Wednesday , October 17 2018
Home / شہر کی خبریں / کرناٹک الیکشن، آخری دن 50 قومی قائدین کی 52 ریالیاں

کرناٹک الیکشن، آخری دن 50 قومی قائدین کی 52 ریالیاں

150 اسمبلی حلقوں کا احاطہ، نریندر مودی نے ’نمو‘ ایپ سے مہم چلائی، شخصی تنقیدوں کو عوام نے پسند نہیں کیا
حیدرآباد۔10 مئی (سیاست نیوز) کرناٹک اسمبلی انتخابات کی مہم کے آخری دن بی جے پی نے 50 اہم قائدین کے ساتھ 150 اسمبلی حلقوں میں 52 ریالیوں اور روڈ شو کے ذریعہ ساری طاقت کو جھونک دیا۔ بی جے پی کسی بھی صورت کرناٹک میں دوبارہ اقتدار حاصل کرنا چاہتی ہے اور وزیراعظم سے لے کر مختلف ریاستوں کے چیف منسٹرس، مرکزی وزراء، سابق چیف منسٹرس اور پارٹی کے قومی و ریاستی قائدین کو کرناٹک کی مہم میں شامل کردیا گیا تھا۔ قومی صدر امیت شاہ کی قیادت میں مہم کے آخری دن انتخابی ریالیوں اور روڈ شو کے پروگراموں کو قطعیت دی گئی تھی۔ مہم کی خاص بات یہ رہی کہ وزیراعظم نریندر مودی نے مسلسل 6 دن تک کرناٹک میں قیام کرتے ہوئے ریالیوں سے خطاب کیا جبکہ امیت شاہ نے ریالیاں کم کیں لیکن انتخابی حکمت عملی کی تیاری اور خاص طور پر مرکزی وزراء اور چیف منسٹرس کو مختلف علاقوں میں مصروف کرتے رہے۔ بتایا جاتا ہے کہ مختلف قومی چینلس کے سروے کی بنیاد پر بی جے پی نے ’’کرو یا مرو‘‘ کی طرح کرناٹک کو وقار کا مسئلہ بنالیا۔ کانگریس کی جانب سے راہول گاندھی اور چیف منسٹر سدارامیا نے بی جے پی کا مقابلہ کیا۔ یو پی اے کی صدرنشین سونیا گاندھی اور سابق وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ نے ایک ایک دن کرناٹک کا دورہ کرتے ہوئے کانگریس کے حق میں مہم چلائی۔ انتخابی مہم کے آخری ایام میں علاقائی اور قومی نیوز چینلس کے متضاد انتخابی سروے نے بی جے پی کو الجھن میں مبتلا کردیا۔ قومی نیوز چینلس کی اکثریت نے معلق اسمبلی کی پیش قیاسی کی۔ جبکہ کرناٹک کے علاقائی چینلس اور اخبارات نے کانگریس پارٹی کے حق میں عوامی رجحان کا اشارہ دیا۔ 2019ء کے لیے کرناٹک کے نتائج مرکز کی نریندر مودی حکومت پر اثرانداز ہوسکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نریندر مودی نے انتخابی مہم کے دوران کانگریس اور اس کے قائدین کو نشانہ بنانے کا کوئی بھی حربہ نہیں چھوڑا۔ وزیراعظم نے سونیا گاندھی کی شہریت، راہول گاندھی کے وزیراعظم کے عہدے کی امیدواری سے متعلق بیان، راہول گاندھی کی تقریری صلاحیت اور گاندھی خاندان کی مبینہ کوتاہیوں جیسے شخصی معاملات کو انتخابی مہم میں اچھال دیا۔ سیاسی مبصرین نے وزیراعظم کے عہدے کے لیے اس طرح کے بیانات کو نامناسب قرار دیا لیکن اقتدار کے لیے وزیراعظم نے آخری لمحات تک بھی کانگریس کو نشانہ بنانا ترک نہیں کیا۔ انتخابی مہم کے آخری دن وزیراعظم نے ’نمو‘ ایپ کے ذریعہ پارٹی کے ایس سی، ایس ٹی اور او بی سی قائدین سے خطاب کرتے ہوئے دلتوں کی تائید حاصل کرنے کا مشورہ دیا۔ انتخابی مہم میں وزیراعظم کے تیور جارحانہ تھے لیکن کرناٹک کے عوام نے مقامی مسائل کے بجائے صرف تنقیدوں کو پسند نہیں کیا۔ بی جے پی سے قربت رکھنے والے قومی چینل کے ایک پروگرام میں کرناٹک کے رائے دہندوں کی وزیراعظم کے بارے میں رائے پیش کی گئی۔ بیشتر تعلیمیافتہ نوجوانوں کا احساس تھا کہ وزیراعظم کرناٹک کے مسائل سے واقف نہیں ہیں اور مرکز میں حکومت کے 4 سالہ تجربہ کی روشنی میں انہیں یقین نہیں کہ مودی کرناٹک سے کیے جارہے وعدوں کی تکمیل کرپائیں گے۔ انتخابی مہم میں کانگریس کی کرناٹک حکومت اور چیف منسٹر سدارامیا پر کرپشن کے الزامات عائد کیے گئے۔ وزیراعظم نے یہاں تک کہا کہ سدارامیا وزارت میں ایک بھی وزیر ایسا نہیں جس پر کرپشن کے الزامات نہ ہو۔ دلچسپ بات یہ تھی کہ بی جے پی نے جس شخصیت کو چیف منسٹر کے عہدے کا امیدوار بنایا ہے، وہ خود کرپشن کے معاملہ میں جیل جاچکے ہیں۔ یدی یورپا کو چیف منسٹر کے عہدے کا امیدوار بنانا بی جے پی کی مجبوری بھی تھی کیوں کہ کرناٹک میں کوئی ایسا چہرا نہیں تھا جسے عوام کے روبرو چیف منسٹر کے طور پر پیش کیا جاسکے۔ مرکزی وزیر اننت کمار اس امیدواری میں دعویدار ضرور تھے لیکن انہیں مایوس کیا گیا۔ انتخابی مہم کے اختتام کے بعد کرناٹک کے حالات پر نظر رکھے ہوئے مبصرین کا کہنا ہے کہ بی جے پی اور کانگریس کے درمیان رائے دہندوں کو کسی ایک کا انتخاب کرنا آسان نہیں ہے۔ ریاست کے تقریباً 30 فیصد رائے دہندے ایسے ہیں جنہوں نے ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔ آئندہ 48 گھنٹے سیاسی پارٹیوں اور ان کے امیدواروں کے لیے کٹھن امتحان کی گھڑی ہیں۔ انتخابی مہم کو مذہبی رنگ دینے کے لیے اترپردیش کے چیف منسٹر یوگی ادتیہ ناتھ کو میدان میں اتارا گیا جنہوں نے 30 سے زائد ریالیوں سے خطاب کیا۔ اترپردیش میں دلتوں پر حملوں کے واقعات اور گردوغبار کے طوفان سے ہوئی تباہی کے سبب انہیں لکھنو واپس لوٹنا پڑا لیکن وہ جلد ہی دوبارہ کرناٹک واپس ہوگئے۔ مرکزی وزراء نرملا سیتارامن، اننت کمار، پرکاش جائوڈیکر، پیوش گوئل، سدانند گوڑا، انوراگ ٹھاکر، کرشناپال گجر، سنتوش گنگوار، سمرتی ایرانی کے علاوہ چیف منسٹر رمن سنگھ اور شیوراج سنگھ چوہان نے انتخابی مہم میں حصہ لیا۔ مہم کے آخری دن کانگریس کے صدر راہول گاندھی نے پریس کانفرنس کی جبکہ امیت شاہ اور یدی یورپا نے چیف منسٹر سدا رامیا کے انتخابی حلقہ بادامی میں روڈ شو کیا۔

TOPPOPULARRECENT