Monday , January 22 2018
Home / Top Stories / کرناٹک اسمبلی الیکشن میں سکیولرازم بمقابلہ فرقہ پرستی

کرناٹک اسمبلی الیکشن میں سکیولرازم بمقابلہ فرقہ پرستی

BANGALORE, OCTOBER 02, 2013 : Karnataka Chief Minister Siddaramaiah is seen in a Walk the Talk shoot with the chief editor of Indian Express, Shekhar Gupta at the Vidhana Soudha, Bangalore, for NDTV. (PHOTO BY JYOTHY KARAT)

نئی دہلی ، 13 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) چیف منسٹر کرناٹک سدارامیا نے آج کہا کہ ان کی ریاست میں آنے والے اسمبلی انتخابات دو نظریات … فرقہ پرستی اور سکیولرازم کے درمیان مقابلہ رہیں گے۔ انھوں نے تردید بھی کی کہ کانگریس کیلئے کوئی مخالف حکمرانی عنصر نہیں ہے اور کہا کہ پارٹی ’’اطمینان بخش اکثریت‘‘ کے ساتھ چناؤ جیت کر جنوبی ریاست میں اقتدار برقرار رکھے گی۔ سدارامیا کانگریس کی انتخابی تیاری اور حکمت عملی پر غوروخوض کیلئے صدر پارٹی راہول گاندھی کی طلب کردہ میٹنگ میں شرکت کیلئے قومی دارالحکومت آئے۔ یہ میٹنگ تقریباً ساڑھے تین گھنٹے چلی۔ راہول کرناٹک میں اپنی پارٹی کی انتخابی مہم کا پہلا مرحلہ 10 فبروری کو شروع کرنے والے ہیں۔ اس ریاست میں مارچ؍ اپریل میں اسمبلی الیکشن متوقع ہے۔ سدارامیا نے میٹنگ کے بعد میڈیا والوں کو بتایا کہ ’’یہ الیکشن میرے اور (بی ایس) یدیورپا کے درمیان مقابلہ نہیں ہوگا۔ یہ میرے اور (وزیراعظم) نریندر مودی کے درمیان مقابلہ نہیں رہے گا۔ یہ دو نظریات سکیولرازم اور فرقہ پرستی کے درمیان انتخابی لڑائی ہوگی ۔‘‘ صدر کرناٹک کانگریس جی پرمیشور، کارگزار صدور ایس آر پاٹل اور دنیش گنڈو راؤ، پارٹی کے کرناٹک انچارج کے سی وینوگوپال بھی آج کی میٹنگ میں شریک ہوئے۔ ان کے علاوہ سینئر قائدین ملکارجن کھرگے، کے رحمن خان، کے ایچ منیپا، آسکر فرنانڈیز اور ویرپا موئیلی نے بھی شرکت کی۔ یہ گزشتہ ماہ کے گجرات اسمبلی الیکشن کے بعد صدر کانگریس کی طلب کردہ پہلی میٹنگ ہوئی جو کرناٹک چناؤ کے بارے میں منعقد کی گئی۔ سدارامیا نے کہا کہ پارٹی کی انتخابی تیاری کا میٹنگ میں تفصیلی جائزہ لیا گیا اور پارٹی کی حکمت عملی ترتیب دی گئی۔ ’’وہ (راہول) جنوبی ریاست میں پارٹی کی کارکردگی سے کافی مطمئن ہیں۔ ہماری حکومت کو مخالف حکمرانی احساسات کا سامنا نہیں ہے۔ ہم آنے والے چناؤ جیت جائیں گے۔‘‘

TOPPOPULARRECENT