Thursday , December 13 2018

کرسمس تقاریب کیلئے ہزاروں عیسائی سیاحوں کی بیت اللحم آمد

بیت اللحم / یروشلم 25 ڈسمبر ( سیاست ڈاٹ کام ) کرسمس تقاریب کا یہاں جوش و خروش سے انعقاد عمل میں آیا جبکہ ہزاروں کی تعداد میں عیسائیوں نے بیت اللحم شہر پہونچ کر دعائے نصف شب میں حصہ لیا ۔ بیت اللحم مغربی کنارہ میں واقع ہے ۔ یہاں سمجھا جاتا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام کی حقیقی جائے پیدائش ہے ۔ کہا گیا ہے کہ ان تقاریب کے ذریعہ یہاں گذشتہ کئی

بیت اللحم / یروشلم 25 ڈسمبر ( سیاست ڈاٹ کام ) کرسمس تقاریب کا یہاں جوش و خروش سے انعقاد عمل میں آیا جبکہ ہزاروں کی تعداد میں عیسائیوں نے بیت اللحم شہر پہونچ کر دعائے نصف شب میں حصہ لیا ۔ بیت اللحم مغربی کنارہ میں واقع ہے ۔ یہاں سمجھا جاتا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام کی حقیقی جائے پیدائش ہے ۔ کہا گیا ہے کہ ان تقاریب کے ذریعہ یہاں گذشتہ کئی دنوں سے جاری کشیدہ ماحول میں قدرے تبدیلی آئی ہے جو اسرائیل ۔ حماس جنگ کے وقت سے شروع ہوئی تھی ۔ تقاریب کا مرکز سمجھے جانے والے مانگیر اسکوائر پر سب سے زیادہ سرگرمیاں دیکئی گئیں جب یہاں پہونچنے والے سیاحوں نے کرسمس کی خوشی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ۔ یہاں کئی تقاریب منعقد ہوئیں اور عیسائی برادری نے آتشبازی کا بھی بڑے پیمانے پر اہتمام کیا تھا ۔ بیت اللحم میں کرسمس تقاریب کے دوران عام طور پر جو دوکانیں سجائی جاتی ہیں اس بار ان میں کمی دیکھی گئی کیونکہ جنگ کی وجہ سے اس سال معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں ۔

حالانکہ کچھ مقامات پر تقاریب کے بڑے پیمانے پر انعقاد کے ذریعہ ان اثرات کو کم کرنے کی کوشش کی گئی تھی ۔ یہاں چھوٹے موٹے کاروباری عوام کی ضرورت کی اور دیگر روایتی اشیاء فروخت کرتے دیکھے گئے جبکہ بچے سانٹا کلاز کے لباس ذیب تن کئے ہوئے خوشیاں مناتے رہے ۔ وہ ایک دوسرے سے اور یہاں آنے والے سیاحوں سے مصافحہ کر رہے تھے اور انہیں کرسمس کی مبارکباد دے رہے تھے ۔ ایک مقامی ہوٹل کے مالک خالد الخطیب نے کہا کہ جاریہ سال میں یہ پہلا موقع ہے جب تقریبا تمام ہوٹلوں میں ان کی گنجائش کے مطابق سیاح آئے ہیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ انہیں اندیشہ ہے کہ ایسا زیادہ وقت تک نہیں رہے گا ۔ کچھ مقامات پر عوام نے اونچے اونچے کرسمس کے درخت لگاتے ہوئے اپنی خوشی کا اظہار کیا تاہم انگریزی و عربی زبان میں یہاںکچھ پوسٹرس بھی دیکھے گئے جن پر تحریر کیا گیا تھا کہ ’’ اس کرسمس کیلئے اتنا ہی کافی ہے کہ انصاف کیا جائے ‘‘ ۔

اب تک اس طرح کے پوسٹرس میں یہ نعرہ ہوتا کہ اس کرسمس پر امن ہونا چاہئے ۔ فلسطین کے وزیر سیاحت رولہ مایا نے کہا کہ اس کرسمس پر بھی ہمارا پیام امن کا ہی ہے جیسا کہ ہم ہر سال دیتے ہیں تاہم اس بار ہم نے اس میں کچھ اضافہ کیا ہے کہ ہم انصاف چاہتے ہیں۔ ہمارے عوام کیلئے انصاف چاہتے ہیں ہمارے کاز کیلئے انصاف چاہتے ہیں اور دنیا میں دوسرے عوام کی طرح ہم کو بھی اپنے ایک آزاد ملک میں آزادی سے رہنے کی اجازت دی جائے جس پر کسی کا تسلط اور قبضہ نہ ہو۔ شہر کے مئیر ویرا بابون نے بھی اسی طرح کے جذبات کا اظہار کیا جبکہ وہ دو پہر میں تقاریب کے آغاز سے قبل وہاں پہونچے تھے ۔ کچھ حلقوں کو امید تھی کہ یہاں کرسمس تقاریب کیلئے ایک لاکھ کے قریب سیاح آئیں گے تاہم حکام کا کہنا ہے کہ گذشتہ کچھ دن سے سیاحوں کی آمد کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے لیکن یہ تعداد توقع کے مطابق نہیں ہے ۔ مقامی عوام کو امید تھی کہ سیاحوں کی آمد میں اضافہ سے یہاں معاشی سرگرمیوں میں تیزی پیدا ہوگی ۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT