Wednesday , December 12 2018

کرناٹک اسمبلی انتخابات کے لیے کانگریس کی حکمت عملی سے بی جے پی قیادت میں بحران

مفادات کے لیے مسلم ووٹوں کی تقسیم کے لیے فرقہ وارانہ منافرت کا فروغ ممکن
حیدرآباد۔22 ۔ جنوری (سیاست نیوز) کرناٹک میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی کامیابی ووٹوں کی تقسیم کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کو کرناٹک میں اقتدار حاصل ہونے کے آثار موہوم نظر آنے لگے ہیں کیونکہ ریاستی چیف منسٹر مسٹر سدا رامیا گزشتہ کئی ماہ سے عوام کے درمیان پہنچتے ہوئے بالواسطہ طور پر انتخابی مہم چلا رہے ہیں۔ کرناٹک اسمبلی انتخابات کے سلسلہ میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی کامیابی کیلئے زعفرانی تنظیمیں بھی اس بات کا جائزہ لینے میں مصروف ہیں کہ دلتوں کے ووٹ کس طرح بی جے پی کو حاصل ہوسکتے ہیں یا پھر دلتوں کے خلاف ہونے والے مظالم کے سبب دلت ووٹ بی جے پی سے ناراضگی کا اظہار کریں گے ۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ کانگریس کی انتخابی حکمت عملی نے بی جے پی قیادت میں بحران پیدا کردیا ہے جبکہ کانگریس کیلئے بھی کرناٹک اسمبلی انتخابات میں کامیابی کا حصول اتنا آسان نہیں ہے ، جتنا تصور کیا جارہا ہے ۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے سیکولر ، دلت اور مسلم ووٹوں کی تقسیم کی حکمت عملی تیار کی جارہی ہے جبکہ زعفرانی جماعت کی محاذی تنظیمیں دلت رائے دہندوں کو متحد کرنے کی کوشش میں مصروف ہے۔ کانگریس ، بی جے پی دور اقتدار کے دوران ہوئی بدعنوانیوں اور کانکنی مافیا کی سرگرمیوں کی تحقیقات کا فیصلہ کرتے ہوئے ریاست کرناٹک کے رائے دہندوں کو اپنا ہمنوا بنانے کی کوشش شروع کردی ہے جبکہ بی جے پی اس کے برعکس سیکولر ووٹوں کو منقسم کرنے کیلئے حکمت عملی کی تیاری میں مصروف ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ کانگریس کے خلاف بھارتیہ جنتا پارٹی بظاہر تنہا مقابلہ کرے گی لیکن اپنے مفادات کیلئے مسلم ووٹوں کی تقسیم کو یقینی بنایا جائے گا اور اس مقصد کیلئے فرقہ پرست قوتوںکو استعمال کرتے ہوئے انتخابات سے قبل ریاست کرناٹک میں فرقہ وارانہ منافرت کو فروغ دیا جائے گا۔ بی جے پی کے چیف منسٹر امیدوار و سابق چیف منسٹر مسٹر بی ایس یدی یورپا نے کرناٹک میں غالب آبادی ’’لنگایت‘‘ کو متاثر کرنے کی کوششیں شروع کردی ہیں اور برسر عام و ذات کے نام پر لنگایت طبقہ کو متحد کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کیونکہ ان کا تعلق بھی اسی طبقہ سے ہے۔ کرناٹک میں ہونے والے مجوزہ اسمبلی انتخابات سے قبل ہی ریاست میں فرقہ وارانہ کشیدگی کو ہوا دینے کی کوشش کی جارہی ہے تاکہ سیکولر ، مسلم اور دلت رائے دہندوں کے ووٹ کو کانگریس اور جے ڈی ایس کے درمیان تقسیم کروایا جاسکے۔ کرناٹک میں اقتدار حاصل کرتے ہوئے بھارتیہ جنتا پارٹی جنوبی ہند میں قدم رکھنے کی کوشش کر رہی ہے جبکہ کانگریس کے سرکردہ ریاستی قائدین کا کہنا ہے کہ اگر انتخابات سے قبل بی جے پی کو فرقہ وارانہ منافرت پیدا کرنے کی کوشش میں ناکامی حاصل ہوتی ہے تو ایسی صورت میں کانگریس کو ہی فائدہ ہوگا اور اگر بی جے پی فرقہ وارانہ خطوط پر عوام کو منقسم کرتے ہوئے رائے دہی کروانے کا ارادہ رکھتی ہے ، تب بھی کانگریس ان کا مقابلہ کرنے تیار ہے جبکہ بی جے پی قائدین کا کہنا ہے کہ ریاست میں سابق چیف منسٹر بی ایس یدی یورپا کی شبیہہ پاک و صاف ہے جس کے سبب کانگریس خوفزدہ ہے۔ بی جے پی قائدین ملک کی مختلف ریاستوں میں بھارتیہ جنتا پارٹی کو ہونے والی کامیابی کا تذکرہ کرتے ہوئے یہ کہہ رہے ہیں کہ ملک کی ریاستوں اور مرکز میں تال میل بہتر ہونے کا فائدہ ہندوستان کو ہی حاصل ہوگا۔ اسمبلی انتخابات کے دوران کانگریس اور بھارتیہ جنتا پارٹی 224 نشست والی کرناٹک اسمبلی میں سے نصف سے زائد نشستیں حاصل کرنے کی حکمت عملی تیار کی ہے۔

TOPPOPULARRECENT