Thursday , April 26 2018
Home / شہر کی خبریں / کرناٹک اسمبلی انتخابات میں کانگریس کے مستحکم موقف کو کمزور کرنے بی جے پی کوشاں

کرناٹک اسمبلی انتخابات میں کانگریس کے مستحکم موقف کو کمزور کرنے بی جے پی کوشاں

مقامی اور نئی سیاسی جماعتوں سے مدد کا حصول، مسلم ووٹوں کی تقسیم پر لائحہ عمل

حیدرآباد۔4فروری(سیاست نیوز) کرناٹک میں ہونے جا رہے ریاستی اسمبلی انتخابات میں کانگریس کے مستحکم موقف کو کمزور کرنے کیلئے بھارتیہ جنتا پارٹی کی کوششیں تیز ہوچکی ہیں اور کہا جا رہاہے کہ نہ صرف حیدرآباد سے تعلق رکھنے والی جماعت کی مدد حاصل کی جائے گی بلکہ کرناٹک میں بھی نئی سیاسی جماعتوں کے ذریعہ مسلم ووٹوں کی تقسیم کا لائحہ عمل تیار کیا گیا ہے جو کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی کامیابی کو یقینی بنانے میں مدد کریں گی۔ کرناٹک اسمبلی انتخابات کے ذریعہ بھارتیہ جنتا پارٹی جنوبی ہند میں استحکام حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے لیکن اس کے اس خواب کو پورا ہونے سے روکنے کیلئے تمام سیکولر قوتیں متحدہ طور پر بی جے پی کو شکست سے دوچارکرنے میں مصروف ہیں لیکن اس کے برعکس بعض مفادات حاصلہ کی مدد سے بھارتیہ جنتا پارٹی نے مسلم ووٹوں کی تقسیم کے علاوہ اکثریتی ووٹوںکو متحد کرنے کی جو حکمت عملی تیار کی ہے اسے دیکھتے ہوئے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کرناٹک اسمبلی انتخابات میں کامیابی کے حصول کیلئے کسی بھی حد تک جانے کیلئے تیار ہے۔ کرناٹک میں مقامی جماعت کے قائدین نے اپنے امیدوار میدان میں اتارنے کا اعلان کیا ہے لیکن عوامی ناراضگی کو دیکھتے ہوئے ابھی اس سلسلہ میں کوئی پیشرفت نہیں کی جارہی ہے ۔ پارٹی قائدین کا احساس ہے کہ ریاست کرناٹک کے انتخابات میں پارٹی کے امیدوار میدان میں اتارے جاتے ہیں تو ایسی صورت میں پارٹی کو شہر میں عوام کی شدید برہمی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے کیونکہ عوام میں اس بات کا شعور پیدا ہونے لگا ہے کہ مقامی جماعت کے قائدین کانگریس کی شکست کے لئے ملک کی مختلف ریاستو ںمیں اپنے امیدوار میدان میں اتارنے لگی ہے اور اس کا بالواسطہ فائدہ بھارتیہ جنتا پارٹی کو حاصل ہو رہا ہے۔ ریاست کرناٹک کے سابقہ ریاست دکن کے اضلاع میں جماعت اپنے امیدوار میدان میں اتارنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے اور بھارتیہ جنتا پارٹی دیگر علاقوں سے نئی سیاسی جماعتوں کو اپنے امیدوار میدان میں اتارنے کیلئے مدد کر رہی ہے ۔ کرناٹک میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی کامیابی کے متعلق سیاسی ماہرین کا کہناہے کہ کانگریس اور بھارتیہ جنتا پارٹی دونوں ہی سیاسی جماعتوں کا مستقبل کرناٹک اسمبلی انتخابات کے نتائج طئے کریں گے کیونکہ کرناٹک اسمبلی انتخابات کے فوری بعد عام انتخابات کے امکانات کو مسترد نہیں کیا جا رہا ہے بلکہ ملک کی بیشتر سیاسی جماعتیں ہندستان میں قبل از وقت انتخابات کی پیش قیاسی کرنے لگی ہیں ۔ عام انتخابات میں بھی بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے ملک میں اکثریتی طبقہ کے ووٹوں کو متحد کرنے کی حکمت عملی تیار کئے جانے کا امکان ہے کیونکہ کرناٹک ریاستی اسمبلی کے انتخابات کے دوران بی جے پی نے کامیابی کے حصول کے لئے نہ صرف فرقہ وارانہ منافرت کا سہارا لینا شروع کردیا ہے بلکہ ان حالات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مندر۔مسجد‘ دیوالی ۔رمضان اور دعاء ۔پرارتھنا کی سیاست شروع کر دی گئی ہے۔ کرناٹک میں کامیابی کا حصول بی جے پی کا اصل نشانہ نہیں ہے بلکہ بھارتیہ جنتا پارٹی کرناٹک اسمبلی انتخابات کے ذریعہ ملک میں عام انتخابات کی ماحول سازی کرنے لگی ہے اور کہا جا رہا ہے کہ اس کیلئے مقامی جماعت کی مدد حاصل کرنے کے علاوہ نئی سیاسی جماعتوں کی پیداوار کے ذریعہ کرناٹک میں پرامن حالات کو مکدر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ جنوبی ہند کی ریاست کرناٹک میں بھارتیہ جنتا پارٹی کو کامیابی حاصل ہونے کی صورت میں ریاست تلنگانہ میں بھی بی جے پی کو استحکام حاصل ہوسکتا ہے اور اس استحکام کا راست نقصان تلنگانہ میں تلنگانہ راشٹرسمیتی کو ہوگا جبکہ کرناٹک میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے اختیار کردہ حکمت عملی کے متعلق کانگریس قائدین کا کہناہے کہ بی جے پی مسلم ووٹ کی تقسیم کے لئے کوشاں ہے اور مسلم ووٹ کی تقسیم کے ذریعہ کامیابی حاصل کرنا چاہتی ہے۔کرناٹک میں قائم کی گئی نئی سیاسی جماعت جو کہ مسلم خواتین کے حقوق کے نام پر قائم کی گئی ہے نے بھی ریاستی اسمبلی انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا ہے اور اگر مقامی جماعت کے علاوہ اس نئی سیاسی جماعت کی جانب سے ریاستی 60تا70اسمبلی نشستو ںپر مقابلہ کیا جاتا ہے تو ایسی صورت میں ریاستی اسمبلی کے انتخابی نتائج بھارتیہ جنتا پارٹی کے حق میں جا سکتے ہیں۔ کانگریس کرناٹک میں بھی گجرات انتخابات جیسی حکمت عملی اختیار کئے ہوئے ہے اور شہری علاقوں سے زیادہ توجہ دیہی حلقہ جات اسمبلی اور محفوظ نشستوںپر دی جا رہی ہے ۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے مخالف دلت پالیسیوں کو اجاگر کرتے ہوئے کانگریس دلت۔مسلم اتحاد کو فروغ دینے کی کوشش کر رہی ہے اوربی جے پی ملک میں نفرت کے ذریعہ مسلم ووٹوں کو منقسم کرنے کوشاں ہے۔بھارتیہ جنتا پارٹی کے لئے آر ایس ایس ‘ وشوا ہندو پریشد‘ بجرنگ دل اور دیگر ہندو انتہاء پسند تنظیموں کی جانب سے عملی اعتبار سے انتخابی مہم کا آغاز کردیا گیا ہے اور کرناٹک میں عوام کے درمیان پہنچ کران تنظیموں کے کارکن ماحول سازی کرنے لگے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT