Saturday , September 22 2018
Home / Top Stories / کربلا میں مجلس اربعین، لاکھوں زائرین کا اجتماع

کربلا میں مجلس اربعین، لاکھوں زائرین کا اجتماع

کربلا ۔ 13ڈسمبر۔( سیاست ڈاٹ کام ) پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفی صلی اﷲ علیہ و آلہٖ و سلم کے نواسہ حضرت سیدنا امام حسینؓ کے روضہ مبارک پر حاضری کیلئے لاکھوں شیعہ مسلمان عراقی شہر کربلا میں جمع ہوگئے ہیں جہاں سالانہ مجلس اربعین کا انعقاد عمل میں آرہا ہے ۔ کربلا میں ہونے والا یہ اجتماع دنیا کے چند سب سے بڑے مذہبی اجتماعات میں شمار کیا جات

کربلا ۔ 13ڈسمبر۔( سیاست ڈاٹ کام ) پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفی صلی اﷲ علیہ و آلہٖ و سلم کے نواسہ حضرت سیدنا امام حسینؓ کے روضہ مبارک پر حاضری کیلئے لاکھوں شیعہ مسلمان عراقی شہر کربلا میں جمع ہوگئے ہیں جہاں سالانہ مجلس اربعین کا انعقاد عمل میں آرہا ہے ۔ کربلا میں ہونے والا یہ اجتماع دنیا کے چند سب سے بڑے مذہبی اجتماعات میں شمار کیا جاتا ہے جس میں شرکت کیلئے لاکھوں مسلمان ، دولت اسلامیہ عراق و شام (داعش) کے جہادیوں کے خطرات اور دھمکیوں کی پرواہ کئے بغیر جمع ہورہے ہیں ۔ کئی شیعہ زائرین 12دن تک پیدل چلتے ہوئے ایرانی سرحد کے اُس پار سے اور جنوبی عراق کے دوردراز کے علاقوں سے کربلا پہونچے ہیں۔ دیگر زائد بسوں اور مسافرین سے کھچاکھچ بھری لاریوں کے ذریعہ کربلا پہونچے ہیں۔ عراقی وزیر دفاع خالد العبیدی نے کہا کہ ایک کروڑ 70 لاکھ شیعہ زائرین اور اربعین میں شرکت کے لئے پہونچے ہیں جن میں دنیا کے 60 مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے 40 لاکھ بیرونی زائرین بھی شامل ہیں۔ سیاہ ماتمی لباس میں ملبوس شیعہ زائرین کی کثیرتعداد سے کربلا میں انسانی سروں کا سمندر نظر آرہا ہے ۔ یہ زائرین سر و سینہ کوبی کرتے ہوئے امام حسینؓ کے روضہ مبارک کی سمت پیشرفت کررہے ہیں ۔

وہ اپنے اس ماتم کے ذریعہ اس بات پر رنج و ملال کا اظہار کیا کرتے ہیں کہ وہ پیغمبر اسلام کے لخت جگر نواسے حضرت امام حسینؓ کو یزیدی لشکر سے نہیں بچاسکے جس (لشکر ) نے 680 ء میں حضرت امام حسینؓ کا سرقلم کردیا تھا۔ چند سوگواراجتماعی طورپر ماتم و نعرہ بازی کررہے تھے ۔ چند دوسرے یہ محسوس کررہے تھے کہ دولت اسلامی ( آئی ایس ) گروپ کے خلاف اپنی لڑائی میں اربعین کا اجتماع شیعہ برادری کی طاقت کی علامت تصور کیا جائے گا ۔ کربلا میں جمعہ کو ایک مورٹار حملہ میں ایک شخص ہلاک ہوگیا تھا جس سے دنیا کے ایک بڑے مذہبی اجتماع کو لاحق سکیورٹی خطرات کا اظہار ہوتا ہے ۔لیکن زائرین اس قسم کے حملوں اور خطرات سے خوفزدہ نہیں ہیں۔ ایک 25 سالہ شیعہ زائر خادم حسین جو نصیریہ سے 25کیلومیٹر کا فاصلہ پید ل طئے کرتے ہوئے کربلا پہونچا ہے ، کہا کہ ’’مورٹار حملوں کو بھول جائیے اگر کربلا میں جہادیوں کی بارش بھی ہوگی تو یہ ہمیں حضرت امام حسینؓ کے روضہ پر حاضری سے نہیں روک سکے گی‘‘ ۔ سنی گروپ دولت اسلامیہ ( آئی ایس ) شیعہ مسلمانوں کو غلط تصور کرتا ہے

اور اس (شیعہ برادری ) کو حملوں کا نشانہ بنانا اپنے اہم مقاصد میں سے ایک تصور کرتا ہے ۔ عراق میں شیعہ اکثریتی حکومت کے قائدین بھی اس اجتماع کو آئی ایس اور جہادیوں کے خلاف مزاحمت کا ایک اہم ذریعہ تصور کرتی ہے۔ آئی ایس گروپ کے جہادیوں نے حالیہ عرصہ کے دوران عراق کے کئی مقامات پر قبضہ کیا ہے ۔ تقریباً 10 لاکھ ایرانی بھی اس اجتماع میں حصہ لے رہے ہیں جن میں شامل کئی افراد نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ ان کے روحانی رہبر اعلیٰ آیت اﷲ علی خامنہ ای کی ہدایت پر اربعین کے اس اجتماع میں شرکت کررہے ہیں ۔ زائرین کی صحیح تعداد کے تخمینوں کی آزاد ذرائع سے توثیق اگرچہ دشوار ہے لیکن تمام سرکاری ذمہ داروں نے اس بات سے اتفاق کیا ہے کہ اس سال کے اربعین جیسا سب سے بڑا اجتماع پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا ۔ انتظامات کے مقامی نگراں نے کہا ہے کہ کربلا میں زائرین کے اجتماع کو آسان بنانے کیلئے متبادل راستے بنائے گئے ہیں۔ حتیٰ کہ عراق کے سب سے بااثر اور بزرگ شیعہ رہنما آیت اﷲ علی السیتانی نے اعتراف کیا کہ ’’کربلا ، اپنی موجودہ حالت میں اس کثیرتعداد میں زائرین کے اجتماع کا متحمل نہیں ہے‘‘ ۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT