Monday , September 24 2018
Home / Top Stories / کجریوال کا حلف، دہلی کو کرپشن سے پاک اولین شہر بنانے کا وعدہ

کجریوال کا حلف، دہلی کو کرپشن سے پاک اولین شہر بنانے کا وعدہ

نئی دہلی ، 14 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) عام آدمی پارٹی لیڈر اور دوبارہ چیف منسٹر بننے والے اروند کجریوال نے اپنی دوسری اننگز میں زیادہ سوجھ بوجھ اور عملی انداز اختیار کرتے ہوئے آج عزم کیا کہ دہلی کو ملک کا اولین کرپشن سے پاک شہر بنائیں گے اور ’’وی آئی پی کلچر‘‘ ختم کردیں گے جبکہ انھوں نے اے اے پی کی زبردست فتح کے بعد پارٹی رفقاء کو ’

نئی دہلی ، 14 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) عام آدمی پارٹی لیڈر اور دوبارہ چیف منسٹر بننے والے اروند کجریوال نے اپنی دوسری اننگز میں زیادہ سوجھ بوجھ اور عملی انداز اختیار کرتے ہوئے آج عزم کیا کہ دہلی کو ملک کا اولین کرپشن سے پاک شہر بنائیں گے اور ’’وی آئی پی کلچر‘‘ ختم کردیں گے جبکہ انھوں نے اے اے پی کی زبردست فتح کے بعد پارٹی رفقاء کو ’’غرور و تکبر‘‘ کے خلاف متنبہ کیا۔ یہاں رام لیلا میدان میں حلف برداری کے بعد اندازہً 100,000 پُرجوش حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے (انھوں نے عوام سے تقریب حلف برداری میں شرکت کیلئے ریڈیو پر خصوصی اپیل کی تھی) کجریوال نے دہلی کیلئے مکمل ریاست کا درجہ چاہتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی کو بہت مسائل پر توجہ دینا ہے اور یہ کہ دہلی کو لازماً دہلی والوں پر چھوڑ دینا چاہئے۔ اور پھر ایسے تبصرے میں جن کا مثبت ردعمل ہوا، عام آدمی پارٹی لیڈر نے جو اپنی پارٹی کی ’’میں ہوں عام آدمی‘‘ کے الفاظ والی سفید ٹوپی پہنے ہوئے تھے، اپنے شکست خوردہ حریفوں بی جے پی کی کرن بیدی اور کانگریس کے اجئے ماکن سے اچھے رابطے کی کوشش میں کہا کہ وہ دونوں ہی سے صلاح مشورہ کریں گے کہ دہلی کو کس طرح ترقی دی جائے۔ انھوں نے کرن بیدی کو اپنی ’’بڑی بہن‘‘ قرار دیا۔ ’’اقتدار پر ہمارے (قبل ازیں) 49 دنوں کے بعد ہمیں اعتماد حاصل ہے کہ ہم دہلی میں بدعنوانی کا خاتمہ کردیں گے،‘‘ 46 سالہ کجریوال نے یہ بات کہی جس پر انھیں پُرجوش داد و تحسین حاصل ہوئی۔

’’ہمیں دہلی کو ہندوستان میں پہلا کرپشن سے پاک شہر بنانا ہوگا۔ ہم یہ کرسکتے ہیں۔‘‘ اور 2013ء کی اپنی رام لیلا میدان والی تقریر کے نکات کا اعادہ کرتے ہوئے کجریوال نے عوام سے اپیل کی کہ عہدیداروں کی جانب سے رشوتوں کیلئے تقاضوں کو اپنے موبائل فونس پر دانشمندی سے ریکارڈ کرلیں اور ایسی ریکارڈنگ انھیں بھیج دیں۔ ’’ہم سخت ترین کارروائی کریں گے،‘‘ نئے چیف منسٹر کے ان الفاظ پر واہ واہ کی ایک اور گونج اٹھی۔ کجریوال نے کہا کہ وہ ہیلپ لائن نمبر جس کا انھوں نے اپنی پہلی میعاد میں اعلان کیا تھا دوبارہ شروع کی جائے گی تاکہ عوام کرپشن کے تعلق سے شکایت درج کرا سکیں۔ اُن کی حکومت جن لوک پال بل بھی منظور کرے گی۔ قبل ازیں دارالحکومت کے قلب میں واقع وسیع و عریض میدان پر بھرپور ہجوم غیرمعمولی خوشی کا اظہار کیا جب کجریوال نے عہدہ اور رازداری کا حلف لیفٹننٹ گورنر نجیب جنگ سے لیا، جس کے بعد چھ وزراء کی حلف برداری ہوئی، اور پھر چیف منسٹر نے ہندی میں 30 منٹ خطاب کیا۔ چھ وزراء میں کجریوال کے طویل وقت سے بااعتماد رفیق منیش سیسوڈیہ جو ڈپٹی چیف منسٹر ہوں گے، ستیندر جین، سندیپ کمار، گوپال رائے، عاصم احمد خان اور جتندر سنگھ تومر شامل ہیں۔ سیسوڈیہ اور جین پہلے بھی کجریوال حکومت میں تھے۔ اپنے دلی احساس کا اظہار کرتے ہوئے کجریوال نے اعتراف کیا کہ اے اے پی کا 2014ء لوک سبھا الیکشن لڑنے کا فیصلہ (جس کے تحت خود انھوں نے مودی کا وارانسی میں مقابلہ کیا اور ہارے) فاش غلطی ہوئی۔ انھوں نے اپنے وزراء، لیجسلیٹرز اور پارٹی رفقاء سے اپیل کی کہ کبھی احساس برتری کے جارحانہ انداز کا مظاہرہ نہ کریں، اور کہا کہ یہی کچھ ہے جس نے کانگریس اور بی جے پی کو تباہ کردیا۔ ’’اگر خودسری پیدا ہوجائے تو ہم ہمارا مشن پورا کرنے میں کامیاب نہیں ہوں گے۔‘‘ عام آدمی پارٹی نے 70 نشستوں میں غیرمعمولی 67 جیت لئے اور محض تین بی جے پی کیلئے چھوڑے۔ ’’میں جانتا ہوں دہلی کے عوام ہمیں چاہتے ہیں۔

لیکن مجھے نہیں پتہ تھا کہ وہ ہم کو اس قدر چاہتے ہیں۔‘‘ کجریوال نے اس انتخابی نتیجہ کو ’’کرشمہ‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ خدا کچھ پیام دینا چاہتا ہے۔ ’’ہمیں اس پیام کو سمجھنا ہوگا۔‘‘ گزشتہ مرتبہ کی طرح کجریوال نے اس پر امتناع عائد کردیا جسے وہ وی آئی پی کلچر کہتے ہیں، جس میں سرکاری گاڑیوں پر لال بتیاں اور زبردست سکیورٹی کے ساتھ عوامی مقامات پر اکڑ دکھانا شامل ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہندوستانی لوگ ایسا سماج چاہتے ہیں جہاں سیاسی قائدین بھی بسوں میں سفر کریں جیسا کہ یورپ کے کئی ممالک میں ہوتا ہے۔ انکم ٹیکس عہدہ دار سے جہدکار پھر چیف منسٹر بننے والے کجریوال جو چند دن سے بخار میں مبتلا ہیں، طبیعت کے اعتبار سے کچھ ناساز معلوم ہوئے۔ انھوں نے ہجوم کو بتایا کہ وہ ’کروسِن‘ کی گولی استعمال کرکے حلف برداری تقریب میں آئے ہیں۔ عام آدمی پارٹی لیڈر نے اے اے پی قائدین سے منسوب ایسے بیانات کو نامناسب قرار دیا کہ دہلی کی فتح کے بعد پارٹی دیگر ریاستوں میں وسعت حاصل کرے گی۔ انھوں نے کہا کہ اس میں سے تکبر کی جھلک معلوم ہوتا ہے۔ ’’خدا نے ہمیں حکم دیا ہے، دہلی کے عوام نے ہمیں اُن کی خدمت کیلئے کہا ہے … آنے والے تمام پانچ سال، میں صرف دہلی کے عوام کی خدمت کروں گا۔‘

‘ انھوں نے کہا کہ وہ وزیراعظم مودی کو بتا چکے ہیں کہ اے اے پی مرکزی حکومت کے ساتھ ’’تعمیری تعاون‘‘ کے حق میں ہے، اور اب وقت آچکا ہے کہ دارالحکومت دہلی کو مکمل
ریاست کا درجہ عطا کردیا جائے۔ اے اے پی لیڈر نے کہا کہ انتخابات سے قبل بی جے پی نے دہلی کے عوام سے مکمل ریاست کا درجہ دلانے کا وعدہ کیا تھا۔ مرکز کیلئے یہ ممکن نہیں کہ ریاست کی حکمرانی سے متعلق اہم مسائل پر بھی خاطرخواہ توجہ مرکوز کرسکے۔ ’’لہذا ، مجھے امید ہے مرکز اپنے وعدہ کی پاسداری کرے گا۔‘‘ انھوں نے کہا کہ اگرچہ دہلی پولیس پر اُن کا کنٹرول نہیں، لیکن انھیں اعتماد ہے کہ اُن کی حکومت تمام مذاہب اور برادریوں کے عوام کیلئے دہلی کو محفوظ شہر بنائے گی۔ مشرقی دہلی میں ہندو۔ مسلم فسادات اور چرچوں اور عیسائی اداروں پر حالیہ حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے کجریوال نے کہا کہ دہلی نے اس قسم کی پریشانیاں 35 سال میں کبھی نہیں دیکھے تھے۔ ’’دہلی کے عوام امن پسند ہیں۔ وہ اسے برداشت نہیں کریں گے ، ہم امن سے رہنا چاہتے ہیں۔‘‘ کجریوال نے اپنے خطاب کا اختتام بھائی چارہ و فرقہ وارانہ میل ملاپ پر گیت گاتے ہوئے کیا، جسے انھوں نے ہجوم سے بھی گانے کیلئے کہا ، جس سے پھر مظاہرہ ہوا کہ کس طرح یہ غیرروایتی ، اور کچھ حد تک باغیانہ روش کا حامل سیاست دان دوسروں سے مختلف ہے۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT