Sunday , September 23 2018
Home / مذہبی صفحہ / کراماتِ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ

کراماتِ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ

عَنِ ابْنِ عُمَرَ رضي ﷲ عنهما قَالَ : مَا سَمِعْتُ عُمَرَ لِشَيءٍ قَطُّ يَقُوْلُ : إِنِّي لَأَظُنُّهُ کَذَا إِلَّا کَانَ کَمَا يَظُنُّ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
’’حضرت عبد اﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہماسے مروی ہے کہ میں نے حضرت عمر ؓسے کوئی ایسی بات نہیں سنی جس کے متعلق انہوں نے فرمایا ہو کہ میرے خیال میں یہ اس طرح ہے اور وہ ان کے خیال کے مطابق نہ نکلی ہو۔‘‘
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي اللہ عنه قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ ﷲِ صلي اللہ عليه وآله وسلم : لَقَدْکَانَ فِيْمَا قَبْلَکُمْ مِنَ الْأُمَمِ نَاسٌ مُحَدَّثُوْنَ، فَإِنْ يَکُ فِي أُمَّتِي أَحَدٌ فَإِنَّهُ عَمَرُ أَي مُلْهَمُوْنَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ مِنْ رِوَايَةِ عَائِشَةَ رضي ﷲ عنها.وقَالَ أَبُوْعِيْسَي : هَذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحٌ.
وفي رواية : عَنْ أَبِي سَعِيْدٍ الْخُدْرِيِّ رضي اللہ عنه قَالُوْا : يَارَسُوْلَ ﷲِ! کَيْفَ مُحَدَّثٌ؟ قَالَ : تَتَکَلَّمُ الْمَلَائِکَةُ عَلَي لِسَانِهِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.
’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : پہلی امتوں میں ایسے لوگ تھے جن کے دل میں اﷲ تعالیٰ کی طرف سے باتیں القاء کی جاتی تھیں (یعنی انہیں الہام ہوتا تھا) اور میری امت میں اگر کوئی ایسا شخص ہے تو وہ عمر ہے۔‘‘
’’اور حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی روایت میں بیان کیا کہ صحابہ کرام نے پوچھا : (یا رسول اﷲ!) اس الہام کی کیفیت کیا ہوتی ہے؟ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اس کی زبان پر فرشتے بولتے ہیں۔‘‘

TOPPOPULARRECENT