Wednesday , May 23 2018
Home / Top Stories / کرفیو او رایمرجنسی کے باوجود سری لنکا میں مخالف مسلم حملوں کا سلسلہ جاری‘ مساجد ‘ دوکانیں نذر آتش ‘ ملک کی مسلم اقلیت میں ڈر او رخوف

کرفیو او رایمرجنسی کے باوجود سری لنکا میں مخالف مسلم حملوں کا سلسلہ جاری‘ مساجد ‘ دوکانیں نذر آتش ‘ ملک کی مسلم اقلیت میں ڈر او رخوف

کینڈی/سری لنکا۔ جزیرہ نما ملک کے سنٹرہلز میں بدھسٹ ہجوم مسلمان پڑوسیوں کی صفائی میں لگا ہوا ہے‘مقامی رہائشی نے جمعرات کے روز بتایا کہ بھاری پولیس کی تعیناتی‘ اسٹیٹ ایمرجنسی اورکرفیو کے باوجود دوکان اور ریسٹورنٹس کو تباہ کرنے کاسلسلہ ہنوز جاری ہے۔

پچاس سے زائد لوگ چہارشنبہ کی رات کو پیلما تھاولا ٹاؤن میں واقع محمد رمضین کی چھوٹی ریسٹورنٹ میں گھس کر تباہی مچائے جبکہ علاقے میں کرفیو نافذ ہے ۔رمضین نے کہاکہ ’’ٹاؤن میں سکیورٹی ناکافی ہے‘ ہماری زندگیوں کو درپیش خطرات ہمیں ڈر ہے‘‘۔

کینڈی کے دیگر علاقوں میں جو مرکزی پہاڑی شہر ہے ‘ اسی طرح کے واقعات سلسلہ تشدد کے آغاز سے جاری ہے۔وہیں پرجمعرات کے روز تمام ٹاؤن کی سڑکیں سنسان ہی سوائے پولیس اور فوج کے کوئی بھی سڑکوں پر دیکھائی نہیں دے رہاتھا۔

منگل کے روز حکومت کے ایمرجنسی کا اعلان کرتے ہوئے سوشیل میڈیا نٹ ورکس پر روک لگادی تھی ‘ حکومت کا کہنا ہے کہ نفرت پھیلاکر ہجوم کو اکٹھاکرنے اور جھوٹی افواہوں کے لئے سوشیل میڈیا کاسہارا لیاجارہا ہے۔

سری لنکا میریر نے ٹکنالوجی منسٹر ہرین فرینانڈو کے حوالے سے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں منسٹر نے کہاکہ ’’ ٹکنالوجی جولوگوں کو ایک دوسرے سے قریب کرنے کے لئے تیار کی گئی ہے ‘ اس کا استعمال لوگوں کو ایک دوسرے دور کرنے کے لئے کیاجارہا ہے۔

سری لنکا کی پولیس نے کہاکہ جمعرات کے روز ایک مسجد پر پٹرول بم سے حملہ کیاگیا جبکہ کشیدگی کاشکار مرکزی ضلع میں جہاں پر مخالف مسلم فسادات کا سلسلہ جاری ہے اور تین لوگوں کی ہلاک بھی ہوگئے ہیں وہاں پر سینکڑوں فوجی دستوں اپنی گشت جاری رکھے ہوئے ہیں۔

ملک کے مختلف حصوں میں مسلمانوں کے کاروبار او ردکاونوں کو نذر آتش کرنے کے کئی واقعات پیش ائے جبکہ حکومت کی جانب سے جزیرہ نما ملک سری لنکا میں تناؤ کو ختم کرنے کے لئے ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔

پہاڑی ضلع میں پولیس کی مصلح گاڑیوں اور بھاری ہتھیاروں سے لیز فوجی دستے متعین کردئے گئے ہیں ‘ وہیں شام کے کرفیوکی برقراری کے ساتھ انٹرنٹ سروسیس منسوخ کردی گئی ہیں۔ سنہالیسی فسادیوں کی جانب سے سوشیل میڈیا کے ذریعہ مسلمانوں پر حملوں کے لئے اکسانے کے واقعات پولیس کی نظر میںآنے کے بعد حکومت نے انٹرنٹ سروسیس پر روک لگادی ہے۔

زیادہ تر بدھسٹ سنہالیسی اکثریتی طبقے کے لوگ اس فساد میں شامل ہیں‘ پچھلے تین دنوں میں فساد کے دوران دو سو سے زیادہ گھر ‘ کاروبار اورگاڑیوں کو آگ لگادی گئی ہے۔

ایک سرکاری عہدیدار نے کہاکہ چہارشنبہ کی دوپہر کو چوبیس گھنٹوں کا کرفیو اس وقت نافذ کردیاگیا تھا جب ایک حملہ آور کے ہاتھوں میں ہینڈ گرانائیڈ پھٹنے کی وجہہ سے نہ صرف مذکورہ حملہ آور کی موت واقعہ ہوگئی تھی بلکہ دیگر گیارہ لوگ بھی اس واقعہ میں شدید طور پر زخمی ہوئے تھے۔

دن میں کرفیو ہٹاکر رات میں برقرار رکھا گیا ہے مگر سیاحتی مرکز میں تناؤ باقی ہے جس کے سبب اسکولس بھی بند کردئے گئے ہیں۔مگر ساوتھ کانڈی شہر سے 125کیلومیٹر کے فاصلے پر واقعہ کورویتا میں پولیس نے کہاکہ ایک پٹرول بم مسجد پر پھینکا گیا ۔

اس واقعہ میں مسجد کی عمارت کو معمولی نقصان پہنچا ہے اور تین حملہ آوروں کو بھی گرفتار کرلیاگیاہے۔کینڈی سے 240کیلومیٹر کے فاصلے پر واقع ویلیگاما میں مسلمانوں کے ذاتی کاروبار پر حملے کئے گئے ‘ پولیس نے بتایا کہ کینڈی کے باہر مزید دومقامات پر مسلمانوں کے کاروباروں کو نشانہ بنایاگیا ہے۔ سری لنکا ٹیلی کام ریگولیٹری نے انٹرنٹ سرویس فراہم کرنے والوں سے فیس بک اور دیگر سوشیل میڈیاپلیٹ فارم پر روک لگانے کی ہدایت جاری کردی گئی ہے تاکہ مسلمانو ں کے خلاف بھڑکائی جانے والی نفرت پر روک لگائی جاسکے۔

TOPPOPULARRECENT