Sunday , June 24 2018
Home / سیاسیات / کجریوال کا فہرست رائے دہندگان میں اندراج بالکل درست

کجریوال کا فہرست رائے دہندگان میں اندراج بالکل درست

نئی دہلی ۔ 4 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) عام آدمی پارٹی کے سربراہ اروند کجریوال کا فہرست رائے دہندگان میں اندراج آئندہ اسمبلی انتخابات کیلئے جو دہلی میں مقرر ہیں، بالکل درست ہے۔ الیکشن کمیشن نے دہلی ہائیکورٹ میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ کجریوال کا اندراج بالکل درست ہے۔ جسٹس وبوبکھرو کی بنچ کے اجلاس پر دوشنبہ کو کانگریس قائد کرن والیا نے در

نئی دہلی ۔ 4 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) عام آدمی پارٹی کے سربراہ اروند کجریوال کا فہرست رائے دہندگان میں اندراج آئندہ اسمبلی انتخابات کیلئے جو دہلی میں مقرر ہیں، بالکل درست ہے۔ الیکشن کمیشن نے دہلی ہائیکورٹ میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ کجریوال کا اندراج بالکل درست ہے۔ جسٹس وبوبکھرو کی بنچ کے اجلاس پر دوشنبہ کو کانگریس قائد کرن والیا نے درخواست پیش کرتے ہوئے کجریوال کا نام دہلی کی فہرست رائے دہندگان سے خارج کرنے کی گذارش کی تھی اور ادعا کیا تھا کہ انہوں نے خود کو دہلی کا شہری غیرقانونی طور پر قرار دیا ہے۔ الیکشن کمیشن آف انڈیا نے بنچ کے اجلاس پر کہا کہ اروند کجریوال کا نام بالکل درست طور پر دہلی کی فہرست رائے دہندگان میں درج کیا گیا ہے۔ ان کا حلقہ دہلی کے پتہ 87 بلاک کے بی کے دت کالونی (جورباغ) بالکل درست پایا گیا۔ عدالت نے الیکشن کمیشن کو فیصلے کے متعلق دستاویزات پیش کرنے کی ہدایت دی اور والیا کی نمائندگی مسترد کردی کہ کجریوال کا نام فہرست رائے دہندگان سے حذف کردیا جائے۔ الیکشن کمیشن نے عدالت سے یہ بھی کہا کہ ،تازہ ترین فہرست رائے دہندگان برائے دہلی کی جانچ کی گئی ہے اور کجریوال کا نام بی کے دت کالونی کی فہرست میں درج ہے۔

دریں اثناء الیکشن کمیشن نے کجریوال کی شکایت کو کہ الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں میں بی جے پی کے حق میں ’’ہیرپھیر‘‘ کی گئی ہے، بالکل غلط قرار دیتے ہوئے انہیں اطلاع دی کہ ان مشینوں سے کوئی چھیڑچھاڑ نہیں کی گئی ہے۔ الیکشن کمیشن نے وضاحت کی کہ تین مرکزی شاخوں کے چار رائے دہی مراکز کی الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کے قفل منتقلی کے دوران ٹوٹ گئے تھے۔ ان کو تبدیل کردیا گیا ہے اور اس وقت عام مبصرین موجود تھے۔ عام آدمی پارٹی کے ایک نمائندہ نے بعدازاں اس دستاویز پر دستخط کی جس میں حقائق کی تفصیل درج کی گئی تھی۔ کجریوال سے الیکشن کمیشن نے کہا کہ کوتاہیاں بنیادی طور پر میکانکی نوعیت کی تھی۔ ذرائع کے بموجب جس مشین کا کجریوال نے حوالہ دیا تھا وہ مابعد 2004ء بیاچ کی ہے جس میں چھیڑچھاڑ کا امکان بہت کم ہے۔

الیکشن کمیشن نے کہا کہ صرف چند مشینوں کے سوائے جن کے قفل منتقلی کے دوران ٹوٹ گئے تھے اور جن کو تبدیل کردیا گیا باقی مشینوں کے تینوں قفل بالکل درست پائے گئے۔ الیکشن کمیشن نے وضاحت کی کہ الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کے مسئلہ کے بارے میں تمام شکوک و شبہات بے بنیاد ہیں۔ یہ مشینیں نئی ہیں اور چھیڑچھاڑ سے محفوظ ہیں۔ ان کی دو بار جانچ کی گئی ہے۔ الیکشن کمیشن کے عہدیداروں سے ملاقات کے بعد اروند کجریوال نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ الیکٹرانک ووٹنگ مشینیں اور کنٹرول کی شاخیں کئی جانچ کے مرحلوں سے گذرتی ہیں۔ اس کے بعد ہی انہیں حقیقی رائے دہی کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔ ان سے کہا گیا ہیکہ ایک فرضی رائے دہی بھی کی گئی تھی تاکہ ناقص مشینیں تبدیل کردی جائیں۔ تمام اندیشے جن کے بارے میں عام آدمی پارٹی نے نمائندگی کی تھی، فرضی رائے دہی کے دوران غلط ثابت ہوئے۔

TOPPOPULARRECENT