Friday , November 24 2017
Home / شہر کی خبریں / کرشنا کے پانی کی تقسیم کا مسئلہ

کرشنا کے پانی کی تقسیم کا مسئلہ

کرناٹک و مہاراشٹرا کے خلاف عدالت سے رجوع ہونے اے پی کا غور
امراوتی 21 اگسٹ ( پی ٹی آئی ) حکومت آندھرا پردیش ‘ کرشنا کے پانی میں واجبی حصہ حاصل کرنے کیلئے مہاراشٹرا اور کرناٹک کی حکومتوں کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع ہونے پر غور کر رہی ہے ۔ اس کا کہنا ہے کہ یہ دونوں ریاستیں اسے کرشنا کے پانی میں واجبی حصہ فراہم نہیں کر رہی ہیں۔ آندھرا پردیش کے وزیر آبی وسائل مسٹر ڈی یو راؤ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم قانونی ماہرین سے مشاورت کر رہے ہیں تاکہ ایک خصوصی درخواست مرافعہ داخل کی جائے یا مفاد عامہ کی کوئی درخواست سپریم کورٹ میں مہاراشٹرا اور کرناٹک کے خلاف دائر کی جائے کیونکہ یہ ریاستیں کرشنا کے پانی کو روکی ہوئی ہیں اور زیریں ریاستوں کو ان کے واجبی حق سے محروم کیا جا رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بہتر بارش کے نتیجہ میں دریائے کرشنا کے مہاراشٹرا اور کرناٹک میں موجود ذخائر آب کی سطح مکمل ہوگئی ہے ۔ ان دونوں ریاستوں میں 275 ٹی ایم سی فیٹ پانی موجود ہے لیکن یہ ریاستیں آندھرا پردیش اور تلنگانہ کی زیریں ریاستوں کو ایک ٹی ایم سی فیٹ پانی بھی جاری نہیں کر رہی ہیں۔ یہ ریاستیں مختلف ٹریبونلس کا سہارا لیتے ہوئے پانی کا پوری طرح استعمال کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مہاراشٹرا اور کرناٹک کی ریاستیں انسانی بنیادوں پر بھی پانی نہیں چھوڑ رہی ہیں تاکہ تلنگانہ اور اے پی میں پینے کے پانی کی ضرورت کی تکمیل کی جاسکے ۔ ہم اس سلسلہ میں مرکزی وزیر آبی وسائل اوما بھارتی سے شکایت کرچکے ہیں اور اب ہم قانونی جدوجہد کی تیاری کر رہے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT