Wednesday , January 24 2018
Home / مذہبی صفحہ / کربلا کے بعد

کربلا کے بعد

عابد علی خاں مرحوم ، بانی سیاست نوٹ:۔ مرحوم عابد علی خاں صاحب کی ایک نایاب تحریر، جو ۶۲ برس قبل ’’سرفراز‘‘ لکھنؤ کے لئے لکھی گئی۔ یہ تحریر ڈاکٹر سید تقی عابدی کے ذاتی کتب خانہ ٹورنٹو( کناڈا) میں محفوظ ہے۔ ٭٭٭

عابد علی خاں مرحوم ، بانی سیاست

نوٹ:۔ مرحوم عابد علی خاں صاحب کی ایک نایاب تحریر، جو ۶۲ برس قبل ’’سرفراز‘‘ لکھنؤ کے لئے لکھی گئی۔ یہ تحریر ڈاکٹر سید تقی عابدی کے ذاتی کتب خانہ ٹورنٹو( کناڈا) میں محفوظ ہے۔
٭٭٭
آج سے تیرہ سو سال قبل کربلا کے ریگزار میں جو واقعہ سرزد ہوا وہ کسی ایک فرقہ و ملت ہی کا سرمایہ اعزاز نہیں، یہ واقعہ تو تاریخ عالم کا ایک ایسا لافانی و لاثانی باب ہے کہ جس پر ہر قوم و ہر ملت گہری توجہ سے اس واقعہ کی عظمت کو محسوس کرتی ہے۔ چوں کہ یہ واقعہ حق و باطل اور اندھیرے و اجالے اور نیکی و بدی کی ایسی جنگ ہے کہ جس میں اصول و ایقان کے علمبرداروں و پرستاروں نے راستہ کی صعوبتوں کا خیال کئے بغیر گرم سفر رہے اور اپنی جانیں بھی نذر کردیں۔ بدی کے ساتھ نیکی کی جنگ کرنے والا قافلہ مختصر تھا، بے بضاعت تھا اور مقابلہ کا اہل نہ تھا، لیکن ایمان کے نور و حرارت نے اس پیام کو زندہ رکھنے کے لئے، جس کو عفریت ختم کرنا چاہتی تھی، جو کچھ کیا اس کو رہتی دنیا تک فراموش نہیں کیا جائے گا۔ کربلا کا واقعہ تاریخ کا ایک گزرا ہوا قصہ نہیں، واقعہ کربلا ماضی بھی ہے، حال بھی ہے، مستقبل بھی ہے۔ واقعہ کربلا قوم کی زندگی میں ایک مینارۂ نور ہے، جو ایمان کی حرارت بھی پیدا کرتا ہے اور مستقبل کا راستہ بھی دِکھلاتا ہے۔ واقعہ کربلا نے اسلام کو زندہ کیا، ہر سال اس واقعہ کی یاد سے ایمان مستحکم و پائیدار چٹان بنایا جاتا ہے۔ حادثہ کربلا بے جان تاریخی عظمت ہی نہیں، ایک زندہ و جاوید حقیقت بھی ہے کہ مسلمان اس نور و حرارت ایمانی کو سنوارے اور بلند و بالا بنائے، جس سے زندگی کے درد و غم مٹ جائیں اور ملت و مذہب پر چھایا ہوا گہن دُور ہوسکے۔ کربلا کا واقعہ صرف حسین کی شہادت کا نام نہیں، حسین کی شہادت اسلام کے نام ایک مستقل و جامع پیام ہے، جو اس وقت تک زندہ و جاوید رہے گا، جب تک کہ اس افلاک پر مہر و مہ چمکتے رہیں گے۔

کربلا میں آج سے سیکڑوں سال قبل صرف یزید و حسین کا معرکہ بپا تھا، لیکن آج ساری دنیا اس واقعہ کو دو گروہ کا تصادم نہیں کہتی۔ چوں کہ حسین کی جدوجہد فرد یا افراد سے متعلق نہ تھی، وہ تو اس ایمان و پیام کی محافظت و پاسبانی میں شہید ہوئے، جو ساری دنیا میں ایک نیا نور بکھیرنے والا تھا۔ اس واقعہ کے پہلو میں ساری کائنات کا غم و الم لپٹا ہوا ہے۔ حسین پر کیا گزری اور مخالفین حسین نے اُن پر کیا قیامت نہ توڑی، تاریخ شاہد ہے کہ اس پر بھی آپ کے پائے ثبات نہ ڈگمگائے اور پھونکوں سے چراغِ ایمان نہ بجھ سکا۔

کربلا کے اس حادثہ پر کرۂ ارض پر رہنے والے سارے فدائیان حسین آج سوگوار ہیں۔ اس واقعہ کی عظمت کو ہر مذہب و ملت محسوس کرتے ہوئے اپنا خاموش خراج عقیدت پیش کرتا ہے۔ حضرت حسین کے مشن کی عظمت، تاریخ عالم کا ایک بے مثال واقعہ ہے۔ اس زندہ و جاوید واقعہ کی یاد ماضی پرستی ہی نہیں ہے، چوں کہ اس واقعہ کی یاد بہتر حال اور مستقبل کے لئے ڈھارس بندھاتی ہے اور مایوسی و ناامیدی، امید و یقین میں بدل جاتی ہے۔ اس لئے عاشور کا دن، اسلام کی تاریخ کا اہم ترین دن ہے، چوں کہ آج سے کئی سو سال پیشتر کا زندہ و جاوید واقعہ زندگی اور حیات کا بھی پیام دیتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT