتین پر مظالم کے انسداد کیلئے ٹاسک فورس قائم کرنے کنٹراکٹ ملازمین کو مستقل کرنے کا تیقن دیا تھالیکن ایک بھی تیقن کی تکمیل نہیں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ اگر عوامی مسائل اٹھانا پارٹی کے خلاف بغاوت ہے تو وہ یقینا یہ کام جاری رکھیں گے۔ اس سوال پر کہ عوامی مسائل پر عام آدمی پارٹی کی تائید وہ کیسے کریں گے انہوں نے جواب دیا کہ عوامی مسائل کیلئے ہی انہوں نے عام آدمی پارٹی کی تائید کی تھی اور اسی کیلئے اس کی مخالفت بھی کررہے ہیں۔ اس سوال پر کہ کیا وہ بی جے پی یا کانگریس میں شمولیت اختیار کریں گے انہوں نے کہا کہ وہ دونوں کی سیاست کے مخالف ہیں اس لئے ایسا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔دھرنے کے آغاز سے قبل دنود کمار بنی نے مہاتما گاندھی کی سمادھی راج گھاٹ پر بابا قوم کو خراج عقیدت پیش کیا۔

TOPPOPULARRECENT