Wednesday , September 26 2018
Home / Top Stories / کجریوال کی رہائش گاہ میں پولیس داخل، دفتر اور عمارت کی تلاشی

کجریوال کی رہائش گاہ میں پولیس داخل، دفتر اور عمارت کی تلاشی

دہلی میں پولیس راج، جمہوریت کا قتل، 70 ملازمین پولیس کی طرف سے تلاشی پر برہم چیف منسٹر کا ریمارک، مشیر کے بیان سے نیا موڑ
نئی دہلی 23 فروری (سیاست ڈاٹ کام) دہلی کے چیف منسٹر اروند کجریوال کی سرکاری رہائش گاہ میں مقامی پولیس کی ایک ٹیم داخل ہوگئی اور چیف سکریٹری انشو پرکاش پر عام آدمی پارٹی کے ارکان اسمبلی کے مبینہ حملہ سے متعلق ثبوت جمع کرنے کے لئے تفصیلی تلاشی لی۔ شمالی دہلی کے ایڈیشنل ڈی سی پی ہریندر سنگھ نے کہاکہ ’’چیف سکریٹری کو مبینہ زدوکوب کے ضمن میں سی سی ٹی وی فٹیج کے بشمول دیگر تمام ثبوت جمع کرنے کے لئے پولیس کی ایک ٹیم چیف منسٹر (اروند کجریوال) کی رہائش گاہ روانہ کی گئی تھی‘‘۔ اس پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کجریوال نے کہاکہ ’’میری رہائش گاہ کو پولیس کی بھاری نفری بھیجی گئی تھی محض دو طمانچے رسید کرنے کے الزام کی بنیاد پر چیف منسٹر کی ساری رہائش گاہ کی مکمل تلاشی لی گئی لیکن ایک جج لویا کی (پُراسرار) موت کے ضمن میں امیت شاہ سے پوچھ گچھ کب کی جائے گی‘‘۔ کجریوال نے کہاکہ اس مسئلہ پر بات چیت کے لئے ان کی مجلس وزراء نے لیفٹننٹ گورنر انیل بائجال سے ملاقات کے لئے وقت لیا ہے۔ ایک عہدیدار نے کہاکہ ’’دہلی میں چونکہ تمام خدمات لیفٹننٹ گورنر کے تحت آتی ہیں مجلس وزراء ان سے درخواست کرے گی کہ چیف سکریٹری پر مبینہ حملے کی تحقیقات کے جاری رہنے کے باوجود بھی تمام اعلیٰ عہدیداروں کو عام آدمی پارٹی حکومت کے ساتھ کام کرتے رہنے کی ہدایت کی جائے‘‘۔ حکومت دہلی کے ایک ترجمان ارونودیا پرکاش کے مطابق 60 تا 70 پولیس اہلکار پہلے کوئی اطلاع دیئے بغیر ہی چیف منسٹر کے دفتر میں داخل ہوگئے۔

پرکاش نے ٹوئیٹر پر لکھا کہ ’’پولیس نے چیف منسٹر کے گھر پر چڑھائی کردی۔ کثیر تعداد میں پولیس فورس پہلے کوئی اطلاع دیئے بغیر ہی سی ایم ہاؤز میں داخل ہوگئی۔ پولیس راج نے دہلی میں جمہوریت کو ہلاک کردیا۔ چیف منسٹر کے سارے گھر کے اندر پولیس داخل ہوگئی۔ اگر یہی سب کچھ وہ (پولیس) کسی منتخب چیف منسٹر کے ساتھ کرسکتی ہے تو ذرا سوچئے کہ غریب عوام کے ساتھ وہ (پولیس) کیا کرسکتی ہے!!! انھوں نے ٹوئٹر پر مزید لکھا کہ ’’جمہوریت میں یہ گھٹیا حرکت ہے۔ ہر شہری کو دستور کے تحت حقوق حاصل ہیں۔ کیا یہ دراصل ایسے چیف منسٹر کی توہین کرنے کی کوشش ہے جو غریبوں اور بالخصوص سماج کی طرف سے بالکلیہ طور پر نظرانداز کردہ افراد کے لئے انتھک محنت کررہے ہیں؟‘‘ کجریوال کی رہائش گاہ پر پیر کی شب منعقدہ اجلاس میں چیف سکریٹری انشو پرکاش کو مبینہ طور پر زدوکوب کرنے کے الزام میں عام آدمی پارٹی کے دو ارکان اسمبلی پرکاش جروال اور امانت اللہ خاں کو چہارشنبہ کو گرفتار کیا گیا تھا۔ قبل ازیں عام آدمی پارٹی اس مسئلہ پر دو سوالات اُٹھائی تھی۔ پہلے یہ کہ ’’آیا کوئی واقعی سوچتا ہے کہ اروند کجریوال کسی آئی اے ایس آفیسر پر حملہ کی سازش کرسکتے ہیں؟‘‘ دوسرا یہ کہ ’’آیا کوئی اس بات پر یقین کرے گا کہ وہ (کجریوال) 12 بجے رات کو خود اپنے ہی گھر پر وہ بھی اپنی موجودگی میں ہی کسی آئی اے ایس افسر پر حملہ کرواسکتے ہیں؟‘‘ تاہم دہلی پولیس نے ایک مقامی عدالت سے کل کہا تھا کہ چیف منسٹر کجریوال کے ایک مشیر وی کے جین نے توثیق کی کہ عام آدمی پارٹی کے ارکان اسمبلی پرکاش جروال اور امانت اللہ خاں کو چیف سکریٹری انشو پرکاش کو زدوکوب کرتے ہوئے دیکھا تھا۔

TOPPOPULARRECENT